بابری مسجد انہدام کے 25 سال: دردناک لمحوں کی داستان

Dec 06, 2017 11:24 AM IST | Updated on: Dec 06, 2017 11:26 AM IST

لکھنئو۔ سنہ 80 کی دہائی میں سریو ندی کے کنارے پر آباد اجودھیا سال میں صرف ایک بار اس وقت سرخیوں میں آتا تھا جب نیپال سے ہندوستان آنے والی ندیوں میں سیلاب آ جاتا تھا۔  یا پھرپانچ سالوں میں ایک بارجب الیکشن کے دنوں میں کمیونسٹ پارٹی فیض آباد اور اجودھیا کو لال رنگ سے رنگ دیتی تھی۔ کئی برسوں تک فیض آباد وسطی اتر پردیش میں کمیونسٹوں کا گڑھ بنا رہا۔

لیکن یہ سب جلد ہی بدلنے والا تھا۔ اس کی جڑیں ہزاروں میل دور جنوبی ہندوستان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں تھیں۔ جنوری انیس سو اکیاسی میں تامل ناڈو کے میناکشی پورم گاؤں کے 200 دلتوں نے ذات پات کے بھید بھاو کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے اسلام قبول کر لیا۔ اس کے بعد شروع ہوا ان واقعات کا سلسلہ جن کے مد نظر بابری مسجد منہدم کر دی گئی۔

بابری مسجد انہدام کے 25 سال: دردناک لمحوں کی داستان

جنوری انیس سو اکیاسی میں تامل ناڈو کے میناکشی پورم گاؤں کے 200 دلتوں نے ذات پات کے بھید بھاو کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے اسلام قبول کر لیا۔ اس کے بعد شروع ہوا ان واقعات کا سلسلہ جن کے مد نظر بابری مسجد منہدم کر دی گئی۔

میناکشی پورم میں دلتوں کی تبدیلی مذہب سے لے کر منڈل۔ کمنڈل آندولن تک کے واقعات نے ہندوستانی سیاست کو بری طرح سے متاثر کیا۔ اس دہائی نے آنے والی کئی دہائیوں کے لئے سماجی۔ سیاسی تانے بانے کو بدل کر رکھ دیا۔

بابری مسجد انہدام کی 25 ویں برسی پر نیوز 18 آزاد ہندوستان کی سیاست کے سب سے اتار۔ چڑھاو بھرے دور کے واقعات پر ایک نظر ڈال رہا ہے۔ یہ کہانی ہم ان کرداروں کے ذریعہ بتا رہے ہیں جن کی زندگی ان واقعات میں الجھ کر رہ گئی۔ رام مندر آندولن سے جڑے ان میں سے کچھ  لوگ طاقتور لیڈر بن گئے، وہیں، کئی کارسیوک اب بھی مندر کے لئے مرنے کو تیار ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز