گجرات میں لگاتار چھٹی مرتبہ بی جے پی حکومت ، ہماچل پردیش میں بھی بھگوا پارٹی کو واضح اکثریت

گجرات میں جہاں ایک بار پھر رجحانات میں بی جے پی کی حکومت بننے جا رہی ہے۔ وہیں، ہماچل پردیش میں بھی بی جے پی کی حکومت بننے جا رہی ہے۔

Dec 17, 2017 09:57 PM IST | Updated on: Dec 18, 2017 10:10 PM IST

نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو گجرات میں ملی مسلسل چھٹی جیت اور ہماچل پردیش میں اس کے کانگریس سے اقتدار چھیننے سے ایک بار پھر ثابت ہوگیا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کا جادو اب بھی برقرار ہے اور ان کی قیادت میں پارٹی مسلسل بلندیوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔گجرات میں کانگریس کی طرف سے ملی سخت ٹکر کے باوجود بی جے پی نے 182رکنی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل کرکے مسلسل چھٹی مرتبہ جیت کا ریکارڈ قائم کیا اس نے ہماچل پردیش میں کانگریس کو اقتدار سے بے دخل کرکے اس پہاڑی ریاست میں ایک بار پھر بھگوا پرچم لہرا دیا ہے۔ گزشتہ عام انتخابات میں بی جے پی کی جیت کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ گجرات اور ہماچل پردیش میں بھی جاری رہا۔ ہماچل پردیش میں جیت کے ساتھ بی جے پی کی جھولی میں 14ریاست آگئی ہیں۔ اس کے علاوہ پانچ ریاستوں میں اس کی اتحادی جماعتوں کے ساتھ حکومت ہے۔

دو دن قبل کانگریس کی باگ ڈور سنبھالنے والے راہل گاندھی کے لئے یہ الیکشن جیت کی خوشی نہیں دے سکے۔ ہماچل پردیش جہاں ان کی پارٹی کے ہاتھ سے نکل گیا وہیں گجرات میں پارٹی کی کارکردگی پچھلے کئی انتخابات کے مقابلے میں اچھی رہی لیکن وہ 22برس سے چلے آرہے بی جے پی کے اقتدار کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ۔ ہماچل پردیش کی شکست کے بعد اب صرف پرپانچ ریاستوں میں کانگریس کی حکومت بچی ہے۔ شمالی اور مغربی ہندستان میں صرف پنجاب میں وہ اقتدار میں ہے۔

گجرات میں لگاتار چھٹی مرتبہ بی جے پی حکومت ، ہماچل پردیش میں بھی بھگوا پارٹی کو واضح اکثریت

گجرات میں مسلسل چھٹی جیت ملنے کا سہرا مسٹر مودی کے سر جاتا ہے جنہوں نے ریاست میں زبردست تشہیر کی اور مخالفین کے ان دعووں کو دھول چٹا دی کہ نوٹوں کی منسوخی اور جی ایس ٹی سے لوگوں میں زبردست ناراضگی ہے جس کا خمیازہ بی جے پی کو بھگتنا پڑے گا۔ مسٹر مودی کی کوششوں سے بی جے پی کو جیت تو حاصل ہوئی ہے لیکن پچھلے اسمبلی انتخابات کے مقابلہ میں اس کی سیٹیں کم ہوئی ہیں ۔ وہ اس مرتبہ 100کا اعداد و شمار نہیں چھو سکی۔بی جے پی نے گجرات میں 182رکنی اسمبلی میں اس نے 99سیٹیں حاصل کی ہیں جبکہ پچھلی بار اسے 115سیٹیں ملی تھیں ۔ پہلے سے بہتر کارکردگی کررہی کانگریس نے بھی 77سیٹیں جیتی ہیں جو پچھلی مرتبہ سے 16سیٹیں زیادہ ہیں۔ کانگریس نے بی جے پی سے کئی سیٹیں چھینی ہیں جبکہ بی جے پی نے بھی کانگریس سے کچھ سیٹیں چھین لی ہیں۔

وزیراعلی وجے روپانی راجکوٹ مغربی سیٹ پر 53ہزار سے زائد ووٹوں سے جیت گئے ہیں۔ ایک دیگر آزاد امیدوار بھوپندر کھانٹ ہڈف محفوظ سیٹ سے جیتے ہیں۔نیشنلسٹ کانگریس پارٹی نے ایک اور بھارتیہ ٹرائبل پارٹی نے دوسیٹوں پر جیت حاصل کی ہے۔گزشتہ 22برس سے ریاست میں حکمراں بی جے پی کے امیدوار اور وزیر اور معروف قبائلی لیڈر گنپت وساوا مانگرول محفوظ سیٹ پر جیت گئے ہیں۔ وہ گزشتہ مرتبہ بھی اس سیٹ پر جیتے تھے۔ نڈیاڈ سیٹ پر بی جے پی کے پنکج دیسائی (پچھلی اسمبلی میں پارٹی کے وہپ) نے اپنی سیٹ برقرار رکھی۔ بی جے پی کے امیدوار اور وجے روپانی حکومت کے کابینی وزیر بابو کھریا نے پوربند سیٹ پر کانگریس کے امیدوار اور پارٹی کے سابق ریاستی صدر ارجن موڈواڈیا کو 1855ووٹوں سے شکست دیکر اپنی یہ سیٹ برقرار رکھی۔

پچھلی بار جنتادل (یو ) کے واحد رکن اسمبلی رہے اور بھارتیہ ٹرائبل پارٹی کے لیڈر چھوٹو وساوا ایک بار پھر جھگڑیا سیٹ پر جیت گئے ہیں۔ وزیراعظم کی سابقہ سیٹ منی نگر پر بی جے پی کے سریش پٹیل نے کانگریس کی شویتا برہم بھٹ کو 75199ووٹوں کے بڑے فرق سے شکست دی۔ کانگریس کے پریش دھنانی امریلی سیٹ پر جیت گئے ہیں۔ پاٹیدار اکثریت ٹھکر باپا نگر میں ہاردک پٹیل کے وکیل اور کانگریس کے بابو مانگوکیا ہار گئے ہیں۔ کانگریس نے بی جے پی سے جمال پور کھاڑیا، جوناگڑھ، جنبوسر وغیرہ سیٹیں چھینی ہیں ۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے کاندھل جڈیجہ نے کوتیانا سیٹ برقرار رکھی ہے۔

ہماچل پردیش اسمبلی کی 68سیٹوں میں سے بی جے پی نے 44سیٹیں جیت لی ہیں لیکن اس کے ریاستی صدر ستپال سنگھ ستی الیکشن ہار گئے ہیں اور وزیراعلی کے عہدہ کے امیدوار پریم کمار دھومل بھی سوجان پور سیٹ پرہار گئے ہیں۔ کانگریس نے 21سیٹیں جیتی ہیں جبکہدو سیٹ پر آزاد امیدوار جیتا ہے۔

موجودہ وزیراعلی اور کانگریس کے سینئر لیڈر ویربھدر سنگھ اور ان کے بیٹے وکرم آدتیہ سنگھ نے جیت حاصل کی ہے۔ سابق وزیراعلی سکھ رام کے بیٹے انل شرما بی جے پی کے ٹکٹ پر جیتنے میں کامیاب رہے ہیں۔ مسٹر سکھ رام اور مسٹر شرما حال ہی میں کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوئے تھے۔

وزیراعلی ویربھدر سنگھ ارکی سے بی جے پی کے رتن پال سنگھ سے 6051ووٹوں کے فرق سے جیتے ہیں۔ مسٹر سنگھ کے معلوم ذرائی آمدنی سے زیادہ ااثاثہ حاصل کرنے کے معاملہ میں مسلسل اپوزیشن کے نشانہ پر تھے۔ ویربھدر حکومت کے پانچ وزرا کو اس الیکشن میں شکست کھانی پڑی ہے جن میں بلہہ سیٹ سے پرکاش چودھری، درنگ سے کول سنگھ، دھرمشالہ سے سدھیر شرما، بھرمور سے ٹھاکر سنگھ بھرموری اور نگروٹا سے جی ایس بالی شامل ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز