Live Results Assembly Elections 2018

بابری مسجد کی شہادت کو26 سال مکمل، امت مسلمہ کے زخم آج بھی تازہ کیونکہ اب تک نہیں مل سکا ہے انصاف

اجودھیا میں 6 دسمبر1992 کوہزاروں شدت پسندوں نے سولہویں صدی کی عظیم ترین بابری مسجد کو شہید کرکے ملک کے آئین اورقانون کوبھی بالائے طاق رکھ دیا تھا اوربابری مسجد کی شہادت کے 26 سال مکمل ہوچکے ہیں۔

Dec 05, 2018 10:08 PM IST | Updated on: Dec 06, 2018 08:44 AM IST

نئی دہلی: آج 6 دسمبرہے، آج سے 26 سال قبل یعنی 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کو شہید کردیا گیا تھا، جس کے زخم ملت اسلامیہ آج بھی نہیں بھول پائی ہے۔ 26 سال گزرجانے کے بعد بھی بابری مسجد اورپوری دنیا کے مسلمان انصاف اورامید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں، لیکن ابھی تک بابری مسجد کے قاتلوں کو سلاخوں کے پیچھے پہنچاکرانہیں سزا نہیں دی گئی ہے، ساتھ ہی ہندو شدت پسند تنظیموں اوربابری مسجد شہید کرنے والے لیڈران کے حوصلے آج بھی بلند ہیں۔

بابری مسجد کی 26 ویں برسی پردارالحکومت دہلی میں مختلف ملی وسماجی تنظیموں اورسرکردہ شخصیات کی جانب "یوم سیاہ" کےطورپرمنانے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل دارالحکومت دہلی کے علاوہ مختلف شہروں میں بابری مسجد کی یوم شہادت کو"یوم سیاہ" کے طورپرمناتی رہی ہیں۔ وہیں ہندو شدت پسند تنظیمیں جس میں بالخصوص وشو ہندو پریشد اوربجرنگ دل شامل ہیں یوم شجاعت (سوریہ دیوس) کے طورپرمناکرمسلمانوں کے جذبات سے کھلواڑ کرتی ہیں۔

بابری مسجد کی شہادت کو26 سال مکمل، امت مسلمہ کے زخم آج بھی تازہ کیونکہ اب تک نہیں مل سکا ہے انصاف

بابری مسجد: فائل فوٹو

Loading...

اجودھیا میں 6 دسمبر 1992 کوکارسیوکوں، شیو سینکوں اوربجرنگ دل اوروشو ہندوپریشد کے لوگوں نے مل کربابری مسجد کو شہید کردیا تھا اوراس وقت کی مرکزمیں نرسمہا راو کی حکومت اوراترپردیش میں کلیان سنگھ حکومت نے خاموش تماشائی بن کرملک کے وقاروجذبات اورآئین کو ٹھیس پہنچاتے ہوئے سپریم کورٹ سے بابری مسجد کو بچانے کے وعدے سے انحراف کرتے ہوئے شہید ہوجانے دیا تھا۔

دراصل یہ معاملہ ابھی عدالت عظمیٰ میں زیرغورہے، لیکن مختلف شدت پسند ہندو تنظیموں اوربرسراقتدارجماعت بی جے پی اورشیو سینا کے کئی لیڈران کی جانب سے سپریم کورٹ کو درکنارکرتے ہوئے رام مندرتعمیرکئے جانے کا مطالبہ حالیہ دنوں میں زوروشورسے اٹھایا گیا ہے۔ حالانکہ ابھی تک اس معاملے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

اجودھیا میں کب کیا ہوا؟

سن 1528 : ایودھیا میں مغل شہنشاہ بابر نے یہ مسجد تعمیر کروائی تھی ، جس کی وجہ سے اس کو بابری مسجد کے نام سے جانا جاتا تھا۔

سن 1853 :ہندوؤں کا الزام کہ بھگوان رام کے مندر کو توڑ کر مسجد کی تعمیر ہوئی اور اس کو لے کر ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان پہلی مرتبہ تنازع ہوا۔

سن 1859: برطانوی حکومت نے تاروں کی ایک باڑ کھڑی کرکے اندرونی اور بیرونی احاطہ میں مسلمانوں اور ہندووں کو الگ الگ عبادت کی اجازت دے دی۔

سن 1885: پہلی بار معاملہ عدالت میں پہنچا۔ مہنت رگھوبر داس نے فیض آباد عدالت میں بابری مسجد سے متصل ایک رام مندر کی تعمیر کی اجازت کیلئے عرضی دائر کی۔

سن 1949 ، 23 دسمبر : تقریبا 50 ہندوؤں نے مسجد کے مرکزی مقام پر بھگوان رام کی مورتی رکھ دی۔ اس کے بعد اس مقام پر ہندو وں نے پوجا ارچنا شروع کردی ، جبکہ مسلمانوں نے نماز پڑھنی بند کر دی۔

سن 1950 ، 16 جنوری : گوپال سنگھ وشارد نے فیض آباد عدالت میں ایک اپیل دائر کر کے رام للا کی پوجا کی خصوصی اجازت مانگی۔ انہوں نے وہاں سے مورتی ہٹانے پر عدالتی روک کی بھی کوشش کی۔

سن 1950 ، 5 دسمبر: مہنت پرم ہنس رام چندر داس نے پوجا جاری رکھنے اور بابری مسجد میں رام مورتی رکھنے کے لئے عرضی داخل کی ۔ مسجد کو 'ڈھانچہ کا نام دیا گیا۔

سن 1959 ، 17 دسمبر: نرموہی اکھاڑا نے بابری مسجد کی منتقلی کا مقدمہ دائر کیا۔

سن 1962 ، 18 دسمبر: اتر پردیش سنی وقف بورڈ نے بابری مسجد کی ملکیت کے مقدمہ دائر کیا۔

سن 1984: وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے بابری مسجد کا تالا کھولنے اور مندر کی تعمیر کے لئے مہم شروع کی۔ ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی۔

یکم فروری، 1986:  فیض آباد ضلع جج نے ہندووں کو پوجا کی اجازت دی۔ تالا دوبارہ کھولا گیا۔ مسلمانوں نے بابری مسجد ایکشن کمیٹی کا قیام کیا۔

جون 1989: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے وی ایچ پی کی باضابطہ حمایت کرنی شروع کردی ۔

یکم جولائی 1989: بھگوان رام للا براجمان نام سے پانچواں مقدمہ دائر کیا گیا۔

نو نومبر 1989: اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی کی حکومت نے بابری مسجد کے نزدیک سنگ بنیاد کی اجازت دی۔

پچیس ستمبر 1990:  بی جے پی صدر لال کرشن اڈوانی نے گجرات کے سومناتھ سے اتر پردیش کے ایودھیا تک رتھ یاترا نکالی، جس کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ فسادات ہوئے۔

نومبر 1990: اڈوانی کو بہار کے سمستی پور میں گرفتار کر لیا گیا۔ بی جے پی نے اس وقت کے وزیر اعظم وی پي سنگھ کی حکومت سے حمایت واپس لے لی۔ سنگھ نے بائیں بازو کی جماعتوں اور بی جے پی کی حمایت سے حکومت بنائی تھی، بعد میں انہوں نے استعفی دے دیا۔

اکتوبر 1991: اترپردیش میں کلیان سنگھ حکومت نے بابری مسجد کے آس پاس کی 2.77 ایکڑ زمین کو اپنے قبضہ میں لے لیا۔

چھ دسمبر 1992: ہزاروں کی تعداد میں کار سیکوں نے ایودھیا پہنچ کر بابری مسجد شہید کردی ، جس کے بعد بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ فسادات ہوئے۔ وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ نے مسجد کی تعمیر نو کا وعدہ کیا۔

سولہ دسمبر 1992: مسجد کے انہدام کی جانچ کے لئے ایم ایس لبراہن کمیشن کی تشکیل عمل میں آئی۔

جنوری 2002: وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے اپنے دفتر میں ایک ایودھیا محکمہ شروع کیا ، جس کا کام تنازع کو حل کرنے کے لئے ہندوؤں اور مسلمانوں سے گفت و شنید کرنا تھا۔

اپریل 2002: ایودھیا کے متنازع مقام پر مالکانہ حق کو لے کر ہائی کورٹ کے تین ججوں کی بنچ نے سماعت شروع کی۔

مارچ اگست 2003: الہ آباد ہائی کورٹ کی ہدایت پرمحکمہ آثار قدیمہ نے ایودھیا میں کھدائی شروع کی ۔

ستمبر 2003: عدالت نے فیصلہ سنایا کہ مسجد کو منہدم کرنے کیلئے اکسانے والے سات ہندو لیڈروں کو سماعت کے لئے بلایا جائے۔

اکتوبر 2004: اڈوانی نے ایودھیا میں مندر کی تعمیر کی بی جے پی کے عزم کا اعادہ کیا۔

جولائی 2009: لبراہن کمیشن نے قیام کے 17 سال بعد وزیر اعظم منموہن سنگھ کو اپنی رپورٹ سونپی۔

اٹھائیس ستمبر 2010: سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کو متنازع معاملہ میں فیصلہ دینے سے روکنے والی عرضی خارج کرتے ہوئے فیصلہ سنانے کی راہ ہموار کردی ۔

تیس ستمبر 2010: الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے تاریخی فیصلہ سنایا، جس میں زمین کا بندر بانٹ کردیا گیا ۔ فی الحال یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

بابری مسجد کی شہادت پر26 سال مکمل ہونے پرنیوز18 اردو کی خصوصی رپورٹ

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز