جموں و کشمیر : 19 سالہ نوجوان کی سیکورٹی فورسز کی فائرنگ میں ہلاکت کے بعد وادی میں پھر کشیدگی

Apr 16, 2017 05:31 PM IST | Updated on: Apr 16, 2017 05:31 PM IST

سری نگر: دارالحکومت سری نگر کے بتہ مالو علاقہ میں گذشتہ شام سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے ایک 19 سالہ نوجوان کی ہلاکت کے خلاف اتوار کو وادی بھر میں ہڑتال کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔ ہڑتال کی کال علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے دی تھی۔ ایک پولیس عہدیدار کے مطابق اگرچہ وادی کے کسی بھی حصے میں پابندیاں نافذ نہیں کی گئی ہیں، تاہم امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور مزید احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے سری نگر کے کچھ علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ علیحدگی پسند قیادت کی اپیل پر دارالحکومت سری نگر کے علاوہ وادی کے دیگر تمام بڑے قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔

تاہم مختلف اضلاع کو سری نگر کے ساتھ جوڑنے والی سڑکوں اور یہاں سیول لائنز و بالائی شہر میں اکا دکا مسافر و نجی گاڑیاں چلتی ہوئی نظر آئیں۔ اگرچہ انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ وادی کے کسی بھی حصے میں کوئی پابندیاں نافذ نہیں کی گئی ہیں، تاہم اس کے برخلاف بتہ مالو کی صورتحال بالکل ہی مختلف نظر آئی۔ بتہ مالو کے رہائشیوں نے الزام لگایا کہ علاقہ میں تعینات سیکورٹی فورس اہلکار انہیں اتوار کی صبح اپنے گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ بتہ مالو کے ایک شہری کے مطابق میں نے جب آج صبح روٹی اور دودھ لانے کے لئے اپنے گھر سے باہر نکلنے کی کوشش کی ، تو وہاں پہلے سے تعینات سیکورٹی فورس اہلکاروں نے مجھے اپنے گھر تک ہی محدود رہنے کے لئے کہا‘۔ مذکورہ شہری نے سوالیہ انداز میں کہا کہ اگر یہ کرفیو نہیں ہے تو پھر کیا ہے۔

جموں و کشمیر : 19 سالہ نوجوان کی سیکورٹی فورسز کی فائرنگ میں ہلاکت کے بعد وادی میں پھر کشیدگی

قابل ذکر ہے کہ بتہ مالو میں گذشتہ شام کچھ نوجوانوں نے بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) کی ایک گاڑی پر پتھراؤ کیاجس کے ردعمل میں فورسز اہلکاروں نے مبینہ طور پر اپنی بندوقوں کے دھانے کھول دیے۔ فائرنگ کے اس واقعہ میں سجاد حسین شیخ نامی ایک 19 سالہ راہگیر سر میں گولی لگنے سے جاں بحق ہوگیا۔ شمالی ضلع بارہمولہ کے چندوسہ کا رہنے والا سجاد بتہ مالو کی ایس ڈی کالونی میں واقع اپنے والد کی چھوٹی سی دکان پر اس کے کام کاج میں ہاتھ بٹاتا تھا۔ بتایا جارہا ہے کہ سجاد کا کنبہ گذشتہ دو دہائیوں سے بتہ مالو میں کرایہ کے کمروں میں رہ رہا ہے۔

دریں اثنا سجاد حسین کی ہلاکت کے خلاف سری نگر کے سبھی سیول لائنز علاقوں بشمول تاریخی لال چوک، بڈشاہ چوک، ریگل چوک، مائسمہ، ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ، مولانا آزاد روڑ، ریذیڈنسی روڑ اور ڈلگیٹ میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے ۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو روکنے کے لئے سڑکوں پر اضافی سیکورٹی فورس اہلکاروں کی گشت بڑھا دی گئی ہے۔ سری نگر کے پائین شہر میں بھی سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات رہی۔

پائین شہر میں سڑکیں سنسان نظر آئیں جبکہ دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے۔ ایسی ہی صورتحال بالائی شہر میں بھی نظر آئی جہاں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے۔ تاہم ائرپورٹ روڑ پر کچھ نجی گاڑیاں چلتی ہوئی نظر آئیں۔ اطلاعات کے مطابق وسطی ضلع بڈگام میں بھی نوجوان کی ہلاکت کے خلاف مکمل ہڑتال رہی۔ بڈگام کے سبھی حصوں بشمول بڈگام، چاڈورہ، چرارشریف، بیروہ اور خانصاحب میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔

ضلع گاندربل سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ضلع کے سبھی علاقوں میں بھی مکمل ہڑتال رہی جس کے دوران دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ شمالی کشمیر کے تین اضلاع بارہمولہ، کپواڑہ اور بارہمولہ اور جنوبی کشمیر کے چار اضلاع پلوامہ، شوپیان، اننت ناگ اور کولگام میں بھی غیرمعمولی ہڑتال کی گئی۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق جنوبی و شمالی کشمیر کے سبھی سات اضلاع میں نوجوان کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز