اجودھیا تنازعہ: جمعیۃ علماہند کے بعد اب ہندوفریق نے شروع کی بحث، آئندہ سماعت 6 جولائی کو

بابری مسجد رام جنم بھومی ملکیت تنازعہ کی سپریم کورٹ میں گذشتہ کئی ماہ سے جاری سماعت کے دوران آج پھر معاملے کی سماعت ہوئی۔ اس کے بعد معاملہ کی آئندہ سماعت 6 جولائی کو ہوگی۔

May 17, 2018 09:10 PM IST | Updated on: May 17, 2018 09:17 PM IST

نئی دہلی:  بابری مسجد رام جنم بھومی ملکیت تنازعہ کی سپریم کورٹ میں گذشتہ کئی ماہ سے جاری سماعت کے دوران مسلم تنظیموں کی نمائندگی کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے مقرر کردہ وکلاء ڈاکٹر راجیو دھون اورڈاکٹر راجو رام چندرن کی مدلل اور تفصیلی بحث کے بعد آج ہندوفریقین کے وکلاء نے بحث شروع کی اور عدالت کو یہ بتانے کی کوشش کہ بابری مسجد ملکیت کا معاملہ ایک عام پراپرٹی تنازعہ ہے، جس کی سماعت تین رکنی بینچ ہی کرنے کی اہل ہے ۔

رام جنم بھومی فریق کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر وکیل کے پراسارن نے بحث کا آغاز کیا اورعدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر اسماعیل فاروقی فیصلہ کا سہارا لیکر مسلم فریقین یہ چاہتے ہیں کہ اس معاملے کی سماعت کثیر رکنی بینچ کے سامنے ہو جو سراسر غیر آئینی ہے کیونکہ اسماعیل فاروقی فیصلہ درست ہے جس پر نظر ثانی کی قطعی ضرورت نہیں ہے ۔

اجودھیا تنازعہ: جمعیۃ علماہند کے بعد اب ہندوفریق نے شروع کی بحث، آئندہ سماعت 6 جولائی کو

سپریم کورٹ: فائل فوٹو

سینئر وکیل پراسارن نے عدالت کے سامنے متعدد فیصلوں کی نقول پیش کرکے یہ بتانے کی کوشش کہ اسماعیل فاروقی فیصلہ کے وقت تمام حقائق عدالت کے سامنے پیش کیئے گئے تھے لہذا آج پھر ان حقائق پر بحث کرنا فضول ہے، لہذا عدالت کو اس بات پر فوراً فیصلہ کرلینا چاہئے

سینئر وکیل پراسارن کی بحث کے بعد دیگر وکلاء نے بحث شروع کی، جنہیں عدالت نے متنبہ کیا کہ وہ اپنی بحث کو طول نہ دیں جس طرح ایک مخصوص عنوان پر ڈاکٹر راجیو دھون نے بحث کی ہے، وہ بھی اپنے آپ کو محدود رکھ کر بحث کریں۔

ہندو فریقین کی بحث کے بعد ڈاکٹر راجیو دھون نے عدالت سے درخواست کی کہ انہیں جواب دینے کے لئے وقت دیا جائے کیونکہ مخالف فریقین عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں جسے قبول کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ رام جنم بھومی فریق کے وکلاء کی بحث کے بعد وہ اپنی جوابی بحث کرسکتے ہیں ۔

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ تین ماہ سے چیف جسٹس دیپک مشراء کی سربراہی والی اس تین رکنی بینچ میں جسٹس عبدالنظی اور جسٹس بھوشن شامل ہیں بینچ کے روبرو جاری جمعیۃ علماء کے وکلاء ڈاکٹر راجیو دھون اور ان کی معاونت کرنے والے سینئر وکیل راجو رام چندرن کی بحث کا اختتام عمل میں آیا تھا جس کے بعد عدالت نے دیگر فریقین کو بحث کرنے کا موقع دیا تھا۔بابری مسجد کی ملکیت کے تنازعہ کو لیکر سپریم کورٹ آف انڈیا میں زیر سماعت پٹیشن نمبر 10866-10867/2010 پر بحث میں سینئر وکلاء کی معاونت کے لیئے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ جارج، ایڈوکیٹ تانیا شری، ایڈوکیٹ اکرتی چوبے ، ایڈوکیٹ قراۃ العین، ایڈوکیٹ مجاہد احمد و دیگر موجود تھے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز