جی ایس ٹی کے نفاذ کی مخالفت میں وادی کشمیر میں ہڑتال کا جزوی اثر

Jul 01, 2017 06:28 PM IST | Updated on: Jul 01, 2017 06:42 PM IST

سری نگر : وادی کشمیر میں ہفتہ کے روز اشیاء و خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی)کے مجوزہ نفاذ کے خلاف تاجر برادری کی کال پر ہڑتال سے معمولات زندگی جزوی طور پر مفلوج رہے۔ ہڑتال کی کال ’کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینوفیکچرس فیڈریشن‘ نامی تجارتی انجمن نے دی تھی۔ اس تجارتی انجمن کا کہنا ہے کہ جی ایس ٹی کے نفاذ سے ریاست کی مالی و سیاسی خودمختاری کو شدید زک پہنچے گا۔ یہ بات یہاں قابل ذکر ہے کہ جی ایس ٹی کے معاملے پر حکومت ، اپوزیشن اور تجارتی انجمنوں کے درمیان اتفاق رائے قائم نہ ہونے کی وجہ سے یکم جولائی کو جموں وکشمیر کو چھوڑ کر باقی سبھی ریاستوں میں جی ایس ٹی کا نفاذ عمل میں آیا۔ گرمائی دارالحکومت سری نگر کے سیول لائنز میں ہڑتال کی اپیل پر دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے۔ تاہم گاڑیوں کی آمدورفت تقریباً معمول کے مطابق جاری رہی۔

اس دوران سری نگر کے پائین شہر کے بیشتر حصوں میں کرفیو جیسی پابندیاں کا نفاذ ہفتہ کو مسلسل دوسرے دن بھی جاری رہا۔ پابندیوں کی وجہ سے پائین شہر میں تقریباً ہر طرح کی سرگرمیوں دوسرے دن بھی مفلوج رہیں۔ پائین شہر میں تقریباً سبھی تجارتی مراکز بشمول تاریخی لال چوک، بڈشاہ چوک، ریگل چوک، مائسمہ، ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ، بتہ مالو، مولانا آزاد روڑ، ریذیڈنسی روڑ اور ڈلگیٹ میں دکانیں بند رہیں۔بارہمولہ سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر کے تمام قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میں دکانیں بند رہیں جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت بھی جزوی طور پر معطل رہی۔

جی ایس ٹی کے نفاذ کی مخالفت میں وادی کشمیر میں ہڑتال کا جزوی اثر

جنوبی کشمیر کے چار اضلاع سے بھی جزوی ہڑتال کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ تاہم دیالگام میں مسلح تصادم کے دوران شہری اموات کے خلاف ضلع اننت ناگ میں مکمل ہڑتال سے معمول کی زندگی بری طرح سے متاثر رہی۔ اس کی ٹی ایم ایف کی جانب سے پہلے سے اعلان شدہ پروگرام کے مطابق تاریخی لال چوک میں جی ایس ٹی کی موجودہ ہیت میں نفاذ کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا گیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز