شہید ہیمراج کی ماں کا پھوٹا غصہ، پوچھا حکومت آخر کب تک سر كٹواتی رہے گی؟

May 02, 2017 01:10 PM IST | Updated on: May 02, 2017 01:11 PM IST

نئی دہلی۔ ہندوستانی فوجیوں کے ساتھ جاری پاکستان کے مظالم سے متھرا کے شہید ہیمراج کی ماں مینا دیوی کا غصہ پھوٹ پڑا ہے۔ انہوں نے پوچھا ہے کہ حکومت آخر کب تک سر كٹواتی رہے گی؟ ہم کب تک خاموش بیٹھے رہیں گے؟ متھرا میں مینا دیوی نے کہا پہلے ہمارے ہیمراج کا سر کاٹ لیا تھا۔ ہمارے یہاں سشما سوراج آئی تھیں۔ جنہوں نے کہا تھا کہ ہم ایک سر کے بدلے 10 سر لائیں گے۔ پھر اب دوبارہ حملہ کر دیا۔ حکومت کب تک سر كٹواتی رہے گی؟ اب حکومت کو اس کے بارے میں سوچنا چاہئے۔ ہم کب تک خاموش بیٹھے رہیں گے؟ اس پر حکومت کو کارروائی کرنی چاہئے۔ کب تک بیٹے شہید ہوتے رہیں گے؟ شہید کے خاندان پر کیا گزرتی ہے یہ تو ہم ہی جانتے ہیں۔ حکومت کو اس کا منہ توڑ جواب دینا چاہئے۔

وہیں شہید ہیمراج کے چھوٹے بھائی جے سنگھ نے کہا کہ پاکستان نے جو بزدلانہ حرکت کی ہے جو ظلم کیا ہے، اس کا حکومت کو منہ توڑ جواب دینا چاہئے۔ پہلے میرے بھائی کے ساتھ ایسا ہی کیا۔ اب پھر دو جوانوں کے سر کاٹ لئے۔ ایسے میں حکومت کب تک خاموش بیٹھی رہے گی۔ اس میں تمام سیاسی پارٹیوں کو ایک ساتھ ہو کر مودی جی اور حکومت کا ساتھ دینا چاہئے اور پاکستان کو منہ توڑ جواب دینا چاہئے۔

شہید ہیمراج کی ماں کا پھوٹا غصہ، پوچھا حکومت آخر کب تک سر كٹواتی رہے گی؟

شہید لانس نائک ہیمراج متھرا کے ہی رہنے والے تھے۔ 6 جنوری 2001 میں فوج میں بھرتی ہوئے تھے۔ وہ جموں کشمیر کے مینڈھر سیکٹر میں تعینات تھے، جہاں پاکستان نے ان کے ساتھ بزدلانہ حرکت کی تھی۔ یہ واقعہ 8 جنوری 2016 کا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز