پہلی مرتبہ آئی سی سی کے سامنے کلین بولڈ ہوا دنیا کا مالدارترین کرکٹ بورڈ ، اتنی بڑی رقم سے دھونا پڑا ہاتھ

Apr 27, 2017 07:54 PM IST | Updated on: Apr 27, 2017 07:59 PM IST

نئی دہلی: ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کو بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی بورڈ میٹنگ میں آمدنی معاملے پر اپنی جنگ ہارنے سے تقریبا 1792 کروڑ روپے کا خسارہ اٹھانا پڑے گا۔ بی سی سی آئی کو دبئی میں اختتام پذیر آئی سی سی بورڈ میٹنگ میں تمام ارکان کے درمیان اکیلے پڑ جانا پڑا اور بگ تھری ارکان کے دو دیگر بڑے بورڈز انگلینڈ اور آسٹریلیا نے بھی اس کا ساتھ نہیں دیا۔ہندستان کو بگ تھری کی آمدنی ماڈل میں 57 کروڑ ڈالر (3648 کروڑ روپے) کی آمدنی حاصل تھی جو نئے آمدنی ماڈل میں گھٹ کر 29.3 کروڑ ڈالر (1856 کروڑ روپے) رہ گئی ہے۔

آئی سی سی میں پیسے کے کھیل میں دنیا کے سب سے امیر کرکٹ بورڈ سمجھے جانے والے بی سی سی آئی کو ہی شکست مل گئی۔نئے آمدنی ماڈل میں بی سی سی آئی کے خزانے میں خاصی کمی آئی ہے جبکہ کھیل کے ساتھ دیگر مکمل رکن ممالک کو یکساں پیسہ ملے گا۔ بی سی سی آئی نے آمدنی معاملے کی مسلسل مخالفت کی اور گزشتہ ایک ہفتے تک ہندستان کے خلاف اور دیگر ممالک کو منانے کی کوششوں کے باوجود باقی اراکین نے ہندوستانی بورڈ کا کوئی ساتھ نہیں دیا۔اگرچہ اس دوران آئی سی سی کے چیئرمین ششانک منوہر نے بی سی سی آئی کو 10 کروڑ ڈالر اضافی دینے کی پیشکش کی تھی جس سے بی سی سی آئی کی آمدنی تقریبا 40 کروڑ ڈالر تک پہنچ سکتی تھی لیکن بی سی سی آئی کے نمائندے امیتابھ چودھری نے اسے ٹھکرا دیا تھا۔

پہلی مرتبہ آئی سی سی کے سامنے کلین بولڈ ہوا دنیا کا مالدارترین کرکٹ بورڈ ، اتنی بڑی رقم سے دھونا پڑا ہاتھ

آئی سی سی کے نئے آمدنی ماڈل کے تحت بی سی سی آئی کو آٹھ سال کے وقفے میں 29.3 ملین ڈالر ملیں گے جبکہ انگلینڈ کو 14.3 کروڑ ڈالر اور زمبابوے کو 9.4 ملین ڈالر ملیں گے۔باقی سات مکمل رکن ممالک کو 13.2 کروڑ ڈالر دیئے جائیں گے۔ایسوسی ایٹ اراکین کو کل 28 کروڑ ڈالر دیئے جائیں گے۔ انگلینڈ کو پہلے 15 کروڑ ڈالر ملتے تھے جو اب معمولی گھٹ کر 14.3 ملین ڈالر پہنچے ہیں۔ آسٹریلیا کا حصہ تقریبا پہلے جتنا ہی ہے۔لیکن اب آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، پاکستان، نیوزی لینڈ، سری لنکا، بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز 13.12 کروڑ ڈالر کے ساتھ ایک برابری پر آ گئے ہیں۔ اس تبدیلی کو 14۔1 کے بڑے فرق سے منظور کیا گیا۔بی سی سی آئی کا اس تجویز کے خلاف واحد ووٹ رہا۔منوہر نے اجلاس کے بعد آئی سی سی کی ایک ریلیز میں کہا کہ عالمی کرکٹ کے لیے یہ ایک بڑا قدم ہے اور میں سالانہ کانفرنس کے ساتھ اس کا اختتام کروں گا۔مجھے یقین ہے کہ ہم عالمی طور پر کھیل کی ترقی کے لئے ایک مضبوط بنیاد رکھیں گے جس کا کام اس مالیاتی ماڈل اور انتظامی بہتر بنانا ہو گا ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز