ونے کٹیار نے سی بی آئی کے کردار پر اٹھائے سوال، جیلانی نے فیصلے کا کیا خیرمقدم

Apr 19, 2017 02:32 PM IST | Updated on: Apr 19, 2017 02:32 PM IST

لکھنؤ۔  پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والے ایودھیا کے چھ دسمبر 1992 کے واقعہ کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے آج آئے حکم کے بعد کیس کے ایک ملزم اور راجیہ سبھا رکن ونے کٹیار نے مرکزی تفتیشی بيورو(سی بی آئی) کے کردار پر سوال کھڑے کرتے ہوئے کہا ہے کہ رام مندر کے لئے جیل جانا پڑے تو ان کے لیے اس سے بڑی خوشی کی اور کیا بات ہوگی۔ مسٹر کٹیار نے ٹیلی فون پر ’’یواین آئی‘‘سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر براہ راست تبصرہ سے بچتے ہوئے سی بی آئی کے کردار پر سوال اٹھایا، لیکن عدالت کے فیصلے پر انہوں نے حیرت کا اظہار ضرور کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایودھیا کا متنازعہ ڈھانچہ تباہ کرنے کے لئے جب کوئی سازش کی ہی نہیں گئی تو سازش کا مقدمہ کیسے چل سکتا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) لیڈر نے کہا کہ سی بی آئی کی پہل ہی غلط ہے۔ اگرچہ جب ان سے پوچھا گیا کہ مرکز میں آپ کی پارٹی کی حکومت ہے۔ سی بی آئی کس طرح غلط کر سکتی ہے، کیا اس میں کوئی سیاسی سازش ہے۔ اس سوال کے جواب پر انہوں نے کوئی براہ راست جواب نہیں دیا لیکن کہا، ’’مجھے جو کہنا تھا، کہہ دیا۔‘‘ انہوں نے مرکزی وزیر اوما بھارتی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ محترمہ بھارتی کو مرکزی کابینہ سے استعفی دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

مسٹر کٹیار نے کہا کہ ایودھیا میں ہر حال میں متنازعہ مقام پر خوبصورت رام مندر کی تعمیر ہونی چاہیے۔ اس کے لیے وہ ایک نہیں کئی بار جیل جانے کےلئےتیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سی بی آئی نے معاملے کو اور دلچسپ بنا دیا ہے۔ ادھر، متنازعہ احاطے کے ایک فریق سنی سینٹرل وقف بورڈ کے وکیل اور بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر ظفریاب جیلانی نے سپریم کورٹ کے احکامات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے عام لوگوں میں انصاف کے عمل کے تئیں یقین بڑھا ہے۔ مسٹر جیلانی نے ٹیلی فون پر "یواین آئی" سے کہا کہ سی بی آئی اگر سپریم کورٹ میں پہلے چلی گئی ہوتی تو فیصلہ اور جلدی آ گیا ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقدمے پر اب سپریم کورٹ کی نظر رہے گی۔اس لئے چاہ کر بھی کوئی گڑبڑی نہیں کر پائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ سی بی آئی نے سپریم کورٹ میں جانے میں تاخیر کیوں کی، لیکن عدالت کے حکم سے ملک کے سیکولر لوگوں میں انصاف کے عمل کے تئیں یقین میں اضافہ ہواہے۔ قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے ایودھیا میں متنازعہ ڈھانچے کو منہدم کرنے کے معاملے میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، ونے کٹیار اور اوما بھارتی سمیت 12 رہنماؤں کے خلاف مجرمانہ سازش کا مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔

ونے کٹیار نے سی بی آئی کے کردار پر اٹھائے سوال، جیلانی نے فیصلے کا کیا خیرمقدم

ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی کی فائل فوٹو ( تصویر: نیٹ ورک ۱۸)۔

جسٹس پناكي چندر گھوش اور جسٹس روهنگٹن ایف نریمن کی بنچ نے اس معاملے میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی اپیل قبول کرتے ہوئے یہ حکم دیا۔ بنچ کی جانب سے جسٹس نریمن نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا، ’’ہم الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سی بی آئی کی اپیل قبول کرتے ہیں اور اس سلسلے میں کچھ ہدایات جاری کرتے ہیں۔‘‘ کورٹ نے راجستھان کے گورنر مسٹر کلیان سنگھ کے خلاف فی الحال الزام طے نہ کرنے کا حکم دیا۔ بنچ نے کہا کہ مسٹر سنگھ گورنر کے آئینی عہدے پر فائز ہیں اور جب تک وہ اس عہدے سے ہٹ نہیں جاتے اس وقت تک ان کے خلاف الزامات طے نہیں کئے جائیں گے۔ مسٹر اڈوانی، مسٹر جوشی اور محترمہ بھارتی کے علاوہ جن لیڈروں کے خلاف مقدمے چلائے جائیں گے ان میں بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ونے کٹیار، سادھوی رتمبھرا، ستیش پردھان اور سی آر بنسل بھی شامل ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز