مولانا جوہر کے 139 ویں یوم پیدائش پر جوہر اکیڈمی کے زیر اہتمام تقسیم ایوارڈ کا انعقاد

مولانا محمد علی جوہر اکیڈمی کے زیر اہتمام انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر نئی دہلی میں تقسیم ایوارڈ کی 29 ویں سالانہ تقریب کا اہتمام کیا گیا۔

Dec 11, 2017 11:59 PM IST | Updated on: Dec 11, 2017 11:59 PM IST

نئی دہلی: مولانا محمد علی جوہر اکیڈمی کے زیر اہتمام انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر نئی دہلی میں تقسیم ایوارڈ کی 29 ویں سالانہ تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ مولانا جوہر کے 139 ویں یوم پیدائش پر اسلامک کلچرل سینٹر کے اشتراک سے منعقد ہونے والے اس پروگرام میں صدارتی تقریر کرتے ہوئے طارق انور ایم پی نے کہا کہ عظیم مجاہد آزادی مولانا محمد علی جوہر کی قربانیوں کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ انھوں نے ملک و قوم کے لیے جو کارنامے انجام دیے ہیں وہ رہتی دنیا تک زندہ رہیں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ جو قوم اپنی وراثت اور اپنے بزرگوں کی خدمات کو بھول جاتی ہے وہ زیادہ دنوں تک زندہ نہیں رہتی۔ اس لیے ہمیں ان کی خدمات کو عام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو یہ پتا چلے کہ اس ملک کو آزاد کرانے میں ہمارے بزرگوں نے بھی بڑی قربانیاں دی ہیں۔ این سی پی کے جنرل سکریٹری نے مزید کہا کہ آج ملک میں جو حالات بن رہے ہیں اور خوف و دہشت کا جو ماحول ہے اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مولانا جوہر نے مکمل آزادی کی بات کی تھی۔ مکمل آزادی جبھی مل سکتی ہے جب ہمیں غریبی،بے روزگاری، نااتفاقی اور خوف و دہشت سے آزادی ملے گی۔

مہمان خصوصی معروف ادیب، سابق ایم پی اور پدم بھوشن پروفیسر لوکیش چندرا نے کہا کہ مولانا محمد علی جوہر کی خدمات کو سنہرے حروف میں لکھا جانا چاہیے۔ انھوں نے جنگ آزادی کو نئی جہت دی تھی۔ انھوں نے جو خلافت تحریک چلائی تھی وہ ایک عظیم تحریک تھی۔ اس سے ہندوستان کو ایک نئی سوچ ملی تھی۔ انھوں نے کہا گادھی جی ہوں یا پنڈت نہرو یا دوسرے رہنما سبھی مولانا جوہر کا بہت احترام کرتے تھے۔ ممبر آف پارلیمنٹ ادت راج نے کہا کہ دنیا بادشاہوں اور امراء و سرمایہ داروں کو یاد نہیں کرتی، وہ فقیروں کو یاد کرتی ہے۔ ان کو یاد کرتی ہے جنھوں نے انسانیت کے لیے کوئی کام کیا ہو، اس کی کوئی خدمت کی ہو۔ کسی بھی شخص کو تب تک یاد نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ اس کی خدمات سے عوام واقف نہ ہوں۔ مولانا محمد علی جوہر نے ملک کی آزادی کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی تھی۔ ان کو یاد کرنا ہمارا قومی فریضہ ہے۔ مہمان ذی وقار ہمالیہ ڈرگس کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ایس فاروق نے کہا کہ مولانا محمد علی جوہر جنگ آزادی کی عمارت کے ایک بہت پختہ اور مضبوط ستون تھے۔ انھوں نے جو قربانیاں دی ہیں وہ ہمارے لیے ایک مثال ہے۔ الحرمین فارما پرائیویٹ لمٹیڈ کے چیئرمین صبور احمد صدیقی نے مولانا محمد علی جوہر اکیڈمی کی خدمات کو یاد کیا اور کہا کہ وہ عظیم مجاہد آزادی مولانا جوہر کی یاد میں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں قابل ذکر خدمات انجام دینے والوں کو ایوارڈ دے کر جس طرح ان کی پذیرائی کرتی ہے وہ لائق ستائش ہے اور ہماری کمپنی بھی اس کوشش میں شامل ہے۔

مولانا جوہر کے 139 ویں یوم پیدائش پر جوہر اکیڈمی کے زیر اہتمام تقسیم ایوارڈ کا انعقاد

انھوں نے اکیڈمی کے بانی ایم سلیم مرحوم کو بھی یاد کیا اور کہا کہ ان کے بعد ان کے بیٹے احمد ندیم یہ ذمہ داری بخوبی انجام دے رہے ہیں۔ ایم سلیم کے ایک دیرینہ رفیق اور سینئر صحافی جلال الدین اسلم نے ایم سلیم سے اپنے مراسم کو یاد کیا اور کہا کہ وہ جس طرح مولانا محمد علی جوہر کی خدمات کو عوام تک پہنچانے کی کوشش کرتے رہے ہیں ان کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ ان کے اندر مولانا جوہر کی روح حلول کر گئی ہے۔ اس سے قبل اکیڈمی کے صدر پروفیسر خواجہ محمد شاہد نے کہا کہ مولانا محمد علی جوہر کی شخصیت کے کئی پہلو تھے اور ہر پہلو بہت بھرپور تھا۔ انھوں نے سرسید سے تربیت حاصل کی تھی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ سرسید ابتدا ہیں تو میں انتہا ہوں۔

اس موقع پر پروفیسر رتن لال ہنگلو وائس چانسلر الہ آباد یونیورسٹی، محمد شفیع پنڈت، ادت راج، پروفیسر شمیم حنفی، ڈاکٹر راشد اللہ خاں، پروفیسر عاصم علی خاں، سہیل انجم اور صاحبزادہ ڈاکٹر محمد نجم الدین کو ایوارڈ تفویض کیے گئے۔ جبکہ حمیرہ احمد کو آٹھواں بی اماں ایوارڈ اور عارفہ خانم شیروانی کو چھٹا ایم سلیم میموریل ایوارڈ دیا گیا۔ اہم شرکا میں انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے صدر سراج الدین قریشی، حکیم امام الدین ذکائی، ریکس ریمیڈیز کے ایم ڈی شعیب اکرم و منیف عثمانی، حکیم و ڈاکٹر اسلم جاوید، حشمت علی، دنیش سنگھ، الیاس سیفی، سلیم اللہ، مظفر علی، عبد الرشید انصاری، امان اللہ خاں، ریاض الدین شیخ، ڈاکٹر عقیل احمد، سلمان فیصل، شاہنواز فیاض، نعیمہ جعفری پاشا، انصاری اطہر حسین، مسیح الدین، محمد اسلم، اختر حسین، محمد عارف، مرتضی خاں اور جے شنکر سمیت کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز