کشمیر میں یوم آزادی کے موقع پرہمہ گیر ہڑتال ، معمولات زندگی مفلوج ، مواصلاتی بریک ڈاؤن

وادی کشمیر میں منگل کے روز ملک کے 71 ویں یوم آزادی کے موقع پر علیحدگی پسند قیادت کی اپیل پر مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال کے سبب زندگی کے معمولات درہم برہم ہوکر رہ گئے۔

Aug 15, 2017 03:56 PM IST | Updated on: Aug 15, 2017 03:56 PM IST

سری نگر: وادی کشمیر میں منگل کے روز ملک کے 71 ویں یوم آزادی کے موقع پر علیحدگی پسند قیادت کی اپیل پر مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال کے سبب زندگی کے معمولات درہم برہم ہوکر رہ گئے۔ جہاں بخشی اسٹیڈیم میں ہونے والی یوم آزادی کی تقریب کے پیش نظر جنگجوؤں کے کسی بھی ممکنہ حملے کو ناکام بنانے یا لوگوں کی طرف سے احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے سری نگر کے مختلف حصوں میں منگل کو سخت ترین سیکورٹی پابندیاں عائد رہیں، وہیں سیکورٹی خدشات کے پیش نظر وادی بھر میں موبائیل فون و انٹرنیٹ خدمات منقطع رکھی گئیں۔

بخشی اسٹیڈیم کی طرف جانے والے تمام راستوں بشمول مہاراجہ بازار، نمائش کراسنگ، مگرمل باغ، مہجور نگر برج، وزیر باغ، جواہر نگر، آلوچی باغ اور سولنہ کو خاردار تار سے سیل کردیا گیا تھا۔ سری نگر کے سیول لائنز اور بالائی شہر کے مختلف حساس جگہوں خاص طور پر نمایش کراسنگ، مہاراجہ بازار، رام باغ، اقبال پارک اور وزیر باغ علاقوں میں بلٹ پروف گاڑیاں تعینات کردی گئی تھیں۔

کشمیر میں یوم آزادی کے موقع پرہمہ گیر ہڑتال ، معمولات زندگی مفلوج ، مواصلاتی بریک ڈاؤن

اقبال پارک میں لوگوں کا داخلہ چند دن قبل ہی روک دیا گیا تھا۔ کسی بھی طرح کے فدائین حملے سے نمٹنے کے لئے اونچی اونچی عمارتوں پر شارپ شوٹرس کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی۔ سیکورٹی خدشات کے پیش نظر وادی کشمیر میں موبائیل فون و انٹرنیٹ خدمات بھی منقطع رکھی گئیں۔ تمام مواصلاتی کمپنیوں نے منگل کی صبح قریب 8 بجے موبائیل فون اور انٹرنیٹ خدمات معطل کردیں۔ موبائیل سروس کی معطلی کے باعث لوگوں خاص طور پر صحافیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ قریب ساڑھے پانچ گھنٹے تک معطل رکھنے کے بعد موبائیل فون سروس پوری وادی میں بحال کی گئی، تاہم موبائیل انٹرنیٹ خدمات کو صرف وسطی کشمیر کے دو اضلاع سری نگر و گاندربل اور شمالی کشمیر کے تین اضلاع میں بحال کیا گیا۔

خیال رہے کہ کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے 15اگست کو ’’یوم سیاہ‘‘ کے طور منانے اور اس روز مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم بھارت سمیت کسی بھی ملک کی آزادی کے مخالف نہیں ہیں، البتہ جب تک یہ ملک کشمیری عوام کے حق آزادی کو تسلیم نہیں کرتا اور آزادانہ رائے شماری کے ذریعے انہیں اپنے مستقبل کے تعین کا موقع فراہم نہیں کرتا، اس کو جموں کشمیر کی سرزمین پر جشن آزادی کی تقریبات منعقد کرنے کا کوئی آئینی اور اخلاقی حق نہیں پہنچتا ہے۔ ہڑتال کی کال پر وادی بھر میں منگل کو دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی آواجاہی کلی طور پر معطل رہی۔ تاہم سرکاری دفاتر، تعلیمی ادارے اور بینک سرکاری تعطیل ہونے کی وجہ سے بند رہے۔

Loading...

دریں اثنا سری نگر کے پائین شہر کے پانچ پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں پیر کی صبح عائد کردہ کرفیو جیسی پابندیاں منگل کو مسلسل دوسرے دن بھی جاری رکھی گئیں۔ انتظامیہ نے حزب المجاہدین کے چیف آپریشنل کمانڈر محمد یاسین ایتو عرف محمود غزنوی سمیت تین جنگجوؤں کی ہلاکت کے خلاف جنوبی کشمیر کے مختلف حصوں میں 13 اگست کو بھڑک اٹھنے والے شدید احتجاجی مظاہروں کے دوران سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں دو عام نوجوانوں کی ہلاکت اور درجنوں دیگر کے مضروب ہونے کے بعد وادی میں پیدا شدہ صورتحال کے پیش نظر سری نگر کے پانچ پولیس تھانوں خانیار، نوہٹہ، صفا کدل، ایم آر گنج اور رعناواری کے تحت آنے والے علاقوں میں پیر کی صبح پابندیاں نافذ کردی تھیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق شہر میں امن وامان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے پابندیوں کا نفاذ منگل کو مسلسل دوسرے دن بھی جاری رکھا گیا۔ یو این آئی کے ایک نامہ نگار جس نے منگل کی صبح پائین شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا، نے بیشتر سڑکوں کو خاردار تاروں سے بدستور بند پایا۔ انہوں نے بتایا کہ پابندی والے علاقوں میں بڑی تعداد میں تعینات سیکورٹی فورس اہلکار شہریوں کو یہ کہتے ہوئے اپنے گھروں تک ہی محدود رہنے کے لئے کہہ رہے تھے، کہ ’کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا جاچکا ہے‘۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز