بابری مسجد ایکشن کمیٹی نے سرکاری اخراجات پر اجودھیا میں دیوالی منانے پر اٹھائے سوالات ، کہی یہ بات ؟

Oct 19, 2017 08:00 PM IST | Updated on: Oct 19, 2017 08:00 PM IST

لکھنو : اترپردیش بابری مسجد ایکشن کمیٹی نے یوگی حکومت کے ذریعہ سرکاری اخراجات پر اجودھیا میں دیوالی منانے اور بھگوان رام کی 108 فٹ اونچی مورتی نصب کرنے کے اعلان پر اعتراض کیا ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ ایسا لگاتا ہے کہ ریاست کی حکومت سبھی مذاہب کی نہ ہو کر خود کو مخصوص مذہب کے ماننے والوں کی حکومت سمجھ کر کام کررہی ہے۔ کمیٹی نے گزشتہ روز عدالت میں زیر سماعت بابری مسجد کے معاملہ پر بھی تبادلہ خیال کیا اور معاملہ کی پیروی کیلئے ظفر یاب جیلانی کو مقرر کیا ۔

مولانا محمد ادریس بستوی کی صدارت میں بابری مسجد ایکشن کمیٹی کی میٹنگ منعقد ہوئی۔ میٹنگ میں ریاستی حکومت کے ذریعہ اجودھیا میں سرکاری سطح پر دیوالی منانے اور بھگوان رام کی مورتی کے نصب کے فیصلہ پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ میٹنگ میں کہا گیا کہ ریاست کی موجود یوگی حکومت خود کو ایک مخصوص مذہب کے ماننے والوں کی حکومت سمجھ کر کام کررہی ہےجبکہ ہندوستان کے آئین کے مطابق سرکار کا کسی بھی مخصوص مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے ۔ سبھی مذاہب کا احترام کرنا اور سبھی مذاہب کے پیروکاروں کو یکساں طور پر دیکھا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

بابری مسجد ایکشن کمیٹی نے سرکاری اخراجات پر اجودھیا میں دیوالی منانے پر اٹھائے سوالات ، کہی یہ بات ؟

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز