یہاں نوکری پیشہ لوگوں سے اچھی حالت میں ہیں بھکاری

آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ ان میں سے زیادہ تر کی حالت ان ڈگري یافتہ نوکری پیشہ لوگوں سے کافی اچھی ہے جو ان پر رحم کھاکر ان کے پیالے میں ایک دو روپے کے سکے ڈال کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔

Jul 23, 2017 05:03 PM IST | Updated on: Jul 23, 2017 05:03 PM IST

نئی دہلی: قومی راجدھانی خطہ (این سی آر) کی تقریباً ڈیڑھ فیصد آبادی بھکاریوں کی ہے جن سے روزانہ عام لوگوں کا واسطہ پڑتا ہے، لیکن آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ ان میں سے زیادہ تر کی حالت ان ڈگري یافتہ نوکری پیشہ لوگوں سے کافی اچھی ہے جو ان پر رحم کھاکر ان کے پیالے میں ایک دو روپے کے سکے ڈال کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ گلاب کے پھول کے ساتھ نوئیڈاکے سیکٹر 15 میٹرو اسٹیشن کے قریب بھیک مانگنے والا بہار کے شیوہر ضلع کا 26 سالہ سنیل ساہنی کہتا ہے کہ ’’میرے لئے کاروبار کوئی اہمیت نہیں رکھتا ہے، کیونکہ کاروبار سے میرے بھیک مانگنے کے کام میں رخنہ پڑتا ہے۔ میں یومیہ دو شفٹوں میں 1200 سے 1500 روپے بھیک مانگ کر کما لیتا ہوں‘‘۔

سنیل اس پیشے سے ہر ماہ 36 سے 45 ہزار روپے کما لیتا ہے، جو انہیں چند سکے دینے والے تعلیم یافتہ نوکری پیشہ لوگوں کی کمائی سے زیادہ ہے۔ سنیل بچپن میں پولیو کا شکار ہو گیا تھا۔ وہ دونوں پیروں سے معذور ہے۔ ماں کے علاوہ چھوٹے بھائی بہنوں کی ذمہ داری اس کے کاندھوں پر ہے۔ وہ بالکل نہیں چاہتا کہ اس کے چھوٹے بھائی کو یہ دن دیکھنا پڑے۔ اس کا کہنا ہے کہ ’’بھیک مانگنے کا کام عزت دارانہ نہیں ہے،کوئی بھی، جب چاہے ہمیں دھتکار كر چلا جاتا ہے’’۔

یہاں نوکری پیشہ لوگوں سے اچھی حالت میں ہیں بھکاری

علامتی تصویر

کچھ بھکاری اپنا نام پتہ ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔ گذشتہ دو برسوں سے ایک میٹرو اسٹیشن کے باہر بیٹھنے والے دونوں ہاتھوں سے معذور اشوک (تبدیل کیا ہوا نام) اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہتا ہے کہ ’’ایک تو میں برہمن ہوں، اور دوسرے بہن کی شادی بھی کرنی ہے۔ اگر میرا صحیح پتہ ٹھکانہ شائع ہو گیا تو میری بہن سے شادی کون کرے گا‘‘؟ ویسے اشوک جہاں بیٹھتا ہے وہاں عام دنوں میں ایک گھنٹے بیٹھنے سے 70 سے 100 روپے کی آمدنی ہوجاتی ہے۔ تقریباً سات آٹھ سال قبل تھریسر میں ہاتھ چلے جانے کےبعد انفیکشن کی وجہ سے اسے اپنے دونوں ہاتھ گنوانے پڑے تھے۔ علاج میں چھ بیگھہ زمین بھی فروخت کرنی پڑی ۔ علاج میں پونے 12 لاکھ روپے خرچ ہو گئے، اس کے باوجود اس کے ہاتھ بچ نہ سکے۔ اسے پیٹ بھرنے کے لئے بھیک مانگنے سے بہتر کوئی دوسرا بہتر متبادل نظرنہیں آیا۔

اشوک نے اپنی مدد کے لئے گاؤں کے ہی ایک بے روزگار نوجوان کو بلایا ہے۔ نارائن نامی نوجوان اب اشوک کی ہر ضرورت پوری کرتا ہے اور بدلے میں اسے رہنے کے لئے مفت میں کمرہ ملا ہوا ہے۔ اس دوران وقت ملنے پر وہ اپنی ریہڑی سے کچھ کمائی بھی کر لیتا ہے۔ نارائن نے بتایا کہ اس کام سے میں پوری طرح مطمئن ہوں۔ میں روزانہ 100 سے 200 روپے الگ سے کما لیتا ہوں۔ ان معذور بھکاریوں کی باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ انہیں اپنے کنبے سے کوئی مدد نہیں ملتی، جس کی وجہ سے انہیں اس دھندے کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ پیدائش سے معذور عرفان ملک نے بتایا کہ ہم چار بھائی ہیں، لیکن کوئی کسی کی مدد نہیں کرتا۔ سبھی کی اپنی اپنی ذمہ داریاں ہیں۔

کچھ بھکاری ایسے بھی ہیں جو اپنے پورے کنبے کے ساتھ بھیک مانگتے ہیں۔ ان میں کئی خواتین بھی ہوتی ہیں جو روزانہ 250 سے 300 روپے تک کما نے کا دعوی کرتی ہیں۔ ایک میٹرو اسٹیشن پر اپنے دو بچوں کے ساتھ بھیک مانگ رہی مدھیہ پردیش کی كوشليا دیوی نے بتایا کہ اس کے شوہر کے دونوں پیر ٹوٹ گئے ہیں، جس کی وجہ سے اسے بھیک مانگنے کے لئے مجبور ہونا پڑ رہا ہے‘‘۔ این سی آر میں بھیک مانگنے کے طریقے بھی عجب و غریب ہیں۔ کہیں غیر سرکاری تنظیموں (این جی او) کی جانب سے کینسر کے علاج کے نام پر چندہ وصول کیا جاتا ہے تو کہیں ہفتہ کے دن میٹرو اسٹیشنوں کے ارد گرد اور سیڑھیوں پر شنی دیو کی تصویر اور ان کے پاس تیل رکھ بڑے پیمانے پر پیسے جمع کیے جاتے ہیں۔ ان جگہوں پر مانگنے کی ضرورت نہیں پڑتی، بلکہ دینے والوں کی صوابدید پر سب کچھ چھوڑ دیا جاتا ہے۔جودینا چاہتے ہیں وہ خود ہی دے دیتے ہیں۔

قومی راجدھانی خطہ کے میٹرو اسٹیشنوں کے ارد گرد کے راستوں میں بکھاریوں کی قطاریں لگی رہتی ہیں۔ ان میں بہار، اتر پردیش اور مدھیہ پردیش کے کم عمر کے لڑکے لڑکیوں کا بھیک مانگنا عام بات ہے۔ ان میں کئی کی حالت درد ناک ہوتی ہے، مثلا جسم کے کسی بڑے حصے کی کھال جلی ہوتی ہے، ہاتھ کٹے ہوتے ہیں اور چہرے بگڑے ہوئے ہوتے ہیں جسے دیکھ کر لوگوں کو ان پر رحم آتا ہے اور وہ نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے کشکول میں کچھ ڈال دیتے ہیں۔

زیادہ تر بھکاری بیمار نظر آتے ہیں۔ کچھ بھکاری بچے سماجی جرائم کا نتیجہ ہوتے ہیں ، مثلا بچوں کو اغوا کرکے معذور بنادیا جاتا ہے اور انہیں بھیک مانگنے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے۔ اب تو نئے رجحان ابھر رہے ہیں۔ یہاں غنڈے، بھکاری باقاعدہ ٹھیکہ لیتے ہیں اور اپنے ماتحت بھکاریوں کی جگہ کا تعین بھی وہی کرتے ہیں۔ غنڈے اپنے دھندے کو بنائے رکھنے کے لئے مارپیٹ کا بھی سہارا بھی لیتے ہیں۔

معاشرے کے سب سے نچلے پائیدان پر رہنے والے ان افراد کو راجدھان کی خوبصورتی میں بدنما داغ کی طرح دیکھا جاتا ہے۔ لہذا دہلی کو بھکاریوں سے پاک کئے جانے کا مطالبہ مختلف تنظیموں کی طرف سے مسلسل کیا جاتا رہا ہے۔ بالغ بھکاریوں کو بھیک مانگنے کی پاداش میں سزا ہوتی ہے اور نابالغ بھکاریوں کو اصلاح گھروں میں داخل کرایا جاتا ہے، لیکن کیا اس سے ان کی زندگی میں کوئی بنیادی تبدیلی آتی ہے؟

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز