بابری مسجد تنازع : رام ولاس ویدانتی کا الزام ، سنی وقف بورڈ کے لئے کام کر رہے ہیں شری شری روی شنکر

Nov 17, 2017 09:48 PM IST | Updated on: Nov 17, 2017 09:49 PM IST

لکھنؤ: رام جنم بھومی تحریک کے سربراہوں میں سے ایک سینئر بی جے پی لیڈر اور سابق ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر رام ولاس ویدانتی نے یو این آئی سے فون پر بات کرتے ہوئے الزام لگایا کی شری شری روی شنکر سنی وقف بورڈ کے اشارے پر ایودھیا تنازعہ کے حل کی کوشش کے لئے آئے تھے. ڈاکٹر ویڈنتی نے کہا کہ ہم لوگ عدالت میں یقین رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب شری شری روی شنکر مسئلے کو حل کرنےبلکہ معاملہ کو الجھانے آئے تھے. مسٹر ویدانتی نے کہا کہ ایودھیا میں رام مندر تحریک سنت، راشٹري سویم سیوک سنگھ ، وشو ہندو پریشد اور بھارتیہ جنتا پارٹی چلا رہی ہے اور ہم ہی مندر کی تعمیر کروائیں گے.

ڈاکٹر ویدانتی نے کہا کہ اس تحریک میں کئی بار ہم جیل گئے اور لاٹھی کھا رہے تھے تب شری شری کہاں تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ روی شنکر غیر سرکاری تنظیمیں چلاتے ہیں اور اس کے لئے وہ دنیا بھر سے فنڈ لیتے ہیں۔مسٹر ویدانتی نے کہا شری شری روی شنکر مسلمانوں اور اتر پردیش سنی وقف بورڈ کے رابطے میں ہیں اور ان کے کہنے پر ہی وہ معاملے کو خراب کرنے کے لئے آئے تھے.

بابری مسجد تنازع : رام ولاس ویدانتی کا الزام ، سنی وقف بورڈ کے لئے کام کر رہے ہیں شری شری روی شنکر

مسٹر ویدانتی نے بتایا کہ 19 نومبر کو شیعہ وقف بورڈ ایودھیا میں سینئر سادھو سنتوں کے ساتھ میڈیا سے بات کرکے مندر تعمیر کرنے کی تفصیلات فراہم کروائیں گے۔انہوں بتایا 1926 سے ایودھیا میں ایسا قانونی ہےکہ ایودھیا میں کسی نئی مسجد کی تعمیر نہیں ہوسکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مسلمانوں کے لئے نئی مسجد کی تعمیر لکھنؤ کے کسی شیعہ اکثریت والے محلے میں ہوگی ۔

مسٹر ویدانتی نے کہا کہ سادھو سنتو میں کسی بھی طرح کا کوئی اختلاف نہیں ہے، ہم چاہتے ہیں کے مندر کی تعمیر صلح سے ہو۔ مسلم پرسنل لا بورڈ اور سنی واقف بورڈ کے وکیل ظفریاب جیلانی نے کے مطابق وہ ڈاکٹر رام ولاس ویدانتی کو قابل ذکر نہیں سمجھتے۔ اس لئے ان کی بات پر کوئی رائے دینا ٹھیک نہیں ہوگا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز