بی سی سی آئی بمقابلہ لوڑھا کمیٹی: فیصلہ آج، ہٹائے جا سکتے ہیں بورڈ کے کئی بڑے افسر

Jan 02, 2017 11:43 AM IST | Updated on: Jan 02, 2017 11:44 AM IST

نئی دہلی۔ لوڑھا کمیٹی کی سفارشات کو بی سی سی آئی کی طرف سے لاگو کرنے میں ہو رہی آنا کانی کے معاملے پر آج فیصلہ آ سکتا ہے۔ سپریم کورٹ میں ڈیڑھ سال سے چل رہے اس معاملے کی سماعت آج ہے۔ پچھلی سماعت میں عدالت نے اپنا حکم محفوظ رکھ لیا تھا اور اپنے تیور بھی صاف کر دیے تھے۔ اگر آج فیصلہ ہوتا ہے تو بی سی سی آئی کے بڑے افسر ہٹائے جا سکتے ہیں۔ بتا دیں کہ پچھلی سماعت میں چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے کہا تھا کہ بی سی سی آئی سربراہ انوراگ ٹھاکر پر عدالت کی توہین کا کیس چلایا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے انوراگ ٹھاکر جیل بھی جا سکتے ہیں۔

کورٹ نے انوراگ ٹھاکر پر یہ کہا تھا

بی سی سی آئی بمقابلہ لوڑھا کمیٹی: فیصلہ آج، ہٹائے جا سکتے ہیں بورڈ کے کئی بڑے افسر

پی ٹی آئی

پچھلی سماعت میں سپریم کورٹ نے انہیں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جھوٹی گواہی کے لئے بورڈ صدر کو سزا کیوں نہ دی جائے۔ ان پر کورٹ کی توہین کا کیس چلایا جا سکتا ہے اگر غیر مشروط معافی نہ مانگی تو انہیں جیل بھی جانا پڑ سکتا ہے۔ انوراگ پر الزام ہے کہ انہوں نے عدالت سے جھوٹ بولا اور اصلاحات کے عمل میں رکاوٹ پہنچانے کی کوشش کی۔ یہ نوبت اس لیے آئی کیونکہ بی سی سی آئی لوڑھا کمیٹی کی سفارشات کو لاگو کرنے میں مسلسل آنا کانی کر رہی ہے۔

کیا ہے پورا معاملہ

دہلی پولیس نے 2013 میں آئی پی ایل ٹیم راجستھان رائل کے تین کھلاڑیوں کو میچ کے دوران اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ اسی معاملے میں چنئی سپر کنگز کے سی ای او گروناتھ ميپپن کی بھی گرفتاری ہوئی۔ ميپپن اس وقت بی سی سی آئی صدر این شری نواسن کے داماد ہیں۔ اس معاملے کی تحقیقات کو لے کر سپریم کورٹ نے جسٹس مکل مدگل کی قیادت میں مدگل کمیٹی بنائی۔ 2014 میں جسٹس مدگل نے بی سی سی آئی میں اصلاحات کی بات اپنی رپورٹ میں کہی تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز