جموں و کشمیر: بی جے پی یوتھ ضلع صدر گوہر احمد بٹ سپرد خاک ، پارٹی ہائی کمان کا اظہار رنج وغم

Nov 03, 2017 02:25 PM IST | Updated on: Nov 03, 2017 02:25 PM IST

سری نگر: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے یوتھ ضلع صدر شوپیان گوہر احمد بٹ کو جمعہ کی صبح اپنے آبائی گاؤں بونہ گام میں سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں سپرد لحد کردیا گیا۔ اس موقع پر ان کے اہل خانہ، عزیز و اقارب کو روتے بلکتے دیکھا گیا۔ گوہر احمد کی گلا کٹی ہوئی لاش جمعرات کی شام شوپیان کے کلورہ میں ایک میوہ باغ میں پائی گئی تھی۔ ریاست پولیس نے گوہر کی ہلاکت کے لئے جنگجوؤں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

جنوبی کشمیر رینج کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس نے گذشتہ شام مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ’شوپیان میں جنگجوؤں نے گوہر احمد نامی ایک عام شہری کو جاں بحق کیا۔ جموں وکشمیر پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہے‘۔ بی جے پی ہائی کمان نے گوہر احمد کی ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ پارٹی کے قومی صدر امت شاہ نے گذشتہ رات سلسلہ وار ٹویٹس میں گوہر کی ہلاکت کی مذمت کی۔ انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا ’شوپیان میں بی جے پی ضلع صدر گوہر احمد کی سفاکانہ ہلاکت کے بارے میں جان کر انتہائی دکھی ہوا ہوں۔ میں سوگوار خاندان سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں‘۔

جموں و کشمیر: بی جے پی یوتھ ضلع صدر گوہر احمد بٹ سپرد خاک ، پارٹی ہائی کمان کا اظہار رنج وغم

مسٹر شاہ نے ایک اور ٹویٹ میں کہا ’دہشت گردوں کو جان لینا چاہیے کہ وہ وادی کے نوجوانوں کو ایک بہتر مستقبل کا انتخاب کرنے سے نہیں روک سکتے ہیں‘۔ بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری رام مادھو نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ’بی جے پی کو صدمہ۔ شوپیان کے یوتھ ضلع صدر گوہر بٹ کو دہشت گردوں نے قتل کیا۔ صرف تین دن پہلے انہوں نے مجھ سے سری نگر میں ملاقات کی۔ اس کی گلا کٹی ہوئی لاش پائی گئی ہے۔ یہ قربانیاں ہمارے عزم کو مضبوطی بخش رہی ہیں‘۔ ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے گوہر بٹ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ’شوپیان سے تعلق رکھنے والے نوجوان سیاسی کارکن گوہر کی ہلاکت کی مذمت کرتی ہوں۔ میں سوگوار کنبے کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتی ہوں۔ تشدد کے اس نہ تھمنے والے سلسلے کو رکنا ہوگا‘۔

سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے قتل کے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ’یہ ایک المیہ ہے۔ ایک نوجوان کو بیہمانہ طریقے سے قتل کیا گیا۔ اللہ جنت نصیب کرے‘۔ جنوبی کشمیر میں گذشتہ چند ہفتوں کے دوران سیاسی کارکنوں پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز