صدر منتخب ہونے کے بعد كووند نے بچپن کی غربت کو کیا یاد، آئین کے تحفظ کا دیا بھروسہ

Jul 20, 2017 07:28 PM IST | Updated on: Jul 20, 2017 07:28 PM IST

نئی دہلی۔  ملک کے 14 ویں صدر کے طور پر منتخب ہونے کے بعد مسٹر رام ناتھ كووند نے آج کہا کہ وہ گاؤں میں پھوس کی جھونپڑی میں رہنے والے غریبوں کے نمائندے کے طور پر راشٹرپتی بھون جائیں گے اور 'سروے بھونت سكھن:' کے احساس کے ساتھ ملک کی خدمت کریں گے۔ مسٹر كووند نے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صدارتی انتخابات کے الیکشن افسر لوک سبھا سکریٹری انوپ مشرا کی جانب سے ان کے الیکشن کے نتائج کا اعلان کئے جانے کے بعد ان کی حمایت کرنے والی تمام سیاسی جماعتوں اور ان کے ہنماؤں، ارکان پارلیمنٹ، ممبران اسمبلی کا شکریہ ادا کیا اور اپوزیشن کی امیدوار محترمہ میرا کمار کو بھی نیک خواہشات پیش کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا، "جس عہدے کا وقار ڈاکٹر راجندر پرساد، سروپلی رادھا کرشنن، اے پی جے عبدالکلام اور پرنب مکھرجی نے بڑھایا ہے، اس عہدے پر منتخب ہونا میرے لئے بڑے فخر کی بات اور یہ بڑی ذمہ داری کا احساس بھی کرا رہا ہے۔ میرے لئے یہ جذباتی لمحہ ہے۔ " انہوں نے کہا، "آج دہلی میں صبح سے بارش ہو رہی ہے، یہ بارش کا موسم مجھے میرے بچپن کی یاد دلاتا ہے، جب میں اپنے آبائی گاؤں میں رہتا تھا گھر کچا تھا، مٹی کی دیواریں تھی، پھوس کی چھت تھی تب کافی تیز بارش ہوتی تھی، تو ہم سب بہن بھائی دیوار کے کنارے کھڑے ہوکر بارش کے رکنے کا انتظار کرتے تھے۔ آج ملک میں ایسے کتنے ہی رام ناتھ كووند ہوں گے، جو بھیگ رہے ہوں گے، کوئی کاشتکاری کر رہا ہوگا، شام کو کھانا کھانا ہے اس کے لئے انتظام کر رہا ہوگا۔ میں ان سب سے کہنا چاہتا ہوں کہ پروكھ گاؤں کا یہ رام ناتھ كووند ان کا نمائندہ بن کر جا رہا ہے۔ "

صدر منتخب ہونے کے بعد كووند نے بچپن کی غربت کو کیا یاد، آئین کے تحفظ کا دیا بھروسہ

نو منتخب صدر رام ناتھ كووند صدارتی انتخابات جیتنے کی سند حاصل کرنے کے بعد نئی دہلی میں میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے۔

بہار کے گورنر رہے مسٹر كووند نے کہا کہ انہیں جو یہ ذمہ داری دی گئی ہے وہ ملک کے ایسے ہراس شخص کے لئے پیغام ہے جو ایمانداری اور پوری دلجمعی کے ساتھ اپنا کام کرتا ہے۔ انہوں کہا "اس عہدے پر منتخب کیا جانا، نہ ہی میرا مقصد تھا ، نہ ہدف اور نہ ہی میں نے ایسا سوچا تھا۔ لیکن اپنے معاشرے اور ملک کے لئے انتھک خدمت خلق کا جذبہ مجھے یہاں تک لے آیا ہے، یہ اسی خدمت خلق کا ہی نتیجہ ہے اور یہی ہمارے ملک کی روایت بھی ہے۔ " انہوں نے کہا کہ صدر کے عہدے پر ان کا انتخاب ہندوستانی جمہوریت کی علامت ہے۔ اس عہدے کے وقار کو برقرار رکھنا ان کا پہلا ہدف اور آئین کی عزت برقرار رکھنا ان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا، "میں ملک کے تمام لوگوں کوسلام پیش کرتے ہوئے یہ یقین دلاتا ہوں کہ میں سروے بھونت سكھن کے احساس کے ساتھ مسلسل ملک کی خدمت میں لگا رہوں گا۔"

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز