آسام شہریت معاملہ میں جمعیۃ علما ہند کی عرضداشت پر سپریم کورٹ میں سماعت شروع

Apr 19, 2017 11:04 PM IST | Updated on: Apr 19, 2017 11:04 PM IST

نئی دہلی: آسام میں بنگلہ دیشی قرار دے کر لاکھوں مسلمانوں اور بنگالی ہندوئوں کو بے گھر کر نے اور ان کی ہندوستانی شہریت کو ہی ختم کر نے کی فرقہ پرست تنظیموں کی سازش کے خلاف جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء آسام کے صدرمولانا مشتاق عنفر اور نائب صدر رقیب الحسین نے ایک عرضداشت داخل کی تھی جس پر آج پہلی سماعت عمل میں آئی ۔ سپریم کورٹ میں پانچ رکنی بنچ کے سامنے جمعیۃ علما ہند کی جانب سے معروف وکیل کپل سبل، سلمان خوثرشید، سنجے ہیگڑیاور فصل ایوبی جیسے مشاق وکیل پیش ہوئے اور بنچ کے سامنے تقریبا۔ً ایک گھنٹے تک بحث چلی۔ ایک گھنٹہ کی بحث کے بعد سپریم کورٹ نے تمام فریقوں 29اپریل تک کو رٹن پیٹیشن داخل کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ طے کیا ہے کہ اس معاملہ کی سماعت 8سے 19مئی تک روزانہ ہوگی۔

واضح ہوکہ شمال مشرقی ہندوستان کے سب سے بڑ ے صوبہ آسام میں سن 70کی نصف دہائی سے نام نہاد بنگلہ دیشی ’غیر قانونی تارکین وطن‘ کا مسئلہ فرقہ پرست طاقتوں کی سیاست کا اہم مشغلہ رہا ہے جس کا بظاہر مقصد مسلمانوں کو سیاسی قوت حاصل کرنے سے روکنا ہے۔اب اس میں کچھ زیادہ شدت آگئی ہے جب سے ریاست میں (گزشتہ سال مئی ) بی جے پی کو سیکولر ووٹوں کی تقسیم کی وجہ سے اقتدار میں آنے کا موقع ملا۔ چنانچہ ریاستی حکومت یکے بعد دیگرے ایسے فیصلے اور اقدامات کررہی ہے جس سے آئین اور قانون کی کھلی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔حکومتی معاملات میں فرقہ وارنہ رنگ صاف جھلکتا ہے۔ بالخصوص وہ شہریت کے قومی رجسٹر ( نیشنل رجسٹر آف سٹی زنس) کی تیاری میں مداخلت کر رہی ہے۔ جس کے خلا ف جمعیۃ علماء ہند نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے کہ ریاستی حکومت کو اس غیر آئینی اقدام سے روکا جائے۔

آسام شہریت معاملہ میں جمعیۃ علما ہند کی عرضداشت پر سپریم کورٹ میں سماعت شروع

فائل فوٹو

جمعیۃ علماء ہند صدر مولانا سید ارشد مدنی نے پریس کو تاریخی حقائق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ راجیوگاندھی نے اپنے دور حکومت میں اگست1985 میں جو سمجھوتہ آسام کے احتجاجی رہنمائوں، مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت کے درمیان طے پایا تھا جسے ’آسام اکارڈ ‘ کہا جاتا ہے اس کے تحت آسام میں 25مارچ 1971کے بعد غیر قانونی طریقہ سے داخل ہونے والے غیر ملکی شہریوں کا پتہ لگانے اور انہیں ملک بدر کرنے کی شق ہے۔ اسی معاہد ہ کی رو سے سٹی زن شپ ایکٹ مجریہ 1955 کے سیکشن( دفعہ) A6 داخل کرکے آسام میں شہریت کی حتمی تاریخ 25مارچ 1971 مقرر کی گئی۔ تاہم اس دفعہ کے آئینی جواز کو دو فرقہ پرست تنظیموں نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز