ٹوجی پر عدالت کا فیصلہ کانگریس کے لئے ’ایمانداری کا تمغہ‘ نہیں: حکومت

Dec 21, 2017 02:18 PM IST | Updated on: Dec 21, 2017 02:18 PM IST

نئی دہلی۔ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی )کی پٹیالہ ہاؤس واقع ایک خصوصی عدالت کے ذریعہ 2جی گھوٹالہ معاملے سبھی ملزمین کو آج بری کئے جانے پر حکومت نے کہا ہے کہ اس سے کانگریس کو ’ایمانداری کا تمغہ‘نہیں مل جاتا۔ وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے یہاں پارلیمنٹ کے احاطے میں اس فیصلے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے نامہ نگاروں سے کہا’’عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد سے ہی کانگریس لیڈر ایسا ظاہر کررہےہیں جیسے انہیں ایمانداری کا تمغہ مل گیا ہو اور عدالت نے ان کی پالیسی کو ایماندار پالیسی کا سرٹیفکیٹ دے دیا ہو۔‘‘انہوں نے مالی سال 08-2007میں کئے گئے 2جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ سے لےکر 2016تک کے اسپیکٹرم الاٹمنٹ کے اعدادو شمار پیش کرتے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کی کہ اس سے سرکاری خزانے کو کتنا نقصان ہوا ہے۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ مانتے ہیں کہ کوئی گھوٹالہ ہوا ہے ،مسٹر جیٹلی نے کہا کہ انہوں نے سارے اعدادو شمار اور حقائق میڈیا کے سامنے رکھ دئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جانچ اور استغاثہ ایجنسی عدالت کے فیصلے کا اچھی طرح مطالعہ کرنے کے بعد آگے کی حکمت عملی طے کرے گی۔

مسٹر جیٹلی نے اعدادو شمار دیتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے تو کانگریس کی قیادت والی سابقہ متحدہ ترقی پسند اتحاد(یو پی اے)حکومت نے 08-2007میں 1،734کروڑ روپے کی درست قیمت پر اسپیکٹرم کا الاٹمنٹ کیا۔ یہ وہ قیمت ہے جو سال 2001 میں طے کی گئی تھی۔اس طرح پرانی قیمت پر الاٹمنٹ کرنے سے سرکاری خزانے کو نقصان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے الاٹمنٹ ’’پہلے آؤ پہلے پاؤ‘کی بنیاد پر کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ بیچ میں ہی اسے بدل کر ’پہلے ادائیگی کرو، پہلے پاؤ‘کردیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس وقت کی حکومت نے بیچ میں ہی درخواست دینے کی مدت کو کم کردیا۔ اس سے ’کچھ منتخبہ ‘ صنعت کاروں کو فائدہ ہوا۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ فروری 2012 میں پورے الاٹمنٹ کو رد کردینے کے سپریم کورٹ کے فیصلے سے بدعنوانی کی بات ثابت ہوچکی ہے۔ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ یہ پالیسی غیر مناسب تھی اور اس میں جان بوجھ کر حکومت کو محصولات میں نقصان پہنچایا گیا۔

ٹوجی پر عدالت کا فیصلہ کانگریس کے لئے ’ایمانداری کا تمغہ‘ نہیں: حکومت

ارون جیٹلی: فائل فوٹو

وزیرخزانہ نے کہا کہ نقصان کی بات اس حقائق سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ سال 2015 میں اسپیکٹرم الاٹمنٹ سے حکومت کو ایک لاکھ 10ہزار کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی تھی جو 2016 میں گھٹ کر 65ہزار کروڑ روپے پر آگئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ عدالت نے سب کو بری کردیا ہے تو اس پورے گھوٹالے کےلئے کون ذمہ دار ہے ؟۔

مسٹر جیٹلی نے کہاکہ سپریم کورٹ کے حکم پر مجرمانہ معاملہ درج کیا گیا تھا۔جانچ ایجنسیاں اور استغاثہ ایجنسیاں عدالت کے حکم کا پوری طرح مطالعہ کرنےکے بعد یہ طے کریں گی کہ ان کا اگلا رخ کیا ہوگا۔ مسٹر جیٹلی نے دہرایا کہ اس میں ایسا کچھ نہیں ہے کہ جسے کانگریس ایماندرای کا سرٹیفکیٹ مان سکے۔ مسٹر جیٹلی جب نامہ نگاروں سے بات کررہے تھے تو ان کے ساتھ وزیر مواصلات منوج سنہا بھی موجود تھے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز