شياٹس مار پیٹ معاملہ: الہ آباد میں ایس پی لیڈرعتیق احمد گرفتار، جیل بھیجا گیا

Feb 11, 2017 08:13 PM IST | Updated on: Feb 11, 2017 08:14 PM IST

الہ آباد۔ الہ آباد میں شياٹس ایگریکلچر ڈيمڈ یونیورسٹی میں اساتذہ اور عملے کے ساتھ مارپیٹ کرنے کے اہم ملزم اور سابق ممبر پارلیمنٹ عتیق احمد کو پولیس نے آج نینی علاقے سے گرفتار کر لیا۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ عتیق کو سخت حفاظت میں ایڈیشنل چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ (اے سی جے ایم) کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے انھیں جیل بھیجنے کا حکم دیا۔ ادھر پولیس تحویل میں عتیق نے کہا کہ وہ نینی تھانے میں بیان درج کرانے گئے تھے جہاں پولیس نے انھیں گرفتار کر لیا۔ الہ آباد ہائی عدالت نے کل عتیق معاملے میں سخت موقف اختیار کرتے ہوئے مجرمانہ شبیہ والے پھول پور کے سابق رہنما اور ان کے ساتھیوں کی جلد گرفتاری کے احکامات دیے تھے۔ کورٹ کے حکم پر يمناپار کے پولیس سپرنٹنڈنٹ عدالت میں حاضر ہوئے تھے جہاں چیف جسٹس ڈی بی بھوسلے اور جج یشونت ورما کی بنچ نے انکی سخت سرزنش کی تھی۔

عدالت نے واضح کیا تھا کہ عتیق صرف ہائی کورٹ میں خود سپردگی کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کوئی اور عدالت انکی خودسپردگی سے متعلق عرضی پر غور نہیں کرے گی۔ معاملے کی اگلی سماعت 13 فروری کو طے کی گئی ہے ۔ شياٹس سیکورٹی افسر رام کشن سنگھ کی طرف سے دائر عرضی پر سماعت کے بعد یہ حکم دیا۔ سمجھا جاتا ہے کہ عدالت کے سخت موقف کی وجہ سے سابق ممبر پارلیمنٹ کی گرفتاری ممکن ہوئی۔

شياٹس مار پیٹ معاملہ: الہ آباد میں ایس پی لیڈرعتیق احمد گرفتار، جیل بھیجا گیا

واضح رہے کہ گزشتہ سال 14 دسمبر کو نینی علاقے میں سماج وادی پارٹی کے سابق رہنما عتیق احمد اور انکے ساتھیوں نے نقل کے معاملے میں برخاست کئے گئے دو طالب علموں کو بحال کئے جانے کا دباؤ بنانے کے لئے الہ آباد کی شياٹس ایگریکلچر ڈيمڈ یونیورسٹی میں دھاوا بول کر وہاں اساتذہ اور انتظامی افسران کے ساتھ مارپیٹ کی تھی اور سرعام ہتھیار لہرائے تھے ۔ واقعہ کی کچھ تصاویر کیمپس میں لگے سی سی ٹی وی کیمرے میں بھی قید ہو گئی تھیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز