سپریم کورٹ نے بی ایس -3 گاڑیوں پر لگائی روک، شو روم سے باہر نہیں جائیں گی 8.24 لاکھ گاڑیاں

Mar 29, 2017 03:51 PM IST | Updated on: Mar 29, 2017 03:52 PM IST

نئی دہلی۔ سپریم کورٹ سے آٹوموبائل کمپنیوں کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ دن بہ دن بڑھتی آلودگی کو دیکھتے ہوئے عدالت نے 1 اپریل 2017 سے آٹو مینوفیکچرر کمپنیوں کی بی ایس -3 گاڑیوں کی فروخت پر روک لگا دی ہے۔ آٹو کمپنیوں کے پاس کل 8.24 لاکھ بی ایس گاڑی اسٹاک میں پڑی ہیں۔ اس میں ساڑھے چھ لاکھ سے زیادہ ٹو وہیلر گاڑی، قریب 40 ہزار تپہیا، 96 ہزار کے قریب کاروباری گاڑی اور قریب 16 ہزار کاریں ہیں۔

اس سے پہلے سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ گاڑی کمپنیوں کو 2014 میں ہی بی ایس چار نوٹیفکیشن کے بارے میں پتہ تھا اور جب لوگوں کو 2010 سے ہی اس کے بارے میں معلومات ہو گئی تھی، اس کے باوجود کمپنیوں نے اسٹاک ختم نہیں کیا۔ کورٹ نے کہا کہ سڑک پر چلنے والی گاڑیوں کے تناسب میں تعداد کم ہو، لیکن لوگوں کی صحت کو طاق پر نہیں رکھا جا سکتا۔

سپریم کورٹ نے بی ایس -3 گاڑیوں پر لگائی روک، شو روم سے باہر نہیں جائیں گی 8.24 لاکھ گاڑیاں

کورٹ نے کہا کہ یہ معاملہ سیدھے سیدھے صحت سے منسلک ہے اور ایسے معاملے میں ہم کمپنیوں کے فوائد کے لئے لوگوں کی صحت کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔ گاڑی مینوفیکچررز کی تنظیم سیام کی جانب سے کہا گيا کہ کمپنیوں کو یہ اسٹاک نکالنے کے لئے قریب ایک سال کا وقت چاہئے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں ہٹانے کا کام آہستہ آہستہ ہونا چاہئے کیونکہ 2010 سے مارچ 2017 تک 41 گاڑی کمپنیوں نے 13 کروڑ بی ایس تین گاڑیاں بنائی ہیں۔

 

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز