آسام غیر ملکی شہریت معاملہ : جمعیتہ علما ہند نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا

Apr 24, 2017 07:48 PM IST | Updated on: Apr 24, 2017 07:50 PM IST

نئی دہلی۔  آسام میں غیر ملکی شہری معاملے میں گوہاٹی ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی عرضداشتوں پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے آج نیشنل رجسٹر آف سٹی زنس کوپارٹی بناتے ہوئے اسٹیٹ کورڈی نیٹر کو نوٹس جاری کیا ہے اور عدالت کے سامنے اپنا موقف پیش کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے سپریم کورٹ کے ذریعے آج اسٹیٹ کورڈی نیٹر نیشنل رجسٹر آف سٹی زنس کو پارٹی بنائے جانے اور اس سے جواب طلب کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے ۔مولانا مدنی نے کہا کہ شہریت کے ثبوت کے طور پر گاؤں پنچایت کے سرٹیفکیٹ کو مرکزی اور ریاستی دونوں حکومتوں کی رضامندی سے تسلیم کئے جانے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن ریاست میں بی جے پی کی سرکار بنتے ہی جس طرح سے شہریت کے ثبوت کے طور پر گاؤں پردھان کے سرٹیفکیٹ کو تسلیم کئے جانے سے انکار کر دیا گیا ہے وہ منصوبہ بند لگتا ہے ۔ مولانا مدنی نے کہا کہ اس اہم ایشو کے بارے میں جلد ہی پورے ملک کو بیدار کیا جائے گا اور انہیں باور کرایاجائے گا کہ کس طرح سے غیر ملکی شہریت کے نام پر لاکھوں بنگالی مسلمان اور ہندوؤں کو بے گھر اور بے وطن کرنے کی سازِ شیں کی جا رہی ہیں ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آسام کے لوگوں کو سپریم کورٹ سے ضرور انصاف ملے گا۔ عدالت نے تمام عرضداشتوں کو ایک جگہ کرتے ہوئے جمعیۃ علما ء ہند آسام کی جانب سے اسٹے مانگے جانے پر بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ ا س معاملے میں کیوں نہ اسٹے جاری کیا جائے ۔ ا س معاملے کی آئندہ سماعت 4مئی کو ہوگی ۔

جسٹس رنجن گوگوئی اور جسٹس نوین سنہا کی بنچ نے اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے اسٹیٹ کورڈی نیٹر آف نیشنل رجسٹر سٹیزنس کو پیش ہونے اور مدلل جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ آسام کی تقریباً 48لاکھ خواتین کی شہریت پر منڈلا رہے خطرے کے پیش نظر انتہائی حساس صورتحال اختیار کر چکے اس معاملے کی پیروی میں آج جمعیۃ علماء ہند اور آسام دیگر تنظیموں کی جانب سے معروف وکیل کپل سبل، ڈاکٹر ابھیشیک منوسنگھوی، سلمان خورشید ،وویک کمار تنکھا اور سنجے آر ہیگڑے ، فضیل احمد ایوبی، مصطفیّٰ خدام حسین ، مس کامنا سنگھ ، مس تحسینہ ،عزیز الرحمن اور عبدالقادر وغیرہ جرح میں شامل رہے۔ واضح ہو کہ یہ معاملہ ان 48لاکھ سے متعلق ہے جن کے سر پر غیر ملکی ہونے کی تلوار لٹکا دی گئی ہے۔ سابقہ مرکز اور ریاستی حکومت نے اتفاق سے اس معاملہ کوحل کرنے کے لئے آسام میں نیشنل رجسٹر آف سٹی زنس تیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ جس میں شہریت کے ثبوت کے طور پر دیگر دستاویزات کے ساتھ گاؤ ں پنچایت یعنی پردھان کے سرٹیفکیٹ کو بھی قبول کرنے کی بات کہی تھی اور اسی کی بنیاد پر قومی شہری رجسٹر تیار کیاجا رہا تھا ۔ یہ کام تقریباً مکمل ہی ہونے والا تھا کہ پہلے مرکز اور پھر ریاست میں بھی بی جے پی کی سرکار آ گئی اور این آر سی کے لئے گاؤں پنچایت کے سرٹیفکیٹ کو ثبوت ماننے سے انکار کر دیا۔ ایسے میں وہ خواتین جن کی شادیاں اب سے 40-50سال پہلے ہوچکی ہیں اور وہ بیاہ کر دوسرے گاؤں اور شہروں میں چلی گئیں انکے پاس ہندوستانی شہری ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے کیونکہ اس زمانے میں لوگ عام طور سے پیدائش سرٹیفکیٹ تک حاصل نہیں کرتے تھے ، لڑکیاں پانچویں چھٹی جماعت تک ہی اسکول جاتی تھیں اس لئے ان کے پاس اسکول کا سرٹیفکیٹ بھی نہیں ہے ۔

آسام غیر ملکی شہریت معاملہ : جمعیتہ علما ہند نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا

مولانا ارشد مدنی: فائل فوٹو

ایسے میں صرف گاؤں پنجایت ہی یہ سرٹیفکیٹ دے سکتی ہے کہ فلاں عورت فلاںِ شخْص کی بیٹی، بہن یا بہوہے لیکن اب اسے ریاستی حکومت ماننے کو تیار نہیں ہے اور گوہاٹی ہائی کورٹ بھی اس معاملے کی تصدیق کر چکا ہے جس کے بعد جمعیۃ علما ہند کی آسام یونٹ کے ساتھ ساتھ دیگر تنظیموں کوبھی سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹاناپڑا ۔ واضح ہو کہ آسام میں فرقہ پرست جماعتیں یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ 1950کے بعد ریاست میں آنے والے کو غیر ملکی قرار دیاجائے جبکہ 1951میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان یہ سمجھوتہ ہوا تھا کہ اب تک دونوں ملکوں کے درمیان آبادی کا جوتبادلہ ہواہے اسے تسلیم کیا جائے اور جو جہا ں ہے وہاں کا شہری تسلیم کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ 1947میں پاکستان چلے گئے کافی آسامی مسلمان نا مساعد حالات کے سبب 1950میں ہی پھر اپنے گھریعنی آسام واپس لوٹ آئے تھے۔

بعد میں جب1978کے بعد ایکبار غیر ملکی شہری کی تحریک نے زور پکڑا تو 1985میں وزیر اعظم راجیو گاندھی اور آسو کے درمیان معاہدہ ہوا تھا جس میں یہ طے پایا تھا کہ جس کے پاس 25مارچ 1971تک آسام میں رہنے کے ثبوت ہیں انہیں ہندوستانی شہری تسلیم کیا جائے گا۔ لیکن فرقہ پرست تنظیمیں ان دونوں ہی معاہدوں کو نظر انداز کر کے انکی مخالفت کر رہی ہیں اور اب ایک طرح سے انہیں حکومت کی بھی خاموش حمایت حاصل ہے ۔یہ جانکاری ایک پریس ریلیز میں دی گئی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز