پرائیویٹ پارٹ کاٹ کر فوج سے ریپ کا بدلہ لے رہی ہیں خواتین دہشت گرد: اعظم خاں

Jun 28, 2017 03:30 PM IST | Updated on: Jun 28, 2017 04:14 PM IST

لکھنئو۔ سماج وادی پارٹی کے قدآور لیڈر اعظم خاں ایک بار پھر اپنے متنازعہ بیان کو لے کر شہ سرخیوں میں ہیں۔ اس بار ان کے نشانے پر رہی ہے بھارتی فوج۔ اعظم خان نے فوج پر سنگین الزام لگاتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ عصمت دری کے معاملات میں بھی شامل رہتی ہے۔ رام پور میں ایک پروگرام کے دوران انہوں نے یہ الزام لگائے۔ انہوں نے کہا اروناچل، آسام، جھارکھنڈ، بنگال، تریپورہ اور جموں اور کشمیر میں خواتین نے فوج کے جوانوں کو مارا۔

پرائیویٹ پارٹس کاٹ کر ریپ کا بدلہ لے رہی ہیں خواتین دہشت گرد

پرائیویٹ پارٹ کاٹ کر فوج سے ریپ کا بدلہ لے رہی ہیں خواتین دہشت گرد: اعظم خاں

اعظم نے کہا، "ہتھیار بند عورتوں نے فوج کو مارا۔ وہ لاشوں سے ان کے پرائیویٹ پارٹس کو کاٹ کر لے گئیں۔ وہ ہندوستان کی اصل زندگی کا پردہ اٹھاتی ہیں۔ بہت سے لوگ فوجی کے یا بے گناہوں کے سر اتارتے ہیں۔ بہت سے لوگ ہاتھ کاٹتے ہیں۔ لیکن اس موقع پر خواتین دہشت گرد فوج کے پرائیویٹ حصے کو کاٹ کر لے گئیں۔ انہیں ہاتھ سے شکایت نہیں تھی، انہیں سر سے شکایت نہیں تھی، پاؤں سے بھی نہیں تھی۔ جسم کے جس حصے سے انہیں شکایت تھی وہ اسے کاٹ کر اپنے ساتھ لے گئیں۔ یہ کتنا بڑا پیغام ہے جس پر پورے ہندوستان کو شرمندہ ہونا چاہئے اور سوچنا چاہئے ہم دنیا کو کیا منہ دکھائیں گے۔

لوگ بیلٹ کی جگہ بلٹ کی بات کر رہے ہیں

اعظم خاں نے کہا، "1947 میں جب ملک آزاد ہوا تو ایک طریقہ اپنایا کہ یہ ملک قانون کا ملک ہو گا۔ ایک کتاب ہو گی، یہ کتاب مذہبی کتاب تو نہیں ہو گی۔ اس کتاب کو تمام لوگ مانیں گے۔ لیکن آزادی کے چھ دہائی کے بعد اس کتاب کے رستے سے ہٹ گئے۔ ہندوستان میں سیاسی لوگ بیلٹ کی جگہ بلٹ کی بات کر رہے ہیں۔

اعظم کے اس بیان کے بعد بی جے پی نے جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن اپنے آپ کو آئی ایس آئی ایس کا حامی قرار دے دے۔ بی جے پی ترجمان سنبت پاترا نے کہا، "اکھلیش یادو اور ملائم سنگھ یادو اس بات کا جواب دیں کہ کیا وہ اعظم خاں کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ نہیں؟"

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز