سپریم کورٹ کی پہل سے رام للا اور نرموہی اکھاڑہ کے وکیلوں کو ایودھیا تنازع کے حل ہونے کی امید

Aug 06, 2017 06:18 PM IST | Updated on: Aug 06, 2017 06:18 PM IST

اجودھیا: ملک کے اہم مقدموں میں شمار اجودھیا کے متنازعہ بابری مسجد اراضی کے مقدمہ کی سماعت سپریم کورٹ میں 11 اگست سے شروع کئے جانے کے اعلان سے اس سے وابستہ فریقوں کے ساتھ ہی عام لوگ بھی فیصلہ جلد آنے کی توقع کر رہے ہیں۔

اجودھیا کے مندر -مسجد تنازعہ سے اب تک اربوں روپئے کا مالی نقصان ہونے کے ساتھ ہی کئی جانیں بھی جا چکی ہیں۔ گجرات کا گودھرا معاملہ اور وہاں کے فساد کی اصل وجہ بھی یہی تنازعہ تھا۔ ملک و بیرون ملک کی توجہ اکثر اپنی جانب کھینچنے والے اس مسئلہ کی وجہ سے وقت فوقتاً لوک سبھا، راجیہ سبھا، اسمبلی اور قانون ساز کونسل کی کارروائی میں رخنہ پڑا۔

سپریم کورٹ کی پہل سے رام للا اور نرموہی اکھاڑہ کے وکیلوں کو ایودھیا تنازع کے حل ہونے کی امید

تنازعہ سے وابستہ فریق نرموہی اکھاڑہ کے وکیل رنجیت لال ورما کہتےہیں کہ وہ 65 برسوں سے زیادہ وقت سے مقدمہ لڑتے لڑتے اب تھک چکے ہیں، ملک کے مفاد میں اب اس کا فیصلہ ہو ہی جانا چاہئے۔

’رام للا‘ کی جانب سے وکیل مدن موہن پانڈے بھی پرامید ہیں کہ مندر/مسجد تنازعہ کے حل کا وقت آگیا ہے۔ مرکزی سنی وقف بورڈ کے وکیل اور بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر ظفریاب جیلانی کہتے ہیں کہ وہ تو کافی دنوں سے یہی مطالبہ کر رہے تھے۔ مسٹر جیلانی نے کہاکہ بات چیت سے بھی مسئلہ کے حل کی کئی کوششیں ہوئی ہیں، لیکن دونوں فریقوں کے اڑیل موقف کی وجہ سے عدالت ہی آخری امید ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز