جنوبی کشمیر میں دو مسلح جھڑپوں میں ایک میجر سمیت 2 فوجی اور 2 جنگجو ہلاک

Aug 03, 2017 10:18 AM IST | Updated on: Aug 03, 2017 11:44 AM IST

سری نگر۔ جنوبی کشمیر کے شوپیان اور کولگام اضلاع میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان دو مختلف مسلح جھڑپوں میں ایک افسر سمیت 2 فوجی اہلکار اور 2 جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ زخمی ہونے والے ایک دیگر فوجی اہلکار کا سری نگر کے فوجی اسپتال میں علاج چل رہا ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ فوج کی 62 راشٹریہ رائفلز کی ایک گشتی پارٹی بدھ اور جمعرات کی رات قریب ڈھائی بجے ضلع شوپیان کے زیپورہ ماتری بگ میں جنگجوؤں کی جانب سے کی جانے والی شدید فائرنگ کی زد میں آگئی جس کے نتیجے میں تین فوجی اہلکار زخمی ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ زخمی فوجی اہلکاروں کو ائرلفٹ کرکے گرمائی دارالحکومت سری نگر میں واقع فوجی اسپتال (92 بیس اسپتال) منتقل کیا گیا جہاں میجر کملیش پانڈے اور فوجی اہلکار تنظین زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ ذرائع نے بتایا ’جنگجو حملہ انجام دینے کے بعد وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ۔ لیکن سیکورٹی فورسز نے پورے علاقے کو محاصرے میں لیکر حملہ آور جنگجوؤں کی تلاش شروع کردی ہے‘۔

دوسری جانب جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں ہونے والے ایک شبانہ مختصر مسلح تصادم میں سیکورٹی فورسز نے دو جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے۔ وزارت دفاع کے ترجمان کرنل راجیش کالیا نے یو این آئی کو بتایا کہ ضلع کولگام کے گورپال پورہ میں جنگجوؤں کی موجودگی سے مصدقہ اطلاع ملنے پر سیکورٹی فورسز نے بدھ کو رات دیر گئے مذکورہ علاقہ میں تلاشی آپریشن شروع کیا۔ انہوں نے بتایا ’جب علاقہ میں چھپے دو مسلح جنگجوؤں کے گروپ کو خودسپردگی کرنے کے لئے کہا گیا تو انہوں نے ایسا کرنے کے بجائے فورسز پر فائرنگ کی۔ جوابی کاروائی میں دونوں جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا‘۔ کرنل کالیا نے بتایا ’مسلح تصادم کے مقام سے جنگجوؤں کے دو ہتھیار برآمد کئے گئے ہیں۔ مارے گئے جنگجوؤں کی شناخت کا عمل جاری ہے‘۔

جنوبی کشمیر میں دو مسلح جھڑپوں میں ایک میجر سمیت 2 فوجی اور 2 جنگجو ہلاک

علامتی تصویر

ایس پی کولگام شری دھر پٹیل نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ طرفین کے مابین گولہ باری کا سلسلہ صرف آدھے گھنٹے تک جاری رہا۔ انہوں نے کہا ’مارے گئے جنگجوؤں کا تعلق حزب المجاہدین سے ہے۔ وہ مختلف جنگجویانہ واقعات میں ملوث تھے‘۔ جموں وکشمیر پولیس کا کہنا ہے کہ مہلوک جنگجوؤں میں سے ایک جنوبی کشمیر میں گذشتہ مہینے بینک وین حملے میں پانچ پولیس اہلکاروں کی ہلاکت میں ملوث تھا۔ پولیس نے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں کہا ’جموں وکشمیر پولیس اور سیکورٹی فورسز نے گوپال پورہ کولگام میں دو جنگجوؤں کو ہلاک کیا۔ ان میں سے ایک جنگجو پانچ پولیس اہلکاروں اور بینک وین کے محافظوں کی ہلاکت میں ملوث تھا‘۔ ریاستی پولیس سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید نے جنگجوؤں کی ہلاکت پر پولیس اور سیکورٹی فورس اہلکاروں کو شاباشی دیتے ہوئے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے ’گوپال پورہ کولگام میں گذشتہ ایک مشترکہ آپریشن میں دو دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ بہت خوب جوانوں!‘۔

جنوبی کشمیر میں یہ مسلح تصادم لشکر طیبہ کے ڈویژنل کمانڈر یا کشمیر چیف ابو دوجانہ سمیت 2 جنگجوؤں کی ہلاکت کے دو روز بعد پیش آئے ہیں۔ شمالی پاکستان کے گلگت بلتستان کا رہنے والا ابودوجانہ عرف حفیظ گذشتہ کئی برسوں سے جنوبی کشمیر میں سرگرم تھا اور متعدد مرتبہ سیکورٹی فورسز کو چکمہ دیکر فرار ہونے میں کامیاب رہا۔ وادی میں سیکورٹی فورسز پر گذشتہ چند برسوں کے دوران ہونے والے کئی ایک بڑے حملوں میں ابو دوجانہ کا کلیدری کردار رہا ہے۔ سیکورٹی ایجنسیوں نے ابو دوجانہ کے سر پر 15 لاکھ روپے کا انعام مقرر کیا تھا۔ پاکستان کے شمالی علاقہ گلگت بلتستان کے رہنے والے ابودوجانہ نے انٹیلی جنس بیورو ڈوزیئر کے مطابق 17 سال کی عمر میں جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی۔ وادی میں دراندازی کے بعد وہ زیادہ تر وقت جنوبی ضلع پلوامہ میں ہی سرگرم رہا۔ اگرچہ وادی میں ابو دوجانہ کو لشکر طیبہ کمانڈر عبدالرحمان عرف ابو قاسم کا نائب قرار دیا گیا تھا، تاہم سال 2005 میں ابو قاسم کی ایک مسلح تصادم میں موت ہوجانے کے بعد ابودوجانہ وادی میں لشکر طیبہ کے کمانڈر بنائے گئے تھے۔ انہیں سیکورٹی اداروں نے جنگجوؤں سے متعلق اے پلس پلس زمرے میں رکھا تھا۔ جموں وکشمیر پولیس نے 27 سالہ ابو دوجانہ کی ہلاکت کو پولیس اور سیکورٹی فورسز کے لئے ایک بہت بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز