مسجدوں کی طبقاتی تقسیم کسی بھی قانون میں تسلیم شدہ نہیں : پروفیسر طاہر محمود

Aug 09, 2017 10:49 PM IST | Updated on: Aug 09, 2017 10:49 PM IST

نئی دہلی: اسلامی قانون پر متعدد کتابوں کے مصنف پروفیسر طاہر محمود نے جن کی تصانیف کے حوالے عدالتی فیصلوں میں اکثر دئیے جاتے ہیں ،واضح کیا ہے کہ مساجد کی طبقاتی تقسیم کسی بھی قانون میں مسلّمہ نہیں ہے۔ یوپی کے شیعہ وقف بورڈ کی طرف سے اجودھیا کی مسجد کے بارے میں اختیار کئے گئے حالیہ موقف کے حوالے سے انھوں نے کہاکہ اوّل تو کسی بھی مسجدپر اسے بنانے والے کی ملکیت قائم ہی نہیں ہوتی ہے کہ اسکے طبقے کے افراد آئندہ کبھی بھی اس پر مالکانہ حقوق کا دعویٰ کر سکیں، اور پھر ہرمسجد صرف مسجد ہوتی ہے، ان میں سنّی شیعہ کی تقسیم نہ تو اسلامی قانون کے مطابق ہے اور نہ ہی ملکی قانون اسے تسلیم کرتا ہے۔

ماضی کے کچھ مقدمات میں مسلمانوں کے کچھ طبقوں نے مخصوص مسجدوں کے استعمال کو اپنے تک محدود رکھنے کے دعوے کئے تھے مگر ملکی عدالتوں نے انھیں کبھی بھی تسلیم نہیں کیا۔ انھوں نے بتایا کہ اس ایشو پرمتعدد عدالتی نظائر موجود ہیں جن میں الہٰ آباد ہائی کورٹ کے کئی فیصلے بھی شامل ہیں اور یہ سب شرعی قانون سے پوری طرح مطابقت رکھتے ہیں ۔ شیعہ وقف کا بورڈ کا یہ دعویٰ کہ اجودھیا کی تباہ شدہ مسجدشیعوں کی مسجد تھی اور وہی اسکے متعلق کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں قانون کے تحت قطعاً غلط اور ناقابل قبول ہے۔

مسجدوں کی طبقاتی تقسیم کسی بھی قانون میں تسلیم شدہ نہیں : پروفیسر طاہر محمود

پروفیسرطاہر محمود نے مزید کہا ہے کہ ہم شیعہ وقف بورڈ کی اس رائے سے متّفق ہیں کہ اس 25 سال پرانے قضیے کا فیصلہ اب جلد از جلد ہو ہی جانا چاہئیے اور حل بھی ایسا نکالا جانا چاہءئے کہ اس سے آپسی نزاع کا ایک اور مستقل باب نہ کھل جائے، تاہم مسلمانوں کے کسی خاص طبقے کا مسجد کی زمین پر مالکانہ حقوق یا اس سے متعلق کوئی فیصلہ کرنے کا بلا شرکت غیرے اختیار رکھنے کا دعویٰ شریعت اور ملکی قانون دونوں کے خلاف ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز