کانگریس کا صدر جمہوریہ سے بنارس ہندو یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو برخاست کرنے کا مطالبہ

Sep 25, 2017 04:03 PM IST | Updated on: Sep 25, 2017 04:03 PM IST

نئی دہلی: کانگریس نے بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) میں لڑکیوں سے چھیڑ خانی کے خلاف اور ان کی سکیورٹی کے مطالبے پر مظاہرہ کرنے والی طالبات پر پولس کے لاٹھی چارج کی سخت مذمت کرتے ہوئے آج صدر جمہوریہ رام ناتھ كووند سے یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو فوری طور پر برخاست کرنے اور ہائی کورٹ کے جج سے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ کانگریس کے ترجمان منیش تیواری نے یہاں پارٹی کی معمول کی پریس بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا کہ اس معاملے مین بی ایچ یو کے وائس چانسلر کا کردار انتہائی بے حسی کی ہے لہذا صدر جمہوریہ اس معاملے کا نوٹس لے کر فوری طورپر وائس چانسلر کو برخاست کریں۔ یہ انتہائی حساس معاملہ ہے، لہذا ہائی کورٹ کے جج سے اس کی جانچ کرکے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ طالبات کے ساتھ پولس کے تشدد کا یہ واقعہ 'بیٹی بچاؤ اور بیٹی پڑھاؤ' کا نعرہ دینے والے وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقہ میں ہوا ہے لہذا مسٹر مودی کو اس معاملے میں اپنا موقف واضح کرنا چاہئے۔ یہ واضح ہونا چاہئے کہ ہر مسئلے پر ٹویٹ کرنے والے مسٹر مودی بی ایچ یو میں طالبات پر ظلم و تشدد پر خاموش کیوں ہیں؟ انہیں ملک کو بتانا چاہئے کہ اس معاملے میں ان کا موقف کیا ہے؟۔

کانگریس کا صدر جمہوریہ سے بنارس ہندو یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو برخاست کرنے کا مطالبہ

کانگریس کے ترجمان نے کہا کہ حیدرآباد، دہلی، راجستھان اور پنجاب کی یونیورسٹیوں کی طلبہ یونین کے انتخابی نتائج سے مودی حکومت کو سمجھ لینا چاہئے کہ ان سے نوجوانوں کی دلچسپی ختم ہورہی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے انتخابات سے پہلے نوجوانوں سے جو وعدے کئے تھے وہ پورے نہیں ہوئے ہیں اور ملک کے نوجوان مودی حکومت سے مایوس ہو چکے ہیں۔ نوجوان طبقہ بی جے پی سے اس لئے ناراض ہے کیونکہ اس نے ہر سال دو کروڑ نوجوانوں کو روزگار دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن دو ہزار لوگوں کو بھی روزگار دستیاب نہیں کرایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت جمہوریت میں یقین نہیں رکھتی۔ وہ دھوکہ کی پالیسی پر چل کر اقتدار میں برقرار رہنا چاہتی ہے۔ لیکن ملک کا نوجوان اس کی اس سازش کو سمجھ گیا ہے اور وہ بی جے پی حکومت کے خلاف کھڑا ہو گیا ہے۔ نوجوانوں کے سامنے مودی حکومت کی پول کھل چکی ہے ۔ پریس کانفرنس میں دہلی یونیورسٹی طلبہ یونین کے صدر راکی تشار اور نائب صدر کنال بھی موجود تھے۔

واضح ر ہے کہ بی ایچ یو کیمپس میں باہری بدمعاشون سے پریشان سینکڑوں طالبات نے اپنی سکیورٹی کے مطالبے پر دھرنا مظاہرہ کیا تھا اور وائس چانسلر پروفیسر گریش چندر ترپاٹھی سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن انہیں ملنے کا وقت نہیں دیا گیا تھا۔ اس کے بعد، لڑکیوں نے وائس چانسلر کی رہائش گاہ کی طرف مارچ کیا تھا۔ اسی درمیان پولس نے ان پر لاٹھی چارج کیا جس کے بعد تشدد بھڑک گیا اور متعدد طالبات، صحافی اور پولس اہلکار زخمی ہو گئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز