اعظم گڑھ کے اس گاؤں میں نوجوانوں میں اب بھی خوف ہے برقرار، نام لیتے ہی نہیں ملتی نوکری

Feb 26, 2017 09:15 AM IST | Updated on: Feb 26, 2017 09:16 AM IST

لکھنئو۔ اترپردیش کے اعظم گڑھ ضلع سے تقریباً 35 کلومیٹر دور واقع سنجر پور گاؤں دیکھنے میں پوروانچل کے دیگر گاووں کی طرح ہی لگا۔ گاؤں کی ایک چھوٹی سی مارکیٹ، چوڑی-بندی، کیرانے، مٹھائی کی دوکان کے ساتھ پان کی گمٹی اور جھانسی کے اسپیشل بتاشے کا ٹھیلا۔

دراصل، جھانسی کے اسپیشل بتاسے کے ٹھیلے کا ذکر اس لئے کیا کیونکہ نیوز 18 کی ٹیم جب انتخابات کی کوریج کے لئے پوروانچل کے گاؤں میں پہنچی تو یہ ٹھیلا سبھی جگہ دیکھنے کو ملا۔

اعظم گڑھ کے اس گاؤں میں نوجوانوں میں اب بھی خوف ہے برقرار، نام لیتے ہی نہیں ملتی نوکری

سنجر پور گاؤں میں بھی سب کچھ ویسا ہی تھا۔ بس تھی تو ایک خاموشی۔ ڈر کا خوف۔ اس کی وجہ بھی ہے، کیونکہ اس گاؤں پر ایک الزام ہے۔ الزام لگا ہے کہ اس گاؤں میں 'دہشت گردوں کی فیکٹری' ہے۔ یہاں سے 'دہشت گرد پیدا' ہوتے ہیں۔

یہ الزام اس گاؤں پر لگا ہے جس کے رکن پارلیمنٹ ایس پی سرپرست ملائم سنگھ یادو ہیں۔ نوجوانوں میں خوف ایسا ہے کہ وہ اب گاؤں سے باہر نہیں جانا چاہتے۔

گزشتہ آٹھ سال سے دہشت میں ہے گاؤں

sanjarpur-youth2

دراصل 19 ستمبر 2008 سے پہلے سب کچھ معمول تھا۔ لیکن اس دن صبح 10.30 بجے کے قریب دہلی کے جامعہ نگر میں دہلی پولیس کے انسپکٹر موہن چندر شرما کی قیادت میں پولیس نے ایک فلیٹ میں چھاپہ مارا۔

اس دوران دونوں طرف سے فائرنگ ہوئی جس میں انسپکٹر موہن چندر شرما سمیت دو انڈین مجاہدین کے مبینہ نوجوان مارے گئے۔ اس انکاؤنٹر میں تین نوجوان فرار ہونے میں کامیاب رہے جبکہ ایک کو پکڑ لیا گیا۔

پکڑے گئے نوجوان کا نام شہزاد احمد تھا جسے 2013 میں نچلی عدالت نے دہشت گرد مانتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔ شہزاد بھی اعظم گڑھ ضلع کا ہی رہنے والا ہے۔

اسی گاؤں سے سیف کی ہوئی تھی گرفتاری

سنجر پور کے لئے مصیبتوں کا پہاڑ اس وقت ٹوٹا جب پولیس نے محمد سیف کو دہلی اسٹیشن سے گرفتار کیا۔ سیف اسی گاؤں کا رہنے والا ہے اور دس بھائیوں میں چوتھے نمبر کا ہے۔ سیف پر الزام ہے کہ وہ بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کے دوران بھاگے گئے ملزمان میں سے ایک ہے۔ اسی طرح اسی گاؤں کے دو دیگر کو بھی گرفتار کیا گیا۔

پولیس کے مطابق انہوں نے بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کے دوران فرار مبینہ تینوں دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا۔ لیکن اس گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ انکاؤنٹر ہی فرضی ہے اور ملک میں میڈیا اور سیاسی پارٹیاں ایک کمیونٹی خاص کو ٹارگٹ کر رہی ہیں۔

دراصل یہ ایسا معاملہ ہے جس میں عدالت کے فیصلے کے بعد بھی بہت سے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ لہذا نیوز 18 نے بات کی محمد سیف کے والد محمد شاداب سے۔ آج کل شاداب بھائی سماج وادی پارٹی کے لیڈر ہیں اور اس بار انتخابات میں سماج وادی پارٹی کے لئے ووٹ مانگ رہے ہیں۔

شاداب نے بتایا کہ ان کا بیٹا سیف اس وقت احمد آباد کی جیل میں بند ہے۔ انہوں نے کہا کہ 19 ستمبر کی رات ان کے بیٹے کا فون آیا کہ وہ گھر واپس آ رہا ہے۔ لیکن اس کے بعد اطلاع آئی کہ پولیس اسے 13 ستمبر کو دہلی لے گئی۔

shadab

شاداب کہتے ہیں کہ انکاؤنٹر ہی فرضی تھا۔ ان کا بیٹا تاریخ میں ایم اے کرنے کے بعد کمپیوٹر سیکھنے کے لئے دہلی گیا تھا۔ ویسے وہ اسے بھیجنا نہیں چاہتے تھے۔ شاداب نے کہا کہ اس واردات کے بعد سے ان کا ایک اور بیٹا ڈاکٹر شاہنواز بھی غائب ہے۔ شاہنواز لکھنؤ کے میو اسپتال میں کام کرتا تھا۔

شاداب کے مطابق 19 تاریخ کو شاہنواز کا فون آیا، "ابو بہت ڈر لگ رہا ہے۔ کیا کروں۔"

انہوں نے کہا اس کے بعد سے اس کا کوئی پتہ نہیں ہے۔ اب تو یہی کہوں گا نہ ہی لوٹے تو اچھا ہے۔ کیونکہ اس کے آنے سے خاندان کی بھی مصیبتیں بڑھ جائیں گی۔ اس کے علاوہ جیل کی زندگی سے موت بہتر ہے۔

چھ اور لڑکے لاپتہ

تین لڑکوں کی گرفتاری کے علاوہ اس گاؤں کے چھ اور نوجوان ہیں جو غائب ہیں۔ محمد شاکر کے بھائی محمد ساجد کا بھی کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی سے لے کر صدر تک، سب جگہ فریاد لگائی، لیکن کوئی سنوائی نہیں ہوئی۔

sanjarpur-youth4

ساجد کا فوٹو مانگنے پر انہوں نے انکار کر دیا۔ شاکر نے کہا، "اس کی تمام تصویر پولیس اہلکار اپنے ساتھ لے گئے اب کوئی نشانی نہیں بچی ہے۔"

نوجوانوں کو نہیں ملتی ملازمت

اس گاؤں میں نوجوان ڈرا سہما ہے۔ کام دھندہ کوئی نہیں ہے لیکن کام کے لئے تلاش میں باہر جانے سے ڈر لگتا ہے۔ گاؤں کا نام لیتے ہی لوگ شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور کوئی کام بھی نہیں دیتا۔

sanjarpur-youth2 5

نوجوان عارف نے بتایا کہ، "کہاں جائیں؟ بیکار پڑے ہیں کوئی کام کاج ہے ہی نہیں۔ باہر جانے پر بھی کام نہیں ملتا۔ ڈر یہ بھی ہے کہ اوروں کی طرح انہیں بھی نہ پھنسا دیا جائے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز