باہمی اخوت اور بھائی چارہ بڑھانے کے لئے کانگریس کے ساتھ آئیں ملک کے نوجوان: راہل

Dec 16, 2017 01:03 PM IST | Updated on: Dec 16, 2017 04:58 PM IST

نئی دہلی۔ کانگریس صدر راہل گاندھی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی ) اور وزیر اعظم نریندرمودی پر لوگوں کے مابین منافرت پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے آج نوجوانوں سے ملک میں اخوت اور بھائی چارہ کا ماحول پیدا کرنے کے لئے کانگریس کے ساتھ آنے کی اپیل کی ہے۔ مسٹر گاندھی نے یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر میں منعقدہ پروگرام میں پارٹی کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد صدر کے طور پر اپنے پہلے خطاب میں پارٹی میں سینئر اور نوجوان لیڈروں کے مابین تال میل قائم کرکے آگے بڑھنے کا عزم کیا ۔ انھوں نے کہا کہ ،’’میں کانگریس کو گرینڈ اولڈ اور گرینڈ ینگ پارٹی بنانے جا رہا ہوں ۔‘‘ بی جے پی اور مسٹر مودی پر راست حملہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ لوگوں کو بانٹتے ہیں اور تشدد پھیلاتے ہیں اور غصہ کی سیاست کرتے ہیں جبکہ کانگریس پیارومحبت ،بھائی چارہ اور لوگوں کو جوڑنے کا کام کرتی ہے ۔ انھوں نے ملک کے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اس کام کے لئے کانگریس کے ساتھ آئیں ۔

مسٹر گاندھی نے کہا کہ بی جے پی کانگریس سے پاک ہندستان بنانا چاہتی ہے جبکہ ہم سبھی کو ساتھ لیکر چلنا چاہتے ہیں ۔ کانگریس ملک کو 21ویں صدی میں لے جانا چاہتی ہے جبکہ وزیراعظم اسے پیچھے لے جانا چاہتےہیں ۔ مسٹر گاندھی نے اپنی تقریر انگریزی میں شروع کی اور درمیان میں کچھ دیر ہندی میں بھی خطاب کیا۔ مسٹر مودی کونشانہ بناتےہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ صرف ایک شخص کی ذاتی شبیہ کو چمکانے اور تعریفوں کے پل باندھنے کے لئے باقی لوگوں کی مہارت ،تجربوں اور علمی صلاحیت کو نظرانداز کیا جارہا ہے ۔ ایک شخص کو مضبوط کرنے کے لئے خارجہ پالیسی کو تباہ کیا جارہا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ وزیراعظم ملک کو قدیم زمانے میں لے جا رہے ہیں جب خاص شناخت ،کھان پان اور عقیدے کی وجہ سے لوگوں کو قتل کردیا جاتاتھا۔ ایسے بھیانک تشدد سے دنیا میں ہماری شبیہ انتہائی خراب ہوئی ہے ۔ ہندستان کی تاریخ پیارومحبت اور رحم دلی کی رہی ہے لیکن اس طرح کی خوفناک وارداتوں سے ملک کا تانابانا تارتارہوگیا ہے ۔ اس سے ملک کو جونقصان ہورہا ہے اس کی تلافی مشکل ہے ۔اس مخصوص نظریہ میں لوگوں کو اختلاف کرنے کا حق نہیں ہے ۔لوگوں کی آواز کو دبایا جا رہا ہے ۔

باہمی اخوت اور بھائی چارہ بڑھانے کے لئے کانگریس کے ساتھ آئیں ملک کے نوجوان: راہل

مسٹر گاندھی نے کہا کہ بی جے پی کانگریس سے پاک ہندستان بنانا چاہتی ہے جبکہ ہم سبھی کو ساتھ لیکر چلنا چاہتے ہیں ۔

بی جےپی پر حملہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سیاست عوام کی بھلانی کے لئے ہونی چاہئے لیکن آج اس کا استعمال لوگوں کا معیارزندگی بہتربنانے کے بجائے انھیں کچلنے کے لئے کیا جارہا ہے ۔ کانگریس صدر نے کہا کہ 13سال قبل وہ عام ہندستانیوں کی طرح ایک آدرش وادی کی طرح سیاست میں آئے لیکن آج کی سیاست دیکھ کر ہم میں سے کئی لوگوں کو مایوسی ہورہی ہے کیونکہ اس میں رحم دلی اور سچائی نہیں ہے ۔ انھوں نے کہا کہ پیچھے لے جانے والی طاقتیں اس لئے نہیں جیت رہی ہیں کیونکہ وہ صحیح ہیں بلکہ وہ تخریبی کارروائی اور حقائق کو توڑ مروڑ کرپیش کرنے کی وجہ سے جیت رہی ہیں اور جہاں بھی ہاتھ لگا رہی ہیں اسے داغدار بنا رہی ہیں ۔ کانگریس صدر نے کہا کہ آج بی جے پی کے لوگ پورے ملک میں تشدد پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں اور اسے روکنے والی صرف ایک ہی طاقت ہے اور وہ ہے کانگریس ۔ بی جے پی اور کانگریس میں فرق بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ،’’ وہ آگ لگاتے ہیں ۔ہم بجھاتےہیں ،وہ توڑتے ہیں ،ہم جوڑتے ہیں ۔ وہ غصہ کرتے ہیں،ہم پیار کرتے ہیں ۔ وہ بدنام کرتےہیں ہم عزت واحترام کے ساتھ اپنا دفاع کرتےہیں ۔ ہم نفرت کے عوض نفرت نہیں کرتے۔ ہم نفرت اور غصہ کی انکی سیاست سے پیار سے لڑیں گے اور انھیں ہرائیں گے ۔‘‘

مسٹر راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی کے پاس خوف پیدا کرکے اور لوگوں کی آواز دبا کر اقتدارکو کنٹرول کرنے کی مشینری ہوسکتی ہے لیکن ہمارے پاس عوام کی طاقت ہے ۔کانگریس کا اپنا ایک نظریہ ہے اور وہ دوسروں کے لئے لڑتی ہے جبکہ بی جے پی کا نظریہ خود کے لئے ہے ۔ کانگریس انکے لئے لڑتی ہے جو تنہا نہیں لڑ سکتے۔ اس طبقہ کا تحفظ کرنا آزادی کی لڑائی کا بنیادی جذبہ تھا اور یہی خون آج بھی کانگریس کی رگوں میں دوڑ رہا ہے ۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ کانگریس نے چیلنجوں کا سامنا ہمیشہ پیار و محبت سے کیا ہے اور آگے بھی کریگی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز