کشمیر میں سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس پر ایک ماہ کی پابندی

جموں وکشمیر حکومت نے کشیدگی کی شکار وادئ کشمیر میں سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس بشمول فیس بک، ٹویٹر اور وٹس ایپ پر ایک ماہ کی پابندی عائد کردی ہے

Apr 26, 2017 06:49 PM IST | Updated on: Apr 26, 2017 06:49 PM IST

سری نگر: جموں وکشمیر حکومت نے کشیدگی کی شکار وادئ کشمیر میں سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس بشمول فیس بک، ٹویٹر اور وٹس ایپ پر ایک ماہ کی پابندی عائد کردی ہے۔ ریاستی حکومت کے محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک حکم نامے کی رُو سے وادی میں سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کو اگلے ایک ماہ یا اگلے احکامات تک معطل رکھا جائے گا۔ خیال رہے کہ وادی گذشتہ دو ہفتوں سے سماجی ویب سائٹس کو غیرمعینہ مدت تک کے لئے معطل رکھنے کی خبریں گردش کررہی تھیں۔یہ اقدام اُس وقت اٹھایا گیا ہے جب وادی میں طالب علموں کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کی لہر شروع ہوگئی ہے۔ وادی میں سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس پر پابندی سیکورٹی سے متعلق یونیفائیڈ ہیڈکوارٹرس کے اجلاس جس کی صدارت وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کی اور جس میں وادی کی سیکورٹی صورتحال پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا، کے ایک روز بعد عائد کی گئی۔ محکمہ داخلہ کی جانب سے تمام انٹرنیٹ سروس پرووائڈرس کے نام جاری کردہ حکم نامے میں کہا گیا ہے ’وادی میں اِن سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس (فیس بک، وٹس ایپ، ٹویٹر، قیو قیو، وی چاٹ، اوزون، ٹمبلر، گوگل پلس، بیدو، اسکائپ ، وائبر، لائن، سنیپ چاٹ، پنٹرسٹ، ٹیلی گرام اور ریڈاٹ) کے ذریعے اگلے ایک ماہ یا اگلے احکامات تک کسی کو بھی پیغام یا تصویری متن منتقل نہیں کیا جائے گا‘۔

انٹرنیٹ سروس پراووائڈرس سے اس حکم نامے کو فوری طور پر لاگو کرنے کے لئے گیا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ حکومت کی جانب سے سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس پر ایک ماہ کی پابندی لگانے کا اقدام سیکورٹی فورسز کے مبینہ مظالم کی ویڈیوز اور تصاویر کو سماجی ویب سائٹس پر شیئر کرنے، احتجاجیوں کو اکٹھا ہونے سے روکنے اور کسی بھی طرح کی افواہوں کو پھیلنے سے روکنے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ گرمائی دارالحکومت سری نگر میں بیشتر میڈیا ، کارپوریٹ اور سرکاری دفاتر کو انٹرنیٹ خدمات فراہم کرنے والی نجی سروس پرووائڈر ’سی این ایس انفوٹل سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ ‘ نے اس حکم نامے سے قبل ہی اپنے صارفین کی تین معروف سماجی ویب سائٹس فیس بک، ٹویٹر اور وٹس ایپ تک رسائی 9 اپریل سے بند کر رکھی تھی۔

کشمیر میں سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس پر ایک ماہ کی پابندی

علامتی تصویر

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس نے سرکاری حکم نامے پر عمل درآمد کیا ہے۔ گذشتہ ہفتے نجی مواصلاتی کمپنی بھارتی ائرٹیل لمیٹڈ نے بھی اپنے صارفین کی فیس بک اور وٹس ایپ تک رسائی کو قریب 36 گھنٹوں تک بند رکھا تھا۔ تاہم بتایا جارہا ہے کہ یہ کمپنی کی جانب سے سماجی ویب سائٹس کو بلاک کرنے کی ایک مشق تھی۔ دریں اثنا وادی میں تمام مواصلاتی کمپنیوں بشمول بی ایس این ایل کی تھری جی اور فورجی انٹرنیٹ خدمات بدھ کو مسلسل دسویں روز بھی معطل رہیں۔ یہ خدمات 17 اپریل کو وادی کے درجنوں تعلیمی اداروں میں احتجاجی مظاہرے بھڑک اٹھنے کے بعد معطل کی گئی تھیں۔ تاہم براڈ بینڈ اور سست رفتار والی ٹو جی انٹرنیٹ خدمات کو چالو رکھا گیا ہے۔

وادی میں اس سے قبل گذشتہ ہفتے سری نگر کی پارلیمانی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے پیش نظر 9 سے لیکر 13 اپریل تک تقریباً تمام انٹرنیٹ خدمات معطل رکھی گئی تھیں۔ تاہم انٹرنیٹ خدمات کی معطلی کے باوجود پولنگ کے دوران آزادی حامی مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے مابین شدید جھڑپیں بھڑک اٹھی تھیں جن کے دوران 8 نوجوان ہلاک جبکہ قریب 150 دیگر زخمی ہوگئے تھے۔ تاہم 13 کی شام کو جب پانچ دن کی معطلی کے بعد انٹرنیٹ خدمات بحال کی گئیں تو چند ہی گھنٹوں کے اندر سماجی ویب سائٹس بالخصوص فیس پر درجنوں ویڈیوز نمودار ہوئے جن میں سیکورٹی فورسز کو احتجاجیوں کے خلاف طاقت کا بے تحاشہ استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

Loading...

ایک ویڈیو جس میں کچھ کشمیری نوجوانوں کو سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) اہلکاروں کے ساتھ ہتک آمیز طریقے سے پیش آتے ہوا دیکھا گیا نے جہاں بھارت بھر میں ہلچل مچادی تھی، وہیں سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے اپنے ٹویٹر کھاتے پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو جس میں وسطی ضلع بڈگام کے ایک شہری کو فوجی کی جانب سے اپنی جیپ کے بمپر کے ساتھ باندھ کر مختلف گاؤں کا مارچ کراتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، نے پوری دنیا میں تہلکہ برپا کردیا تھا۔ وادی میں سیکورٹی اداروں کا ماننا ہے کہ واد ی میں پاکستان نوجوانوں کو احتجاج پر اکسانے کے لئے سماجی ویب سائٹوں کا بڑے پیمانے پر استعمال کررہا ہے۔ ریاستی پولیس سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید نے 30 مارچ کو کہا کہ وادی اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی)کے دوسری طرف (پاکستان میں) آپریٹ کئے جانے والے سوشل میڈیا اور وٹس ایپ کھاتوں کے ذریعے کشمیری نوجوانوں کو اکسایا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا تھا ’ایک مسلح جھڑپ کے صرف ایک منٹ بعد قریب 300 وٹس ایپ گروپ متحرک ہوجاتے ہیں۔ ان میں کچھ گروپ سرحد کے دوسری طرف چلائے جاتے ہیں، جو ریاست اور ملک کی خوشحالی و امن کے خلاف ہیں۔ اس کے علاوہ جنگجوؤں کو بچانے کے لئے نوجوانوں کو جھڑپوں کے مقامات پر پہنچنے پر اکسانے کے لئے فیس بک کھاتوں اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کیا جاتا ہے‘۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز