وادی کشمیر میں سماجی رابطہ کی ویب سائٹس پر غیر معینہ مدت کی پابندی کا امکان

Apr 19, 2017 08:11 PM IST | Updated on: Apr 19, 2017 08:11 PM IST

سری نگر: وادئ کشمیر میں حکومت کی جانب سے تمام معروف سماجی ویب سائٹس بشمول فیس بک، ٹویٹر، یوٹیوب اور وٹس ایپ پر غیرمعینہ مدت تک کے لئے پابندی لگائے جانے کی خبریں گشت کررہی ہیں۔ ان خبروں کے مطابق یہ مبینہ اقدام سیکورٹی فورسز کے مبینہ مظالم کی ویڈیوز اور تصاویر کو سماجی ویب سائٹس پر شیئر کرنے، احتجاجیوں کو اکٹھا ہونے، کسی بھی طرح کی افواہوں کو پھیلنے سے روکنے کے لئے اٹھایا جارہا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ گرمائی دارالحکومت سری نگر میں بیشتر میڈیا ، کارپوریٹ اور سرکاری دفاتر کو انٹرنیٹ خدمات فراہم کرنے والی نجی سروس پرووائڈر ’سی این ایس ‘ نے اپنے صارفین کی تین معروف سماجی ویب سائٹس فیس بک، ٹویٹر اور وٹس ایپ تک رسائی 9 اپریل سے بند کر رکھی ہے۔

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس نے سرکاری حکم نامے پر عمل درآمد کیا ہے۔ سی این ایس کے ایک نمائندے کے مطابق ہمیں ایک ہفتہ قبل حکومت کی جانب سے ایک حکم نامہ موصول ہوا جس میں ہمیں سماجی ویب سائٹس تک رسائی بند کرنے کے لئے کہا گیا۔ ہم نے اس حکم نامے پر فوری عمل درآمد یقینی بناتے ہوئے صارفین کی فیس بک اور ٹویٹر تک رسائی بند کردی‘۔ سری نگر میں سی این ایس کے تمام صارفین نے بتایا کہ وہ گزشتہ ایک ہفتے سے فیس بک اور ٹویٹر استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔ بعض میڈیا ادارے فیس بک اور ٹویٹر تک رسائی بند ہونے کی وجہ سے اپنی خبروں کی لنکس سماجی ویب سائٹس پر شیئر نہیں کرپارہے ہیں۔ مبصرین نے بتایا کہ سی این ایس کی جانب سے سماجی ویب سائٹس تک رسائی بند کرنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے وادی میں سماجی ویب سائٹس کے استعمال پر پابندی لگانے کا سلسلہ پہلے ہی شروع کردیا ہے۔ بعض رپورٹوں کے مطابق حکومت کی جانب سے سماجی ویب سائٹس پر لگائی جانے والی امکانی پابندی وادی میں موسم گرما کے چھ مہینوں تک جاری رکھی جاسکتی ہے۔

وادی کشمیر میں سماجی رابطہ کی ویب سائٹس پر غیر معینہ مدت کی پابندی کا امکان

دریں اثنا وادی میں تمام مواصلاتی کمپنیوں بشمول بی ایس این ایل کی تھری جی اور فورجی انٹرنیٹ خدمات بدھ کو مسلسل تیسرے دن بھی منقطع رہیں۔ یہ خدمات 17 اپریل کو وادی کے درجنوں تعلیمی اداروں میں احتجاجی مظاہرے بھڑک اٹھنے کے بعد معطل کی گئی تھیں۔ تاہم براڈ بینڈ اور سست رفتار والی ٹو جی انٹرنیٹ خدمات کو چالو رکھا گیا ہے۔ وادی میں اس سے قبل گذشتہ ہفتہ سری نگر کی پارلیمانی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے پیش نظر 9 سے لیکر 13 اپریل تک تقریباً تمام انٹرنیٹ خدمات معطل رکھی گئی تھیں۔ تاہم انٹرنیٹ خدمات کی معطلی کے باوجود پولنگ کے دوران آزادی حامی مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے مابین شدید جھڑپیں بھڑک اٹھی تھیں جن کے دوران 8 نوجوان ہلاک جبکہ قریب 150 دیگر زخمی ہوگئے تھے۔ تاہم 13 کی شام کو جب پانچ دن کی معطلی کے بعد انٹرنیٹ خدمات بحال کی گئیں تو چند ہی گھنٹوں کے اندر سماجی ویب سائٹس بالخصوص فیس پر درجنوں ویڈیوز نمودار ہوئے جن میں سیکورٹی فورسز کو احتجاجیوں کے خلاف طاقت کا بے تحاشہ استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

ایک ویڈیو جس میں کچھ کشمیری نوجوانوں کو سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) اہلکاروں کے ساتھ ہتک آمیز طریقے سے پیش آتے ہوا دیکھا گیا نے جہاں بھارت بھر میں ہلچل مچادی، وہیں سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے اپنے ٹویٹر کھاتے پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو جس میں وسطی ضلع بڈگام کے ایک شہری کو فوجی کی جانب سے اپنی جیپ کے بمپر کے ساتھ باندھ کر مختلف گاؤں کا مارچ کراتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، نے پوری دنیا میں تہلکہ برپا کردیا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ احتجاجیوں کی جانب سے نہ صرف احتجاجوں اور سیکورٹی فورسز کی کاروائیوں کی ویڈیو سماجی ویب سائٹس پر شیئر کی جاتی ہیں، بلکہ بعض اوقات مسلح جھڑپوں کے مقامات پر امڈ آنے والے احتجاجی عناصر فیس بک لائیو کے ذریعے براہ راست کمنٹری شروع کرلیتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وادی میں معمول کے حالات کی بحالی کے لئے سماجی ویب سائٹس کے استعمال پر پابندی حکومت کے زیر غور ہے۔ اگرچہ ذرائع نے اُن سماجی ویب سائٹس کا نام ظاہر نہیں کیا جن پر امکانی طور پر پابندی لگے گی، تاہم بتایا جارہا ہے کہ فیس بک، مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر، پیغام رسانی کی ایپلی کیشن ’وٹس ایپ‘، ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ ’یوٹیوب‘ اور وائبر کو پابندی کے دائرے میں لایا جاسکتا ہے۔ ایک مقامی روزنامے نے ایک اعلیٰ پولیس افسر کے حوالے سے کہا کہ فیس بک اور وٹس ایپ جنگجوؤں اور سنگبازوں سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ مذکورہ افسر نے کہا ہے ’انٹرنیٹ کو بار بار منقطع کرنا شرمندگی کا سبب بن رہا ہے۔ ہم فیس بک اور وٹس ایپ پر پابندی لگانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ یہ (فیس بک اور وٹس ایپ) جنگجوؤں اور سڑکوں پر پتھر چلانے والوں سے بھی خطرناک ہیں‘۔ مذکورہ افسر نے مزید کہا ہے ’افواہوں کو پھیلنے سے روکنے کے لئے ہم گذشتہ کافی عرصہ سے حکومت سے کچھ ویب سائٹوں بشمول فیس بک کو بلاک کرنے کا مطالبہ کرتے آئے ہیں‘۔ بتایا جارہا ہے کہ حال ہی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی صدارت میں منعقد ہونے والی سیکورٹی جائزہ میٹنگ میں بھی سماجی ویب سائٹوں پر پابندی لگانے کا مسئلہ زیر بحث آیا۔

بعض میڈیا رپورٹوں کے مطابق پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے بعض لیڈروں نے محترمہ مفتی کو وادی کے موجودہ حالات کے پیش نظر سماجی ویب سائٹوں پر کچھ وقت کے لئے پابندی لگانے کا مشورہ دیا ہے۔ وادی میں سیکورٹی اداروں کا ماننا ہے کہ واد ی میں پاکستان نوجوانوں کو احتجاج پر اکسانے کے لئے سماجی ویب سائٹوں کا بڑے پیمانے پر استعمال کررہا ہے۔ ریاستی پولیس سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید نے 30 مارچ کو کہا کہ وادی اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی)کے دوسری طرف (پاکستان میں) آپریٹ کئے جانے والے سوشل میڈیا اور وٹس ایپ کھاتوں کے ذریعے کشمیری نوجوانوں کو اکسایا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا تھا ’ایک مسلح جھڑپ کے صرف ایک منٹ بعد قریب 300 وٹس ایپ گروپ متحرک ہوجاتے ہیں۔ ان میں کچھ گروپ سرحد کے دوسری طرف چلائے جاتے ہیں، جو ریاست اور ملک کی خوشحالی و امن کے خلاف ہیں۔ اس کے علاوہ جنگجوؤں کو بچانے کے لئے نوجوانوں کو جھڑپوں کے مقامات پر پہنچنے پر اکسانے کے لئے فیس بک کھاتوں اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کیا جاتا ہے‘۔ ڈاکٹر وید کے اس بیان کے محض ایک روز بعد مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے پارلیمنٹ میں پاکستان پر کشمیری نوجوانوں کو اشتعال دلانے کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں کہا تھا ’میں نوجوانوں (کشمیری نوجوانوں) سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ پاکستان کے بہکاوے میں نہ آئے۔

مسلح جھڑپوں کے مقامات پر نوجوانوں کو جمع کرنے کے لئے کچھ سوشل میڈیا ایپلی کیشنز جیسے فیس بک اور وٹس ایپ کا استعمال کیا جارہا ہے۔ یہ گروپ پاکستان میں چلائے جاتے ہیں‘۔ ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی اداروں کا ماننا ہے کہ وادی میں تمام پریشانیوں کی جڑ سماجی ویب سائٹس ہیں جن کا کوئی تدارک کیا جانا چاہیے۔ کشمیر کے حالات پر گہری نگاہ رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے ’سماجی ویب سائٹس پر پابندی سے ایک اچھا نتیجہ یہ برآمد ہوگا کہ انٹرنیٹ کی بار بار کی معطلی کے سلسلے پر بریک لگ جائے گی۔ جن لوگوں کی روزی روٹی انٹرنیٹ پر منحصر ہے، کو اس اقدام سے راحت نصیب ہوگی۔ تاہم اس اقدام سے کشمیر کی ٹیک سیوی نوجوان جنریشن میں شدید غصہ پیدا ہوسکتا ہے‘۔ ایک ٹیور اینڈ ٹراول ایجنسی کے مالک نے یو این آئی کو بتایا ’ہمارا پورا کام انٹرنیٹ پر منحصر ہوتا ہے۔

جب انتظامیہ انٹرنیٹ پر قدغن لگاتی ہے تو نہ صرف مالی لحاظ سے ہمارا نقصان ہوتا ہے بلکہ ہماری ساکھ بھی متاثر ہوجاتی ہے‘۔ خیال رہے کہ وادی میں انٹرنیٹ خدمات کی معطلی اب روز مرہ کا معمول بن چکا ہے۔ مقامی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق وادی میں 2012 ء سے اپریل 2017 ء تک 29 مرتبہ انٹرنیٹ خدمات معطل کی گئیں۔ بعض اوقات یہ خدمات مہینوں تک منقطع رکھی گئیں۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق مواصلاتی کمپنیوں کو سال 2016 کی ایجی ٹیشن کے دوران تین ماہ تک انٹرنیٹ پر قدغن کے باعث 180 کروڑ روپے کے نقصان سے دوچار ہونا پڑا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز