مایا وتی کی نظرمیں داڑھی ٹوپی والا مسلمان کٹر پنتھی ، بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کیلئے دیا ٹکٹ : اعظم خاں

Feb 18, 2017 08:44 PM IST | Updated on: Feb 18, 2017 08:50 PM IST

پرتاپ گڑھ : اتر پردیش کے کابینی وزیر اعظم خاں نے مایاوتی کے سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کا ذکر کرتے ہوئے کہاہے کہ مسلم کٹر پنتھی کو ووٹ دینے سے بہتر ہے کہ بی جے پی کو ووٹ دے دو ۔ انکی نظر میں داڑھی ٹوپی والا مسلمان کٹر پنتھی ہوتا ہے ۔انہوں نے اپنے دورے اقتدار میں متعدد پارکوں کی تعمیر کرائی لیکن کسی مسلم بزرگ شخصیت کے نام سے منسوب نہیں کیا یہ ہے مسلمانوں کو سو ٹکٹ دینے والی ہمدرد کا چہرہ ۔

اتر پردیش میں پرتاپ گڑھ ضلع ہیڈکواٹر پر کے پی کالج کے احاطے میں ہفتہ کو منعقد انتخابی جلسے کو خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مذکورہ تاثرات کا اظہار کیا ۔ مسٹر خاں نے کہا کہ مایاوتی نے مسلمانوں کو ایک سو ٹکٹ بی جے پی کو فائدہ پہونچانے کیلئے دیا ہے ،تاکہ دو مسلم امیدوار آپس میں لڑ کر ناکام ہو جائیں اور براہ راست بی جے پی کو فائدہ پہونچے اور اس کے امیدوار کامیاب ہو جائے ۔

مایا وتی کی نظرمیں داڑھی ٹوپی والا مسلمان کٹر پنتھی ، بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کیلئے دیا ٹکٹ : اعظم خاں

پی ٹی آئی

اگر وہ مسلمانوں کی بڑی ہمدرد ہیں تو 403 سیٹوں پر ٹکٹ کیوں نہیں دیا ؟ انہیں سیٹوں پر کیوں دیا جہاں دوسرے مسلم امیدوار ہیں ۔ انہوں کہا کہ مایاوتی نے جوہر یونیور سٹی پر اپنے دور اقتدار میں بلڈوزر چلوا کر مسلمانوں کو اعلی تعلیم سے محروم کرنے کی کوشش کیا ۔انہوں نے گجرات کے گزشتہ اسمبلی الیکشن کے متعلق کہا کہ وہاں فسادات کی یاد دلا کر و دھمکی دے کر بی جے پی نے مسلمانوں کےووٹ حاصل کیا۔

بادشاہ ذات ،دھرم و آر ایس ایس کے نام پر عوام کو ٹھگ رہے ہیں ۔ مودی کا نام لئے بغیر کہا کہ میں تو انہیں بادشاہ کہتا ہوں ۔۔ادشاہ نے دو سال میں 80 کروڑ کے کپڑے پہن ڈالے ۔ غریب کے بینک کھاتہ میں روپیہ ڈالنے کا وعدہ کیا لیکن ان کا یہ وعدہ جھوٹا ثابت ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ بادشاہ بغیر کسی اطلاع کے افغانستان سے پاکستان پہونچ گئے جنہوں نے ہمارے پانچ فوجیوں کے سر کاٹے تھے وہاں کمرے میں ہندوستان کے دشمن بیٹھے ہوئے تھے کیا بات ہوئی کس مسائل کا تصفیہ کیا گیا اس کو آج تک واضح نہیں کیا جا رہا ہے ۔

انہوں نے بدایوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بچی کی آبروریزی کا معاملہ بادشاہ نے اقوام متحدہ پہونچایا جس میں یہاں کی حکومت کے برخاست ہونے کا خطرہ لاحق تھا ۔جب ہم نے دادری سانحہ کے معاملے پر اقوام متحدہ کو مکتوب ارسال کیا تو ہم کو غدار کہا گیا کیوں کہ ہم مسلمان ہیں۔ بادشاہ موت کے بعد فائدہ ملنے کا منصوبہ بنانے میں مصروف ہیں جب کہ زندگی میں فائدے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے ملائم اکھلیش تنازعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں تنہا شخص تھا اور دونوں فریقوں میں مصالحت کیلئے کوشاں تھا اور کامیابی ملی ۔ انہوں نے سماج وادی پارٹی کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز