مرکزی نوٹیفکیشن صرف جانوروں کی خرید و فروخت تک محدود ، ذبیجہ سے کوئی لینا دینا نہیں : ارون جیٹلی

Jun 01, 2017 06:55 PM IST | Updated on: Jun 01, 2017 06:55 PM IST

نئی دہلی : مرکزی حکومت نے آج کہا کہ مویشیوں کے سلسلے میں اس کا تازہ ترین نوٹیفکیشن صرف ان کی فروخت تک محدود ہے اور اس کا ذبیجہ کے معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور یہ نوٹیفکیشن ریاستی حکومتوں کے حقوق میں کسی بھی طرح سے مداخلت نہیں ہے۔ وزیر خزانہ مسٹر ارون جیٹلی نے آج یہاں نامہ نگاروں سے کہا کہ ’ نوٹفیکیشن کا تعلق اس بات سے قطعی نہیں ہے کہ آپ کسی مویشی کو ذبح کرتے ہیں یا نہیں‘۔انہوں نے کہا کہ ریاستوں کے پاس اپنے قوانین کے علاوہ آئین کی دفعہ 48ہے جو مویشیوں کے تحفظ کے سلسلے میں انہیں ہدایت دیتی ہے۔

مذکورہ دفعہ میں کہا گیا ہے کہ ریاست (یا حکومت) زراعت او رمویشی پروری کو جدید اور سائنسی خطوط پر منظم کرے گی اور بالخصوص ان کی نسل کو محفوظ کرنے اور بہتر بنانے کی کوشش کرے گی اور گائے اور بچھڑا اور دودھ دینے والے اور باربردار کے جانوروں کے ذبیحہ پر روک لگائے ۔

مرکزی نوٹیفکیشن صرف جانوروں کی خرید و فروخت تک محدود ، ذبیجہ سے کوئی لینا دینا نہیں : ارون جیٹلی

ارون جیٹلی: فائل فوٹو

مسٹر جیٹلی نے مزید کہا کہ جہاں تک گائے کے ذبیجہ کا معاملہ ہے ریاستیں اپنا قانون بناسکتی ہے یا نہیں بناسکتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی وزارت ماحولیات کی طرف سے مرکزی حکومت کا نوٹیفکیشن ریاستوں کے اختیارات میں کسی طرح کی مداخلت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ 1950کی دہائی میں پنڈت جواہر لال نہرو کے دوران یکے بعد یگر ریاستوں نے ذبیحہ گاو کے سلسلے میں قوانین بنائے تھے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز