کشمیر میں سوشل میڈیا پرعائد پابندی ایک ماہ بعد ختم ، کشیدگی پر قابو پانے کیلئے لگائی گئی تھی بندش

May 27, 2017 09:37 AM IST | Updated on: May 27, 2017 09:37 AM IST

سری نگر : وادی کشمیر میں سماجی رابطوں کی 22 ویب سائٹس اور ایپلی کیشنز پر گذشتہ ایک ماہ سے عائد پابندی ختم کردی گئی ہے۔  محکمہ داخلہ کے ایک اہلکار نے پابندی ہٹائے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سماجی رابطوں کی تمام ویب سائٹس اور ایپلی کیشنز تک صارفین کی رسائی گذشتہ رات بحال کروائی گئی۔ مختلف مواصلاتی کمپنیوں کے انٹرنیٹ صارفین نے بتایا کہ ان کی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور وٹس ایپ ایپلی کیشن تک رسائی گذشتہ رات قریب نو بجے بحال کی گئی۔

خیال رہے کہ ریاستی حکومت نے 26 اپریل کو وادی میں کشیدگی پر قابو پانے کے لئے فیس بک، ٹویٹر اور واٹس اپ سمیت 22 سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس پر ایک ماہ کی پابندی عائد کی تھی ۔ ریاستی حکومت کے محکمہ داخلہ کی جانب سے اس حوالے سے جاری حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ وادی میں سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کو اگلے ایک ماہ یا اگلے احکامات تک معطل رکھا جائے گا۔ اگرچہ حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس پر پابندی کا اقدام امن عامہ کے مفاد میں اٹھایا گیا ہے، تاہم مبصرین کا تب کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے یہ اقدام دراصل میں سیکورٹی فورسز کے مبینہ مظالم کی ویڈیوز اور تصاویر کو سماجی ویب سائٹس پر شیئر کرنے، احتجاجیوں کو اکٹھا ہونے سے روکنے اور کسی بھی طرح کی افواہوں کو پھیلنے سے روکنے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔

کشمیر میں سوشل میڈیا پرعائد پابندی ایک ماہ بعد ختم ، کشیدگی پر قابو پانے کیلئے لگائی گئی تھی بندش

جن 22 سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس و ایپلی کیشنز پر پابندی عائد کی گئی تھی اُن میں فیس بک، واٹس ایپ، ٹویٹر، کیو کیو، وی چاٹ، اوزون، ٹمبلر، گوگل پلس، بائیڈو، اسکائپ ، وائبر، لائن، سنیپ چاٹ، پنٹرسٹ، ٹیلی گرام، انسٹا گرام، یوٹیوٹ، ریڈاٹ اور دیگر کچھ ویب سائٹس شامل تھیں۔ تاہم وادی میں پابندی کے باوجود صارفین کی ایک بڑی تعداد ورچول پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) کی ایپلی کیشنز استعمال کرکے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور ایپلی کیشنز تک رسائی حاصل کررہے تھے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز