بجنور بم دھماکہ کیس میں ریت کی دیوارثابت ہوا استغاثہ کا موقف ، جرح کے بعد گواہ نے سچائی کا کیا اعتراف

May 05, 2017 08:42 PM IST | Updated on: May 05, 2017 08:42 PM IST

ممبئی: بجنور بم دھماکہ معاملے میں لکھنؤ کی خصوصی این آئی اے عدالت میں جاری سماعت کے دوران استغاثہ کی جانب سے پیش کیا جانے والا اہم گواہ آج دفاع کی جرح کے سامنے اپنی بیان کردہ کہانی پر قائم نہ رہ سکا اور عدالت کے روبرو سچائی کا اعتراف کر لیا۔ مذکورہ گواہ کے اس اعتراف کی وجہ سے این آئی اے کی جانب سے عدالت میں پیش کیا جانے والا موقف متزلزل ہوگیا ہے ۔ عدالت نے مذکورہ گواہ کے اس اعتراف کو درج کرلیا ہے۔ اس کیس کی پیروی جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی جا نب سے ایڈوکیٹ ابوبکر سباق سبحانی کررہے ہیں ۔

یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر لیگل سیل کے سکریٹری ایڈووکیٹ تہور خان پٹھان نے بتایا کہ این آئی اے کی جانب سے یہ پہلا گواہ تھا جسے عدالت کے روبرو پیش کیا گیا تھا۔ مسٹر تہور دہشت گردی سے متعلق ملک بھر میں لڑے جا نے والے تمام مقدمات کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اس کے بیان کے بعد دفاع کی جانب سے جب ایڈووکیٹ ابوبکر سباق نے گواہ سے جرح شروع کی تو وہ دفاع کے کئی سوالوں کے جواب دینے میں ناکام رہا اورسچائی کااعتراف کر لیا۔

بجنور بم دھماکہ کیس میں ریت کی دیوارثابت ہوا استغاثہ کا موقف ، جرح کے بعد گواہ نے سچائی کا کیا اعتراف

انہوں نے بتایاکہ چونکہ اس کی گواہی ریکارڈ ہوچکی ہے، اس لئے عدالت نے اسے ہوسٹلائز قرار نہیں دیا ہے لیکن اس نے جرح کے دروان جو اعترافات کئے ہیں اور جو اصلیت عدالت کے روبرو بیان کیا ہے، اس سے دفاع کو کافی فائدہ ملے گا۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ گواہ کے اصلیت بیان کرنے کی وجہ سے این آئی اے کی جانب سے اس مقدمے کے بارے میں عدالت میں جو موقف پیش کیاگیا تھا، وہ پوری طرح متزلزل ہوچکا ہے۔ ایڈوکیٹ پٹھان تہور خان کے مطابق قانونی نکات پر یہ مقدمہ نہایت ہی کمزور ہے، دفاع کی جا نب سے دائر شدہ دستاویزوں میں یہ بات وا ضح کی جا چکی ہے کہ جھوٹے گواہ تیار کئے گئے ہیں اور جھوٹے و من گھڑت پنچ ناموں کے تحت کیس کو کھڑا کرنے کی کو شش کی گئی ہے ۔

اس موقع پرمولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے کہا کہ ملک کی بیشتر تحقیقاتی ایجنسیا ں اصل مجرم کو گرفتار نہ کر تے ہو ئے ایک سونچی سمجھی سازش کے تحت بے قصور مسلم نوجوانو ں کو ناکر دہ جرم عائد کر تے ہو ئے بر سو ں سے سلا خوں کے پیچھے رہنے پر مجبور کر رہی ہیں اس معاملے میں بھی گرفتار شدہ پانچوں افراد بے قصوور ہیں ان کو جان بو جھ کر پھنسایا گیا ہے جمعیۃ کے وکلاء اس کیس کی مضبوط طریقے پر پیروی کرہے ہیں انشاء اللہ دیگر مقدمات کی طرح اس کیس میں بھی ملز مین کو اانصاف ملے گا اور انہیں رہائی نصیب ہوگی ۔

واضح رہے کہ بجنور( اتر پر دیش) میں 12؍ستمبر 2014 میں ایک دھماکہ ہو ا تھا ، جس کے بعد یوپی اے ایس ٹی ایف نے رئیس ،عبد اللہ ،فرحان ،ندیم اور حسنہ نامی ایک خاتون کو گرفتار کرتے ہوئے ان پر ملک کے خلاف جنگ ،سازش اور غیرقانونی ہتھیاررکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج کیا اور اسی کے مطابق ان کے خلاف فرد جرم بھی عائد کی۔

اس کیس کی سماعت پہلے بجنور کی ضلع عدالت میں ہو ئی، اس کے بعد حکومت ہند نے جب یہ مقدمہ این آئی اے کے حوالے کر دیا تواس کی سماعت بجنور ضلع عدالت سے لکھنؤاین آئی اے کی خصوصی عدالت میں منتقل ہو گئی۔ بجنور کی ضلعی عدالت میں وکلاء نے اس کیس کا با ئیکاٹ کر دیا تھا ۔جس کے بعد ان ملز مین کے اہل خانہ نے اس کی قانونی پیروی کرنے کے لئے جمعیۃ علماء مہاراشٹرسے درخواست کی تھی۔جمعیۃ علماء مہاراشٹر نے اس کیس کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے اس مقدمہ کی پیر وی کے لئے دہلی کے مشہور ایڈوکیٹ ابوبکرسباق سبحانی کونامزد کیا۔اور وہ اس مقدمہ کی کا میاب طریقے پر پیروی کر رہے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز