نیتی آیوگ کے ڈپٹی چئیرمین اروند پنگڑیا کا استعفیٰ، دیا تیس دن کا نوٹس

نئی دہلی۔ پلاننگ کمیشن کو ختم کر بنے سرکاری تھنک ٹینک نیتی آیوگ کے ڈپٹی چئیرمین اروند پنگڑھيا نے استعفی کی پیشکش کی ہے۔

Aug 01, 2017 04:39 PM IST | Updated on: Aug 01, 2017 04:45 PM IST

نئی دہلی۔ پلاننگ کمیشن کو ختم کر بنے سرکاری تھنک ٹینک نیتی آیوگ کے ڈپٹی چئیرمین اروند پنگڑیا نے استعفی کی پیشکش کی ہے۔ اس سے حکومت کے اکنامک ریفارم پروگرام کو دھچکا لگ سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق وہ ایک بار پھر کولمبیا یونیورسٹی واپس جا سکتے ہیں، جہاں سے انہیں بار بار آنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ ویسے ان کے استعفی کی ایک وجہ سنگھ اور حکومت کے اندر کے کچھ لوگوں کی مخالفت کو بھی بتائی جا رہی ہے۔ ان سب کے درمیان وزیر اعظم کے دفتر نے ان کے استعفی پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

ذرائع سے ملی معلومات کے مطابق نیتی آیوگ میں پنگڑیا کا لاسٹ ورکنگ ڈے 31 اگست ہو سکتا ہے۔ پنگڑیا کو اپنے مارکیٹ دوستانہ خیالات کے لئے زیادہ جانا جاتا ہے۔ لہذا آر ایس ایس نے ہمیشہ ان کی مخالفت کی۔ آر ایس ایس سے منسلک تنظیموں نے ہمیشہ فری مارکیٹ اکانومسٹ کہہ کر ان پر تنقید کی۔ سنگھ کا ماننا رہا ہے کہ چونکہ وہ مغربی سوچ والے اکانومسٹ ہیں، ایسے میں وہ ہندوستان کی معاشی صورت حال اور ضرورت کو نہیں سمجھ سکتے ہیں۔

نیتی آیوگ کے ڈپٹی چئیرمین اروند پنگڑیا کا استعفیٰ، دیا تیس دن کا نوٹس

مودی کے قریبی رہے ہیں پنگڑیا

پنگڑیا کو ہمیشہ وزیر اعظم مودی کا قریبی سمجھا جاتا رہا ہے۔ پنگڑیا نے بھی ہمیشہ کہا کہ مودی نے پی ایم او اور بیوروکریسی میں جان پھونکی ہے۔ پنگڑیا نے یہ بھی کہا کہ مودی کی وجہ سے حکومت کی مختلف وزارتوں میں تال میل اور تعاون بڑھا ہے، جس سے پالیسیوں اور نفاذ بہتر اور مؤثر ہوا ہے اور اکنامک ڈیولپمنٹ کو بھی فروغ ملا ہے۔ پنگڑیا نے اپنے اس فیصلے سے پی ایم او کو بھی آگاہ کرا دیا ہے۔ حالانکہ، وزیر اعظم نریندر مودی فی الحال آسام کے سیلاب زدہ علاقوں کے دورے پر ہیں۔ لہذا پنگڑیا کے استعفی پر آخری فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

مسٹر پنگڑیا نے بتایا کہ 31 اگست ان کا آخری کام کا دن ہوگا۔ اس کے بعد وہ تعلیم کے شعبے میں کام کریں گے۔ وہ پہلے بھی امریکہ کے کولمبیا یونیورسٹی میں پروفیسر کے طورپر کام کرچکے ہیں۔ ہند۔ امریکہ ماہر معاشیات کو جنوری 2015 میں نیتی آیوگ کا نائب چےئرمین مقرر کیا گیا تھا اس سے پہلے وہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے چیف اکنامسٹ رہ چکے ہیں۔ وہ ورلڈ بینک، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور ڈبلیو ٹی او سے بھی وابستہ رہے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز