شدید مخالفت کے بعد بیک فٹ پر مودی حکومت ؟ ہٹا سکتی ہے بھینس کی فروخت پرعائد پابندی

May 29, 2017 08:55 PM IST | Updated on: May 29, 2017 08:55 PM IST

نئی دہلی : کیرالہ سمیت متعدد ریاستوں کی مخالفت کے پیش نظر مودی حکومت جانوروںکے میلہ میں جانوروں کی خرید و فروخت پر لگائی گئی پابندی کے حکم پر نظر ثانی کر سکتی ہے۔ امید کی جا رہی مودی حکومت اس میں کچھ راحت دے سکتی ہے۔ نیوز ایجنسی آئی اے این ایس کے مطابق پیر کو ایک اہلکار نے بتایا کہ حکومت کی نو سلاٹرلسٹ سے بھینسوں کو باہر نکالنے کا امکان ہے۔ ماحولیات کی وزارت کے سکریٹری اے این جھا کے مطابق نئے جانور ذبیحہ قوانین میں کچھ مخالفتیں سامنے آئی ہیں، ہم نے ان پر کام کر رہے ہیں، حکومت کی نو سلاٹر لسٹ میں جن جانوروں کو شامل کیا گیا ہے، ان میں گائے، بیل، بھینس، بچھیا ،بچھڑا اور اونٹ ہے۔ حکومت کے نئے حکم کے بعد ذبیجہ کے لئے جانور میلوں میں ان کی خرید و فروخت نہیں کی جا سکتی ہے۔ حکومت کے اس پابندی کا کیرالہ، مغربی بنگال جیسی ریاستیں شدید مخالفت کر رہی ہیں۔

خیال رہے کہ ماحولیات اور جنگلات کی وزارت نے 26 مئی کو ذبح کے لئے جانور میلوں میں جانوروں کی خرید و فروخت پر پابندی لگا دی تھی ۔مرکزی حکومت کی طرف سے بنایا گیا اصول اگلے تین ماہ میں نافذ ہونا ہے۔ مودی حکومت کے اس قانون کو لے کر کیرالہ میں مخالفت تیز ہوگئی ہے۔ کیرالہ حکومت نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ کیرالہ حکومت کا کہنا ہے کہ مرکز کے اس فیصلے سے چمڑہ تجارت متاثر ہوگی ۔

شدید مخالفت کے بعد بیک فٹ پر مودی حکومت ؟ ہٹا سکتی ہے بھینس کی فروخت پرعائد پابندی

کیرالہ کے علاوہ مغربی بنگال حکومت اور تمل ناڈو کی ڈی ایم کے نے بھی حکومت کے اس فیصلہ کی شدید مخالفت کی ہے۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے اسے غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسفیصلہ کو نافذ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

ادھر کیرالہ کے کنور میں حکومت کے اس فیصلہ کی مخالفت میں یوتھ کانگریس کے کارکنوں پر گئو کشی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں پولیس نے کچھ لوگوں کے خلاف معاملہ بھی درج کرلیا ۔ بی جے پی کے ترجمان تیجندر پال سنگھ بگا نے ٹوئٹر پر اس کی ویڈیو شیئر کی تھی ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز