اترپردیش میں رنگوں کی سیاست عروج پر، پہلے روڈویز بس اور اب انیکسی کا رنگ ہوا زعفرانی

Nov 01, 2017 11:58 PM IST | Updated on: Nov 01, 2017 11:58 PM IST

لکھنؤ :   اترپردیش میں سیاسی رنگوں کی سیاست عروج پر ہے ۔ پہلے کچھ سرکاری بسوں کو زعفرانی یعنی بھگوا رنگ میں رنگا گیا ۔ پھر یوپی نو نرمان سینا کے چیئرمین کے ذریعےتاج محل کی  تصویرکو بھگوا جھنڈے کے ساتھ پوسٹ کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا اور اب سیکریٹریٹ یعنی اینیکسی کی عمارت کو زعفرانی کیا جا رہا ہے ۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیاعمارتوں کے رنگ بدلنے سے سب کا ساتھ ۔ سب کا وکاس کا نعرہ پورا ہوجائے گا۔

جب جب حکومتیں اورحکومتوں کے نظام تبدیل ہوتے ہیں ، تب تب کچھ نئے منظرنامے واضح ہوکر سامنے آتے ہیں ۔ بی جے پی نے بھی  جیسے پوری ریاست کو زعفرانی کردینےکا فیصلہ کر لیا ہے ۔ لیکن سوال تو یہی ہے کہ دیواروں پرروغن کردینے سے کیا ریاست کی  بدحالی کے رنگ چھپائے جاسکتے ہیں ؟ کیا پریشان حال لوگوں کے چہروں پر ترقی کے رنگ سجائے جا سکتے ہیں۔ اتر پردیش کےسابق گورنرعزیز قریشی تو بی جے پی کی اس عمل کو دماغی دیوالیے پن سے تعبیر کرتے ہیں ۔

اترپردیش میں رنگوں کی سیاست عروج پر، پہلے روڈویز بس اور اب انیکسی کا رنگ ہوا زعفرانی

اگر سنجیدہ غوروخوص کیاجائے تومذہب کا رنگوں سے کوئی تعلق نہیں ۔ علاقوں اورضرورتوں کے مطابق رنگ بھی بدلتے رہتے ہیں اور ان کے استعمال کے طریقے بھی ۔ جہاں ظفریاب جیلانی اس عمل کو عوام کے پیسے کی بربادی قرار دیتےہیں وہیں بی جے پی کے پاس اپنے جواز موجود ہیں۔  حالانکہ یہ تبدیلی ہرحکومت میں محسوس کی جاتی رہی ہے۔ بی ایس پی کے دور اقتدار میں شہر کسی حد تک  نیلا نظرآتا تھا۔  سماج وادی نے اپنے نظریاتی رنگوں کو فروغ دیا تھا اور اب زعفرانی رنگ سب کے سرچڑھ کر بولنے لگا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز