جموں کشمیر میں پتھر بازوں سے نمٹنے کیلئے اب خواتین ریزرو بٹالین کا قیام

Apr 27, 2017 10:12 PM IST | Updated on: Apr 27, 2017 10:12 PM IST

نئی دہلی: جموں و کشمیر میں پریشانی کا سبب بننے والے سنگ باری کے واقعات میں خواتین کی بڑھتی ہوئی موجودگی کے پیش نظر مرکزی حکومت ایک خواتین ریزرو بٹالین قائم کرنے جا رہی ہے۔ وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق یہ خواتین ریزرو بٹالین خاص طور پر سیکورٹی فورسز پر پتھر بازی کے بڑھتے واقعات سے نمٹنے کے لئے بنائی جا رہی ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی صدارت میں آج یہاں ہونے والی ایک اعلی سطحی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں جموں و کشمیر میں ترقیاتی منصوبوں کے نفاذ پر تفصیل سے بحث کے ساتھ ساتھ فوج کے کیمپ پر دہشت گردانہ حملے اور سنگ باری کے واقعات سے پیدا صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ یہ بٹالین شورش زدہ ریاست جموں کشمیر کے لئے پہلے سے معلنہ پانچ ریزرو بٹالینوں میں سے ایک ہوگی۔

جموں کشمیر میں پتھر بازوں سے نمٹنے کیلئے اب خواتین ریزرو بٹالین کا قیام

مرکز ان بٹالینوں کے قیام کا دوہرا مقصد ہے جس سے ایک تو وہ مقامی لوگوں کو روزگار دینا چاہتا ہے دوسرے قانون بنائے رکھنے میں ریاستی حکومت کی مدد بھی کرنا چاہتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان بٹالینوں کے لئے کی جانے والی بھرتی کے لئے ریاست کے نوجوان لڑکے لڑکیاں پہلےسے ہی بڑی تعداد میں جوش دکھا رہی ہیں۔ لہذا خواتین بٹالین کی تشکیل میں کسی طرح کی دقت نہیں آئے گی۔ ایک بٹالین میں 1000 نوجوان ہوتے ہیں اس طرح سے ریاست کو پانچ ہزار جوان سیکورٹی کے نظام برقرار رکھنے کے لئے مل جائیں گے اور لوگوں کو روزگار بھی ملے گا جس سے بھٹکے ہوئے نوجوان غلط ہاتھوں میں پڑنے سے بچ جائیں گے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے جموں و کشمیر میں دو سال پہلے آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد 2015 میں ریاست کے لئے 80 ہزار کروڑ روپے کے پیکیج کا اعلان کیا تھا۔ اجلاس میں گزشتہ دو برسوں سے جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کے نفاذ کے بارے میں تفصیل سے بحث کی گئی اور ان کی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ مرکز کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ ترقیاتی منصوبوں کے لئے اعلان پیکیج میں سے تقریبا 25 فیصد رقم جاری کی جا چکی ہے۔ جموں و کشمیر میں نو اپریل کو سرینگر پارلیمانی ضمنی انتخابات میں تشدد کے واقعات میں آٹھ افراد کی موت کے بعد سے وادی کے خراب حالات كے سلسلے میں وزیر اعلی محبوبہ مفتی کی وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے 24 اپریل کو ہوئی ملاقات کے بعد ہونے والی یہ میٹنگ اہم مانی جا رہی ہے۔

محترمہ مفتی نے دونوں رہنماؤں سے بات چیت میں وادی میں حالات کو بہتر بنانے کے لئے تمام نظریات کے لوگوں سے بات چیت ضروری بتائی تھی۔ انہوں نے تاہم اس کے لئے پہلے دوستانہ ماحول بنانے کی بھی بات کہی تھی۔ وزیر اعلی نے دریائے سندھ پانی معاہدے سے ریاست کو ہو نے والے نقصان کی تلافی کرنے کی بھی مانگ کی تھی۔ انہوں نے پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان اتحاد کے لئے بنایا ایجنڈا فار الائنس کے نفاذ پر بھی بات چیت کی تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز