کشمیر: سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کو بلاک کرنے کے چکر میں پورا انٹرنیٹ نظام ہی ہوا درہم برہم

Apr 27, 2017 07:46 PM IST | Updated on: Apr 27, 2017 07:46 PM IST

سری نگر: وادئ کشمیر میں سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کو بلاک کرنے کے چکر میں پورا انٹرنیٹ نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا ہے۔ اگرچہ کچھ مواصلاتی کمپنیاں بالخصوص بھارتی ائرٹیل لمیٹڈ سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کو بلاک کرکے اپنے صارفین کو ٹو جی انٹرنیٹ خدمات کی فراہمی جاری رکھنے میں کامیاب ہوئی ہے، تاہم کچھ دیگر مواصلاتی کمپنیوں نے سوشل میڈیا ویب سائٹس کو بلاک کرنے کے چکر میں اپنے صارفین کی ٹو جی انٹرنیٹ خدمات بھی کلی طور پر معطل کردی ہے۔

یہ توقع کی جارہی تھی کہ سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس پر پابندی عائد کئے جانے کے بعد تیز رفتار والی تھری جی اور فور جی انٹرنیٹ خدمات کو بحال کیا جائے گا، تاہم تاحال کسی بھی مواصلاتی کمپنی نے یہ خدمات بحال نہیں کی ہیں۔ ایک نجی مواصلاتی کمپنی کے عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا ’میرا بھی یہی خیال تھا کہ سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس پر پابندی کے بعد تھری جی اور فور جی انٹرنیٹ خدمات کو بحال کیا جائے گا۔

کشمیر: سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کو بلاک کرنے کے چکر میں پورا انٹرنیٹ نظام ہی ہوا درہم برہم

علامتی تصویر

تاہم حکومت کی جانب سے ہمیں تاحال اس حوالے سے کوئی حکم نامہ موصول نہیں ہوا ہے‘۔ خیال رہے کہ جموں وکشمیر حکومت نے بدھ کے روز وادی میں 22 سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس بشمول فیس بک، ٹویٹر، وٹس ایپ اور یوٹیوب پر ایک ماہ کی پابندی عائد کردی۔ تاہم اس پابندی کو لاگو کرنے کے چکر میں وادی میں پورا انٹرنیٹ نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا ہے۔

حیران کن بات یہ ہے کہ جہاں نجی انٹرنیٹ سروس پرائڈرس نے سوشل میڈیا پر پابندی کو گذشتہ شب مطلوبہ ویب سائٹس کو بلاک یا انٹرنیٹ کو کلی طور پر معطل کرکے لاگو کیا، وہیں سرکاری مواصلاتی کمپنی بی ایس این ایل نے اپنی براڈ بینڈ سروس پر یہ رپورٹ فائل کئے جانے تک سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کو بلاک نہیں کیا تھا۔ دوسری جانب کاروباری افراد جن کا پورا کام کاج انٹرنیٹ پر منحصر ہے، نے بتایا کہ انہیں امید تھی کہ سوشل میڈیا پر پابندی کے بعد تیز رفتار والی انٹرنیٹ خدمات کو بحال کیا جائے گا، تاہم تاحال ایسا نہیں کیا گیا ۔

انہوں نے بتایا ’ہماری کاروباری سرگرمیاں 17اپریل سے ٹھپ پڑی ہوئی ہیں۔ انٹرنیٹ کی معطلی کور جاری رکھنا ہماری روزی روٹی پر شب خون مارنے کے برابر ہے‘۔ انٹرنیٹ پر چلنے والی ایک موبائیل و ڈش ری چارج سروس کے مالک جی ایم ڈار نے یو این آئی کو بتایا ’میں اور میرے 500 ری ٹیلرز کا کام 17 اپریل سے ٹھپ پڑا ہوا ہے۔ انٹرنیت خدمات کی معطلی کے سبب میرے ری ٹیلرز موبائیل اور ڈش ری چارج نہیں کرپاتے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز