آسام میں بی جے پی حکومت کے نشانہ پر ہیں مسلمان ، چیف جسٹس آف انڈیا سے مداخلت کا مطالبہ

Jan 20, 2017 08:56 PM IST | Updated on: Jan 20, 2017 08:56 PM IST

نئی دہلی : آسام مائیناریٹي جاتیہ کونسل اے ایم جے پی کا کہنا ہے کہ آسام میں بی جے پی حکومت کی طرف سے چلائے جا رہے امدادی کاموں میں دوہرا معیار اپنایا جا رہا ہے ۔ انہوں نے چیف جسٹس آف انڈیا سے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے ۔ اے ایم جے پی نے سپریم کورٹ میں دائر اپنی درخواست میں کہا ہے کہ برہم پتر دریا کے کنارے پر سیلاب اور کٹاو سے ہوئی بربادی کے بعد جو غریب مسلم سركاري زمین پر رہ رہے ہیں ، انہیں وہاں سے ہٹا یا جا رہا ہے۔

رائزنگ کشمیر کی ایک رپورٹ کے مطابق سابق رکن اسمبلی عبد عزیز نے کہا کہ بی جے پی حکومت کی طرف سے ان لوگوں کو کسی مناسب امداد اور بحالی کے بغیر ہی امتیازی طریقہ سے سرکاری زمین سے ہٹا یا جانا بالکل غلط ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ تمام برادری کے لوگ سرکاری زمین پر رہ رہے ہیں ، کیونکہ  یہ زمین فی الحال حکومت کی طرف سے استعمال میں نہیں لائی جا رہی ہے ۔لیکن صرف مسلم برادری کے لوگوں کو ہی تجاوز ات ہٹاؤ کے نام پر پریشان کیا جا رہا ہے جبکہ دیگر کمیونٹی کے لوگوں کو وہاں رہنے کی اجازت دی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس معاملہ میں انصاف کے لئے چیف جسٹس کے سامنے ایک پٹیشن دائر کی ہے ۔

آسام میں بی جے پی حکومت کے نشانہ پر ہیں مسلمان ، چیف جسٹس آف انڈیا سے مداخلت کا مطالبہ

اقلیتی تنظیم کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال مئی میں جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے، اس کے بعد سے اس کا ایک ہی مقصد اقلیتوں کو پریشان کرنا ہے۔ اقلیتی لیڈروں نے کہا کہ جن لوگوں کے پاس 25 مارچ 1971 تک کے جائز دستاویزات ہیں ، انہیں غیر قانونی بنگلہ دیشی کے نام پر پریشان نہیں کیا جانا چاہئے ۔  آسام معاہدے کی ترمیم سیکشن 6 اے کے تحت پریشان کئے بغیر ان لوگوں کی مناسب امداد اور بحالی کا کام کیاجانا چاہئے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز