ایکسکلوزیو : جب موسٹ وانٹیڈ ڈان داود ابراہیم نے کہا : بس بی پی بڑھ گیا تھا ...میں فرسٹ کلاس

Aug 10, 2017 09:09 PM IST | Updated on: Aug 10, 2017 09:09 PM IST

نئی دہلی : ہندوستان کے مطلوب ترین ڈان داؤد ابراہیم کے ٹھکانے کا آخر کار پتہ چل گیا ہے۔ سی این این نیوز 18 کے سنسنی خیز انکشافات میں داؤد ابراہیم کے بارے میں انتہائی خفیہ اور بڑی معلومات سامنے آئی ہے۔ یہ خصوصی معلومات داؤد ابراہیم سے ہوئی براہ راست بات چیت کے بعد سامنے آئی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان ہمیشہ سے ہندوستان کے اس دعوے کو خارج کرتا آیا ہے کہ داؤد پاکستان میں ہے۔ لیکن اس سنسنی خیز انکشاف کے بعد پاکستان کی ساری دلیلیں بے بنیاد ثابت ہوئی ہیں۔ ایسا اس وجہ سے ہے ، کیونکہ فون پر براہ راست بات چیت میں خود داؤد نے اعتراف کیا کہ وہ کراچی میں رہ رہا ہے۔

ایکسکلوزیو : جب موسٹ وانٹیڈ ڈان داود ابراہیم نے کہا : بس بی پی بڑھ گیا تھا ...میں فرسٹ کلاس

اتنا ہی نہیں اب تک داؤد کی صحت کو لے کر دنیا بھر کی میڈیا میں مختلف طرح کی باتیں کہی جا رہی تھیں۔ لیکن سی این این نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے خود داؤد نے کہا کہ اسے نہ ہی ہارٹ اٹیک آیا تھا اور نہ ہی اس گیگرين جیسی کوئی بیماری ہے۔ داؤد نے فون پر بتایا کہ اس کی صحت بالکل ٹھیک ہے۔ اگرچہ اس نے یہ بھی کہا کہ ایک مرتبہ اس کا بلڈ پریشر بڑھ گیا تھا۔

آپ کو بتا دیں کہ یہ پہلی بار ہے جب داؤد نے کسی ٹی وی چینل سے براہ راست بات کی ہے۔ سی این این نیوز 18 کی مکمل تحقیقات کے بعد سی این این نیوز 18 کے ایڈیٹر منوج گپتا نے داؤد سے رابطہ کیا تھا۔ انہوں نے اس سال مئی کے مہینے میں داؤد سے یہ بات چیت کی تھی۔

اس کے بعد اس بات چیت کے آڈیو کی مکمل جانچ کی گئی۔ دو ماہ تک جانچ ہونے کے بعد جب یہ یقین ہو گیا کہ فون آڈیو میں آواز داؤد ابراہیم کی ہی ہے، تب اس بات کا انکشاف لوگوں کے سامنے کیا گیا ہے۔ داؤد کی آواز کو ان لوگوں کے درمیان بھی تصدیق کروائی گئی ، جو گزشتہ کئی سالوں سے ممبئی کے انڈر ورلڈ ڈان ٹریک کر رہے ہیں۔

نیچے پڑھیں داؤد ابراہیم اور سی این این نیوز 18 کے ایڈیٹر منوج گپتا کے درمیان ہوئی خصوصی بات چیت:۔

منوج گپتا: ہیلو ... ہیلو

داؤد: هاںجي

منوج گپتا: داود صاحب ...۔

داؤد: آپ کون ...۔

منوج گپتا: جی صاحب گڈ ایوننگ ، دس از منوج گپتا فرام سی این این نیوز 18 (میں سی این نیوز 18 سے منوج گپتا بول رہا ہوں)۔

کچھ دیر رک کر ...

داؤد: نہیں یہ چوٹاني بول رہے ہیں۔

منوج گپتا: ہاں جی؟

کچھ دیر رک کر ...۔

داؤد: بول بول

جاوید چوٹاني: سلام علیکم

منوج گپتا: ہاں وعلیکم السلام

جاوید چوٹاني: کون بول رہے ہیں۔

منوج گپتا: جی میں منوج گپتا بول رہا تھا سی این نیوز 18 سے۔

منوج گپتا: داود صاحب تھے؟

جاوید چوٹاني: جی جی، منوج بھائی بولئے۔

منوج گپتا: داود صاحب سے بات کرا دیجئے۔

جاوید چوٹاني: کون داؤد صاحب۔

منوج گپتا: داؤد ابراہیم صاحب۔

جاوید چوٹاني: بولئے کیا ہے؟

منوج گپتا: جی میں منوج بول رہا ہوں، وہ جانتے ہیں مجھ کو، پوچھ لیں ان سے ایک بار۔

منوج گپتا: انہوں نے اٹھایا تھا فون۔

تھوڑی دیر رک کر

منوج گپتا: وہ جانتے ہیں مجھ کو، پوچھ لیں ان سے ایک بار۔

داؤد: جی ہاں بولو بولو

جاوید چوٹاني: ہاں بولو بولو

منوج گپتا: وہ ... تو سر، آپ پاکستان میں ہو، کراچی کے اندر

جاوید چوٹاني: کس نے بولا یہ۔

منوج گپتا: یہ تو نمبر پاکستان کا ہے نا۔

داؤد: ٹائم ویسٹ مت کر۔

جاوید چوٹاني: خدا کا خوف کر ... ٹائم ویسٹ کر رہا ہے ... تو کس سے بات کر رہا ہے ... کس کا انٹرویو لے رہا ہے ... کچھ پتہ ہے آپ کو ؟

جاوید چوٹاني: نہیں آپ بتاو ، اتنا لمبا انٹرویو لے رہے ہو، اتنی ساری باتیں کر رہے ہو ... پتہ ہے بھی کس سے کر رہے ہو؟۔

منوج گپتا: داود صاحب سے

جاوید چوٹاني: خدا کا خوف کر، ایک تو نام ایسے لیتے ہو، آپ کو کیا وہ ایسے کسی فون پر مل جائیں گے کیا۔

جاوید چوٹاني: کس نے کہا تمہیں یہ نمبر ... مٹا دو یہ نمبر .. تم ایک کام کرو، مجھے ایک نمبر دو تاکہ میں آپ کا میسج کسی کے ذریعہ بھیجوا سکتا ہوں۔

جاوید چوٹاني: میں بول رہا ہوں کہ آپ کتنے ماشا اللہ سمجھدار صحافی لگ رہے ہو تو آپ کو لگتا ہے کہ آپ کوئی بھی نمبر ملاوگے ، تو پھٹ سے داؤد صاحب اٹھا بھی لیں گے۔ آپ انٹرویو بھی لے لو گے۔

جاوید چوٹاني: نمبر دو میں بات کرواتا ہوں۔

منوج گپتا: ہاں .. 90۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاوید چوٹاني: آپ آپ بتا و ، سیدھے اسٹوڈیو میں انٹرویو لیں گے ڈائریکٹ؟

منوج گپتا: کیمرے بھیج دیتا ہوں سر کراچی میں

جاوید چوٹاني: کراچی میں؟ کیوں ... آپ پھر مجھے کیوں بول رہے ہوبات کروانے کے لئے اور ملوانے کے لئے ... بھیج دو نمبر۔

منوج گپتا: سر ایک چھوٹا سا انٹرویو دے دو

داؤد: نہیں انٹرویو نہیں

کچھ دیر رک کر ......

منوج گپتا: سر آپ کہاں پر ہیں ... میں ایک کیمرے مین کو بھیج دوں کراچی میں۔

داؤد کا معاون : افطار کا ٹائم ہے ... جانے دے بیٹا۔

منوج گپتا: سر ایک انٹرویو کر وادو داؤد صاحب سے

منوج گپتا: سر ایک بار مل لو مجھ سے

داؤد: مل لیتے ہیں

داؤد کا معاون : کہاں ہے

منوج گپتا: میں دہلی میں ... بتاؤ سر آپ کے پاس آ جاؤں۔

داؤد کا معاون : دہلی میں  ہو .. دبئی آ جا، دبئی آ جا

منوج گپتا: دبئی کب سر؟

منوج گپتا: سر کیمرے بھیج دوں کراچی میں

تھوڑی دیر رک کر ....

منوج گپتا: ہیلو

داؤد کا معاون : یہ کوئی ٹائم ہے انٹرویو کرنے کا .... افطار کا ٹائم ہے، کوئی نماز کا ٹائم ہوتا ہے، تھوڑا دھیان تو دو یار

منوج گپتا: ایک چھوٹا سا انٹرویو کرا دو 2 منٹ کا

منوج گپتا: داؤد ابراہیم صاحب بول رہے ہیں۔

داؤد: اچھا بول

داؤد کا معاون : اچھا بولو کیا پوچھنا چاہ رہے ہو

تھوڑی دیر رک کر ....

منوج گپتا: کچھ وقت دیجئے سر

داؤد کا معاون : جب دل کرے

منوج گپتا: کب آؤں سر

داؤد کا معاون : اینی ٹائم (کبھی بھی)۔

کچھ دیر رک کر ...

منوج گپتا: سر کرا دو ایک بار بات

داؤد کا معاون : ہاں تم نمبر دو اپنا، میں کرا دیتا ہوں۔

منوج گپتا: ہاں .. 90۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

داؤد: لکھ

داؤد کا معاون : کہاں لوگے انٹرویو، براہ راست اسٹوڈیو میں لوگے انٹرویو

منوج گپتا: ہم فون پر لیں گے انٹرویو

داؤد کا معاون : ہم فون پر نہیں دیتے انٹرویو

منوج گپتا: کیمرہ بھیج دیتا ہوں آپ کے پاس کراچی میں

داؤد کا معاون : جب آپ کو سب پتہ ہے تو مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہو ملوانے کے لئے

داون کا معاون : بھیج دو اور ایک کام کرنا ساتھ میں آپ بھی آ جانا

داؤد کا معاون : اب ہماری بات تب ہو گی جب آپ ہمارے سامنے ہوں گے۔

کچھ دیر رک کر ....

داؤد: ان کا نام کیا ہے

جاوید چوٹاني: آپ کا نام کیا ہے ... آپ کا نام کیا ہے ویسے

منوج گپتا: جی سر منوج گپتا

داؤد: لکھ

جاوید چوٹاني: بے فکر ہوجاو .... نمبر نوٹ کر لیا ہے میں نے آپ کا ، نام بھی ... انشاء اللہ کرتے ہیں۔

منوج گپتا: طبیعت ٹھیک ہے؟

داؤد کا معاون : الحمدللہ، فرسٹ کلاس

منوج گپتا: سر یہ جو درمیان افواہ اڑ رہی تھی کہ آپ کو ہارٹ اٹیک آگیا اور آپ کو گیگرين ہو گیا۔

داؤد: بی پی بڑھ گیا تھا ایک بار .. بی پی بڑھ گیا تھا ایک بار

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز