آسام میں ڈی ووٹر کا معاملہ دو رکنی بنچ کے سپرد، مولانا ارشد مدنی نے اسے انسانی مسئلہ قرار دیا

آسام میں ڈی ووٹر کے تعلق سے ایک اہم درخواست آج سپریم کورٹ میں جسٹس اے کے گوئل اور جسٹس اندوملہوترہ بینچ کے سامنے پیش ہوئی جس میں جمعیۃعلماء ہند کی طرف سے فضل ایوبی ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اور سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے پیروی اور بحث کی۔

May 17, 2018 08:46 PM IST | Updated on: May 17, 2018 08:49 PM IST

نئی دہلی: آسام میں ڈی ووٹر کے تعلق سے ایک اہم درخواست آج سپریم کورٹ میں جسٹس اے کے گوئل اور جسٹس اندوملہوترہ بینچ کے سامنے پیش ہوئی جس میں جمعیۃعلماء ہند کی طرف سے فضل ایوبی ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اور سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے پیروی اور بحث کی۔ بعد ازاں درخواست کوقبول کرتے ہوئے بینچ نے اسے جسٹس رنجن گگوئی اور جسٹس ایف آر نریمن کی بینچ کے حوالہ کردیا اور کہا کہ چونکہ آسام شہریت سے متعلق تمام معاملات کی سماعت اسی بینچ میں ہوتی رہی ہے، اس لئے بہتر یہ ہوگا کہ اس معاملہ کی سماعت بھی وہی کرے، چنانچہ آئندہ سماعت اسی بینچ میں ہوگی۔  قابل ذکر ہے کہ آسام میں ڈی ووٹر کا مسئلہ ایک انتہائی خطرناک رخ اختیار کرگیا ہے اس لئے کہ گزشتہ 2؍مئی2018ء کواین آرسی کے کوآرڈینیٹر نے تمام متعلقہ افسران اور ضلعی حکام کو ایک ہدایت جاری کرکے کہا ہے کہ جولوگ ڈی ووٹر قراردیدئے گئے ہیں نہ صرف ان کا نام بلکہ ان کے پورے اہل خانہ کانام این آر سی میں شامل نہ کیا جائے خواہ ان کے پاس تمام شہریت کے ثبوت موجودہوں ۔

غورطلب ہے کہ آسام میں انتظامیہ نے ان لوگوں کو ڈی ووٹر قراردیا تھا، جن کی شہریت کو لیکر کسی طرح کا شک تھا یہاں تک کہ دستاویزات ہونے کہ باوجود بہت سے لوگوں کو ڈی ووٹر کی فہرست میں ڈال دیا گیا ہے، آسام میں ایسے لوگوں کی تعدادتقریبا ڈیڑھ لاکھ ہے اب اگر کوآرڈینیٹر کے نئے فرمان پر عمل ہوتا ہے تو اس صورت میں ایک بڑی تعداد نئی پریشانی میں گھرجائے گی۔ چنانچہ اس اہم معاملہ کو لیکر پندرہ فریقین نے سپریم کورت سے انصاف کے لئے رجوع کیا ہے، جس میں جمعیۃعلماء ہند ، اور جمعیۃعلماء آسام معاونت کررہی ہے۔

آسام میں ڈی ووٹر کا معاملہ دو رکنی بنچ کے سپرد، مولانا ارشد مدنی نے اسے انسانی مسئلہ قرار دیا

سپریم کورٹ میں آسام سرکار اور مرکزی سرکار کے وکلاء اس کی جامع تعریف کرنے اور تشفی بخش جواب دینے میں ناکام رہے: فائل فوٹو۔

جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے معاملہ کو انتہائی خطرناک قراردیتے ہوئے کہا کہ آسام سے مسلمانوں کو دربدرکرنے کی نئی نئی سازشیں رچی جاتی رہی ہیں، جس کو این آرسی کی آڑ میں انجام دینے کی کوشش ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے حقیقی شہریوں کو جس طرح ڈی ووٹر قراردیا گیا اس کے خلاف پہلے سے ہی جمعیۃعلماء ہند قانونی جنگ لڑرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہی نہیں پورمولاا یقین ہے کہ عدالت حالات اور واقعات پر ہمدردانہ غورکرتے ہوئے فیصلہ متاثرین کے حق میں دیے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ کسی مخصوص فردیا مذہب کا معاملہ نہیں بلکہ خالص انسانی مسئلہ ہے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز