نوٹ بندی کے بعد 3 سے 4 لاکھ کروڑ روپئے کی بلیک منی بینکوں میں ہوئی جمع

Jan 10, 2017 06:28 PM IST | Updated on: Jan 10, 2017 06:28 PM IST

نئی دہلی۔ نوٹ بندی کے بعد بینکوں میں جمع کی گئی رقم کی جانچ پڑتال میں حکومت کو تقریبا تین سے چار لاکھ کروڑ روپے کی آمدنی میں ٹیکس چوری کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ رقم نوٹ بندی کے بعد 500، 1000 روپے کے پرانے نوٹ جمع کرانے کی 50 دن کی مدت میں جمع کرائی گئی۔

ایک سینئر افسر نے بتایا کہ محکمہ انکم ٹیکس کو ان کی جانچ پڑتال کرنے کو کہا گیا ہے جس کے بعد 3-4 لاکھ کروڑ روپے کی مشتبہ ٹیكس والی رقم جمع کرانے والوں کو نوٹس بھیجے جائیں گے۔ افسر نے کہا کہ ہمارے پاس اب کافی اعداد و شمار دستیاب ہیں۔ ان کے تجزیہ سے پتہ چلتا ہے کہ نوٹ بندی کے بعد 60 لاکھ سے زیادہ بینک اکاؤنٹس میں دو لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ رقم جمع کرائی گئی۔

نوٹ بندی کے بعد 3 سے 4 لاکھ کروڑ روپئے کی بلیک منی بینکوں میں ہوئی جمع

اس دوران کل 7.34 لاکھ کروڑ روپے کی رقم بینک اکاؤنٹس میں جمع کرائی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ شمال مشرقی ریاستوں میں مختلف بینک اکاؤنٹس میں 10700 کروڑ روپے سے زیادہ رقم جمع کرائی گئی۔ محکمہ انکم ٹیکس اورای ڈی کوآپریٹیو بینکوں میں مختلف اکاؤنٹس میں جمع کرائی گئی 16000 کروڑ روپے سے زیادہ رقم کی بھی جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔ افسر نے بتایا کہ نوٹ بندی کے بعد 25000 کروڑ روپے غیر فعال پڑے بینک اکاؤنٹس میں جمع کرائے گئے جبکہ آٹھ نومبر 2016 کے بعد 80000 کروڑ روپے کے قرض کی نقد رقم میں ادائیگی کی گئی۔

واضح رہے کہ حکومت نے آٹھ نومبر 2016 کو اچانک 500 اور 1000 روپے کے نوٹ چلن سے واپس لے لئے تھے۔ حکومت نے ان کالعدم نوٹوں کو بینک اکاؤنٹس میں جمع کرانے یا پھر نئی کرنسی سے بدلوانے کیلئے 30 دسمبر تک کا وقت دیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز