کشمیر میں دہشت گردی کا حل راتوں رات نا ممکن ، دشمنوں کو منہ توڑ جواب کیلئے وافر ہتھیار: فوجی سربراہ

Nov 10, 2017 02:28 PM IST | Updated on: Nov 10, 2017 02:29 PM IST

وارانسی: بری فوج کے سربراہ بپن راوت نے کہا کہ ملک کے دشمنوں کو منہ توڑ جواب دینے کے لئے ہندوستان کے پاس کافی ہتھیار ہیں، جو مسلسل ’اپ گریڈ‘ کیا جا رہے ہیں۔ -گورکھا رائفلز‘ کے 200 ویں یوم تاسیس کی تقریب میں یہاں شرکت کرنے آئے جنرل راوت نے آج یہاں نامہ نگاروں کے ایک سوال کے جواب میں کہا-’’ملک کے دشمنوں کو منہ توڑ جواب دینے کے لئے ہندوستانی فوج کے پاس ہتھیاروں کی کمی نہیں ہے. جدید ہتھیاروں کو مزید ’اپ گریڈ ‘کیا جا رہا ہے‘‘۔

بری فوج کے سربراہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے مسئلہ کا حل راتوں رات نہیں ہو سکتا۔ وہاں سبھی سیکورٹی فورسز بہتر تال میل کے ساتھ اپنے اپنے کام کر رہے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہاں شرارتی عناصر کی طرف سے اسپانسرڈ ’پتھر بازی‘کے واقعات میں کمی آئی ہے۔ ریاست کے حالات کو معمول پررکھنے کی تمام کوششیں کی جا رہی ہیں۔اس سے پہلے جنرل راوت نے قدیم شری کاشی وشوناتھ مندر میں درشن و پوجا کیا۔ کل انہوں نے دشاشومیدھ گھاٹ پر عالمی شہرت یافتہ شام کی گنگا آرتی میں شامل ہوئے تھے۔

کشمیر میں دہشت گردی کا حل راتوں رات نا ممکن ، دشمنوں کو منہ توڑ جواب کیلئے وافر ہتھیار: فوجی سربراہ

انہوں نے کہا کہ 9 گورکھا رائفلز (39 جی ٹی سی) نے اپنے قیام کے 200 سال مکمل کرکے تاریخ رقم کی ہے۔ ہندوستانی فوج کی تاریخ میں اسے سنہری حرفوںمیں لکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا -’’200 ویں یوم تاسیس میں شامل ہونے پر مجھے فخر ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ ’9 -گورکھا رائفلز‘ کو 1817 میں بنارس (وارانسی) میں تشکیل کیا گیا، جس نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے دوران برٹش انڈین آرمی اور آزادی کے بعد ہندوستانی فوج کے ایک اہم حصہ کے طور پر بہت سی جنگوں میں اپنی بہادری کی مثال قائم کی تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز