تاج محل مندر نہیں بلکہ مقبرہ ہے ، مرکزی حکومت اور محکمہ آثار قدیمہ نے عدالت میں داخل کیا اپنا جواب

Aug 25, 2017 01:16 PM IST | Updated on: Aug 25, 2017 01:16 PM IST

آگرہ : محبت کی علامت آگرہ کے تاج محل کو لے کرجاری کیس کے معاملہ میں مرکزی حکومت اور محکمہ آثار قدیمہ نے جمعرات کو مقامی عدالت میں اپنا جواب داخل کردیا ۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ تاج محل مندر نہیں بلکہ ایک مقبرہ ہے۔دراصل لکھنؤ کے گومتی نگر کے رہنے والے ایڈووکیٹ ہری شنکر جین اور ان کے پانچ ساتھیوں نے عرضی دائر کر کے دعوی کیا تھا کہ تاج محل ایک مندر ہے۔ انہوں نے اپنی عرضی میں تاج محل کو شیو مندر تیجومهاليہ ہونے کا دعوی کیا تھا۔

عرضی میں مرکزی حکومت اور محکمہ آثار قدیمہ کو پارٹی بنا یا گیا تھا۔ جمعرات کو مرکزی حکومت اور محکمہ آثار قدیمہ نے اس معاملہ میں اپنا جواب داخل کیا۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ تاج محل مندر نہیں ہے بلکہ ایک مقبرہ ہے۔ اس کی تعمیر مغل شہنشاہ شاہجہاں کے ذریعہ اپنی اہلیہ ممتاز بیگم کی یاد میں کی گئی تھی۔ جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق تاج محل سے وابستہ کسی بھی معاملہ کی سماعت مقامی کورٹ میں نہیں ہو سکتی۔اب جسٹس ابھیشیک سنہا اس معاملہ کی اگلی سماعت 11 ستمبر کو کریں گے۔

تاج محل مندر نہیں بلکہ مقبرہ ہے ، مرکزی حکومت اور محکمہ آثار قدیمہ نے عدالت میں داخل کیا اپنا جواب

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز