مایاوتی کے بعد اب ملائم سنگھ کے ووٹ بینک پربی جے پی کی نظر ، یادو کے گھر امت شاہ کا ظہرانہ

Jul 30, 2017 04:42 PM IST | Updated on: Jul 30, 2017 04:42 PM IST

لکھنؤ: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی دلت ووٹوں کے بعد پسماندہ خاص طورپر ملائم سنگھ یادو کے کٹر حامی سمجھے جانے والے ’یادو‘ ووٹوں پر نظر ہے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ بی جے پی کے صدر امت شاہ نے آج لکھنؤ میں اسی وجہ سے پارٹی کے بوتھ لیبل کے کارکن سونو یادو کے یہاں اپنا دوپہر کا کھانا رکھواکر ایک بڑا پیغام دینے کی کوشش کی ہے ۔ تین دن کے دورہ پر لکھنؤ آئے مسٹر شاہ نے دوسرے دن سونو یادو کے یہاں کھانا کھانے کا فیصلہ کیا ۔ سونو یادو کے یہاں کھانا کھانے کی خوب تشہیر بھی کرائی گئی۔

اترپردیش میں یادورائے دہندگان کی تعداد کافی ہے۔ 44فیصد ی پسماندہ رائے دہندگان میں سے تقریباََ 9فیصد یادو ہیں۔ لودھی ووٹر سات فیصد، جاٹ 1.7فیصد ، کشواہا اور کرمی چار چار فیصد ہیں۔ پسماندہ طبقہ کے رائے دہندگان میں سب سے زیادہ تعداد یادو کی ہے۔ اس پر کافی دنوں سے بی جے پی کی نظر ہے اور غالباََ اسی لئے 2017کے ریاستی اسمبلی انتخابات میں پارٹی کے سینئر لیڈر بھوپندر یادو کواہم ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

مایاوتی کے بعد اب ملائم سنگھ کے ووٹ بینک پربی جے پی کی نظر ، یادو کے گھر امت شاہ کا ظہرانہ

کیشوپرساد موریہ کو ریاست کی کمان سونپ کر بی جے پی نے پسماندہ طبقہ کے کشواہا رائے دہندگان کو اپنی جانب راغب کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ سوامی پرساد موریہ کے بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد اس ذات کے ووٹروں نے بی جے پی سے خودکو مزید جوڑا ہے۔ پسماندہ طبقات میں لودھی ذات کے تقریباََ سات فیصدرائے دہندگان ہیں۔ راجستھان میں گورنر اور اترپردیش کے سابق وزیراعلی کلیان سنگھ کی وجہ سے اس ذات کے بیشتر رائے دہندگان بی جے پی کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔ مسٹر سنگھ لودھی ذات کے ہیں۔

کافی دنوں سے بی جے پی کی نظرملائم سنگھ یادو کے روایتی ووٹ بینک سمجھے جانے والے یادو رائے دہندگان پر تھی۔ سونو یادو کے یہاں کھانا کھاکر مسٹر شاہ نے اس ’مارشل قوم‘کو بی جے پی کی جانب کھینچنے کی کوشش کی ہے۔ ملاائم سنگھ یادو نے اپنی برادری کے کسی لیڈر کو ریاست میں مضبوط نہیں ہونے دیا۔ مترسین یادو، رام سمیر یادو، بلرام یادو کااپنی ذات میں بڑے لیڈروں میں شمار ہوتا تھا لیکن ملائم سنگھ یادو نے آہستہ آہستہ برگد کا درخت بن کر کسی کو پھلنے پھولنے نہیں دیا۔

بی جے پی کو 2012کے ریاستی اسمبلی انتخابات میں پندرہ فیصد ووٹ ملے تھے۔ 2009کے لوک سبھا انتخابات میں یہ ووٹ 24.6فیصد تھے۔ سال 2012میں پارٹی کا تقریباََ آٹھ فیصد ووٹ کم ہوگیا کیونکہ پسماندہ طبقات نے متحد ہوکر سماج وادی پارٹی کو ووٹ دیکر 2012میں اس کی حکومت بنائی تھی۔ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں 2014کے لوک سبھا انتخابات لڑنے والی جے پی کو 31فیصد ووٹ حاصل ہوئے اور مرکز میں اس نے حکومت بنائی۔2017میں ریاستی اسمبلی انتخابات میں اس نے اب تک کے تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے 41.4فیصد ووٹ حاصل کئے۔

سیاسی مبصرین سمجھتے ہیں کہ 2017میں ریکارڈ ووٹ حاصل کرنے والی بی جے پی کو پسماندہ طبقات کے یادو اور کچھ دیگر ذات کے بیشتر رائے دہندگان نے ووٹ نہیں دیا تھا۔ پارٹی کے ریاستی صدر اور نائب وزیراعلی کیشوپرساد موریہ بار بار کہتے ہیں کہ اس مرتبہ کے انتخابات میں بی جے پی 60فیصد ووٹ حاصل کرنے کے لئے کوئی کسر باقی نہیں رکھے گی۔ سمجھا جارہا ہے کہ اسی ہدف کو حاصل کرنے کے لئے بی جے پی نے ذاتوں کو جوڑنا شروع کیا اور اسی سلسلہ میں مسٹر شاہ نے آج سونو یادو کے یہاں کھانا کھایا۔

دوسری طرف بی جے پی نے ان سیاسی قیاس آرائیوں کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی ذات پات پر یقین نہیں رکھتی۔ پارٹی کے ریاستی مہامنتری وجے بہادر پاٹھک کا دعوی ہے کہ سونو یادو پارٹی کے سرگرم کارکن ہیں۔ عہدیدار ہیں اور اسی لئے مسٹر شاہ ، وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ، نائب وزیراعلی کیشو پرساد موریہ اور پارٹی کے کچھ دیگر لیڈر سونو یادو کے یہاں کھانا کھانے گئے تھے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز