Live Results Assembly Elections 2018

نوٹوں کی منسوخی جائز، ملک کے حق میں: جیٹلی، نوٹوں کی منسوخی منظم لوٹ: منموہن سنگھ

نئی دہلی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے نوٹ کی منسوخی کے تاریخی فیصلے کا سال پورا ہونے کے موقع پر آج حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی اور اہم اپوزیشن لیڈر کانگریس نے اس موضوع پر ایک دوسرے پر جم کر نشانہ لگایا۔

Nov 07, 2017 08:21 PM IST | Updated on: Nov 07, 2017 09:57 PM IST

نئی دہلی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے نوٹ کی منسوخی کے تاریخی فیصلے کا سال پورا ہونے کے موقع پر آج حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی اور اہم اپوزیشن لیڈر کانگریس نے اس موضوع پر ایک دوسرے پر جم کر نشانہ لگایا۔ حکمراں جماعت نے نوٹ کی منسوخی کو جائز ، ضروری اور ملک کے مفاد میں قرار دیا ووہیں کانگریس نے اسے منظم اور قانونی لوٹ بتایا اور کہا کہ اس سے اقتصادی نظام کو زبردست نقصان پہنچااور امیروں نے اس کی آڑ میں اپنا کالا دھن سفید کیا۔بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے محاذ سنبھالتے ہوئے سینئر لیڈر اور مرکزی وزیرخزانہ ارون جیٹلی نے نوٹوں کی منسوخی کو جائز ،ضروری اور ملک کے حق میں قرار دیتے ہوئے آج کہا کہ ہندوستانی معیشت کی وسیع شکل کےلئے نقدی سے پاک لین دین اور صاف شفاف مالیت ضروری ہے۔

مسٹر جیٹلی نے نوٹوں کی منسوخی کے اعلان کے ایک سال پورا ہونے پر یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ نوٹوں کی منسوخی کا قدم ہندوستانی معیشت میں فیصلہ کن موقع تھا جو ملک کے حق میں اٹھایا گیا۔یہ جائز اور ضرور تھا۔انہوں نے کہا کہ ہندوستانی معیشت کی وسیع اور بڑی شکل کےلئے نقدی سے پاک لین دین اور صاف شفاف مالیت ضروری ہے۔انہوں نے نوٹوں کی منسوخی کی کانگریس اور دیگر پارٹیوں نے تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ معیشت سے کالا دھن ہٹانے کی مہم کا ایک حصہ ہے اور یہ اخلاقی بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی اخلاقیات کانگریس کی اخلاقیات سے مختلف ہے۔کانگریس نے گزشتہ دس برسوں میں فیصلہ نہیں کیا اور لوٹ ہوتی رہی۔یہ لوٹ ٹو جی،دولت مشترکہ کھیلوں اور کول بلاک الاٹمنٹ جیسے معاملوں میں نظرآئی ہے۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ ملک میں موجودہ صورتحال کو بدلنا ضروری تھا اس لئے وزیراعظم نریندر مودی نے یک کے بعد دیگرے اقدامات کئے ہیں۔کسی بھی معیشت میں نقدی کا زیادہ استعمال ٹھیک نہیں ہے۔اس سے ٹیکس چوری ہوتی ہے اورٹیکس ادا کرنے والے ایماندار شہری کو زیادہ ٹیکس چکانا پڑتا ہے۔

نوٹوں کی منسوخی جائز، ملک کے حق میں: جیٹلی، نوٹوں کی منسوخی منظم لوٹ: منموہن سنگھ

مسٹر جیٹلی نے کہا کہ جب وسائل کسی فرد واحد کی جیب میں نہ جاکر سماج میں آٹے ہیں تو ترقی ہوتی ہے اور غریبوں کے بہبود کے کام ہوتے ہیں۔حکومت نے کالے دھن پر پابندی لگانے کےلئے خصوصی جانچ کی تشکیل دی ہے اور کالے دھن کے بہاؤ کو روکنے کےلئے قانون بنائے ہیں۔اس کےلئے ٹیکس نظام میں تبدیلی بھی کی گئی ہے۔حکومت نے بے نامی جائیداد کا قانون بھی بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ نوٹوں کی منسوخی سے بینکوں،موچوئل فنڈ اور کیپٹل مارکیٹ میں سرمایہ آیا ہے اور بازار پیسہ کی دستیابی بڑھی ہے۔اس سے ٹیکس دینے والوں کی تعداد میں اضافہ ہواہے اور ڈیجی ٹن لین دین بڑھا ہے۔اس کے علاوہ دہشت گردانہ سرگرمیوں پر بھی پابندی لگی ہے۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ نوٹوں کی منسوخی کے بعد تقریباً 18لاکھ لوگوں نے اپنے بینک کھاتوں میں اپنی آمدنی سے زیادہ رقم جمع کرائی ہے۔اس کی جانچ متعلقہ محکمہ کررہا ہے۔اس کے علاوہ نقاب پوش کمپنیاں سامنے آئی ہیں۔نوٹوں کی منسوخی ہندوستانی معیشت کو کیش لیس بنانے کی سمت میں ایک قدم ہے۔انہوں نے دعوی کیا کہ نوٹوں کی منسوخی آرام سے ہوئی اور اسے پوری دنیا نے دیکھا ہے۔

وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے نوٹوں کی منسوخی کو ’لوٹ‘ قرار دینے پر کانگریس پر جوابی حملہ کرتے ہوئے آج کہاکہ جنہوں نے کالے دھن کے تعلق سے کوئی قدم نہیں اٹھایا اور جن کے دور اقتدار میں دس برسوں تک ’پالیسیوں پر بے حسی‘ تھی وہ نوٹوں کی منسوخی کے موزوں ہونے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ وزیراعظم کے ذریعہ نوٹوں کی منسوخی کے اعلان کے ایک برس مکمل ہونے کے موقع پر یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقد ایک پریس کانفرنس میں مسٹر جیٹلی نے کہاکہ لوٹ تو کانگریس کے وقت میں ہوئی تھی جب ٹو جی، دولت مشترکہ کھیل اور کوئلہ الاٹمنٹ جیسے گھپلے کئے گئے۔ مسٹر جیٹلی نے کہاکہ کانگریس کی یہ تاریخ رہی ہے کہ اس نے کالے دھن کے خلاف کوئی بڑا قدم نہیں اٹھایا۔

Loading...

سابق وزیراعظم اور مشہور ماہر اقتصادیات نے احمدآباد میں ڈاکٹر من موہن سنگھ نے آج کہا کہ نوٹوں کی منسوخی اور جی ایس ٹی کی وجہ سے ملک کو بڑے پیمانے پر ہوئے اقتصادی نقصان سے چین کو فائدہ ہوا ہے اور وہاں سے ہونے والا درآمدات ایک سال میں ہی 45ہزار کروڑ روپے سے زیادہ بڑھ گیا ہے۔ انہوں نےنوٹوں کی منسوخی اور جی ایس ٹی سمیت مرکز کی مودی حکومت کے دیگر اقتصادی اقدامات پر سوال کھڑے کرنے والوں کو ملک مخالف چور وغیرہ کہنے کی تنقید پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ جی ایس ٹی نے نوٹوں کی منسوخی کے بعد پیداہوئی افراتفری اور شبہ کی صورتحال کو لوٹا دیا ہے اور لامتناہی اطلاعات اور تبدیلیوں نے دونوں کے ذریعہ تاجر طبقے میں ٹیکس کا گہرا بیج بو دیا ہے۔دنیا میں موٹے طورپر مثبت حالات کے باوجود ہندوستانی معیشت میں قابل ذکر کمی آئی ہے۔گزشتہ 25برسوں میں اس بار سب سے کم نجی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت دل اور دماغ دونوں کے ذریعہ حکموت نہیں کررہی۔یہ لوگوں کی پریشانیوں کے تئیں بے پرواہ ہے۔نوٹوں کی منسوخی اور معیشت کے پیش نظر لاکھوں لوگ بے روزگار ہوکر اپنے گاؤں لوٹ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس کی لمبے دور حکومت میں ملک ایک اقتصادی عالمی طاقت بنا تھا۔یو پی اے حکومت نے اپنے دس سال میں قریب 15کروڑ لوگوں کو غریبی سے اوپر اٹھایا تھا۔نوٹوں کی منسوخی اور جی ایس ٹی سے ان میں سے آدھوں کے پھر سے غریب بن جانے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔وزیراعظم مودی پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک ملک ایک ٹیکس کو نافذ کرتے وقت انہوں نے ملک کو ایک کرنے والے عظیم گجراتی شخصیت سردار پٹیل سے بھی تحریک نہیں لی۔اگر ایسا کیا ہوتا تو نتائج کچھ اور ہوتے۔انہوں نے کہا کہ واہ واہی اور ڈرامہ،ہمت اور پرعزم ہونے کے بدل نہیں ہیں۔ سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے آج وزیر اعظم نریندر مودی کے اس دعوے کو جھوٹا قراردیا کہ وزیر اعلی کے طور پر انہوں نے نرمدا ڈیم منصوبہ کے سلسلے میں ان کے وزیر اعظم کے بطور مدتکار میں کبھی ان سے ملاقات کی تھی۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ دو دہائیوں سے بھی زیادہ عرصہ سے بی جے پی کے زیر اقتدار رہنے والی ریاست گجرات میں اس بار تبدیلی کی لہریں چل رہی ہیں۔ مقامی باشندوں اور ریاست کے کاروباری افراد سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے نوٹ بندی کے حکومت کے فیصلے کو منظم اور قانونی لوٹ قرار دیا۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے دسمبر میں ہونے والے گجرات اسمبلی انتخابات کے لئے اہم اپوزیشن کانگریس کی طرف سے انتخابی مہم کی شروعات کرتے ہوئے یہاں عوام اور تجارت پیشہ کاروباری افراد سے خطاب میں اور اس کے بعد پریس کانفرنس میں یہ اظہار خیال کیا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ گجرات کئی سماجی کسوٹیوں پر غیر بی جے پی حکومت والی ریاستوں ہماچل پردیش، کرناٹک، کیرالہ اور تمل ناڈو سے پیچھے ہے اور قبائلیوں کو جنگلات کی اراضی سے متعلق 2008 کے قانون کے تحت زمین لیز پر دینے میں بھی بہت سی ریاستوں سے پیچھے ہے۔

ریاست میں پاٹيدار ریزرویشن تحریک یا دلت تحریک وغیرہ کا نام لیے بغیر ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا کہ حال ہی میں ریاست میں چلنے والی حالیہ تحریکوں سے گجرات میں بی جے پی کی حکومت کے تئيں طبقوں کے عدم اطمینان کا اظہار ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ " ریاست میں بدلاؤ کی بیار بہہ رہی ہے"۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ دہائیوں کے بعد یہ موقع آیا ہے کہ گجرات کے لوگ ایک بار پھر کانگریس پر اعتماد دکھائيں۔ کانگریس کی حکومت کسی کمیونٹی کے مذہب یا ذات، رنگ و نسل کی تفریق کے بغیر ہرگجراتی باشندے کی آواز سنے گی۔ یہ حکومت دل اور دماغ دونوں سے حکومت تشکیل دے گی اور ساڑھے چھ کروڑ گجراتیوں کو نئی اونچائیوں پر لے جائے گی۔

انہوں نے نرمدا سے پانی کی فراہمی کے منصوبے کے لئے بی جے پی حکومت کے کریڈٹ لینے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کی حکومتوں کے کام کے فوائد آگے چل کرلوگوں کو ملے ہیں۔ پنڈت نہرو نے سردار سرور ڈیم کی بنیاد رکھی اور بعد میں کانگریس حکومتوں نے اس منصوبے کو آگے بڑھایا تھا ، اس وجہ سے نرمدا کی نہر سے اسی سال پانی پانی بہنا شروع ہوگیا تھا، جب پہلی بار مسٹر نریندر مودی ( موجودہ وزیر اعظم) پہلی بار گجرات کے وزیر اعلی بنے تھے۔ جب ورلڈ بینک نے اس منصوبے کو فنڈ دینے سے انکار کر دیا تو مالیاتی وزیر کی حیثیت سے انہوں نے فوری اقدام کرتے ہوئے مرکز سے فنڈز فراہم کیے تھے۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز