یوگی آدتیہ ناتھ کی 'توہین' سے ہندو یوا واہنی ناراض، بی جے پی کے خلاف میدان میں اتری

Jan 28, 2017 12:03 PM IST | Updated on: Jan 28, 2017 12:03 PM IST

نئی دہلی۔ اکیس جنوری کو بھارتیہ جنتا پارٹی نے گورکھپور سے پارٹی رکن پارلیمنٹ يوگی آدتیہ ناتھ کو اسٹار پرچارکوں کی لسٹ میں شامل کیا تھا۔ لیکن بی جے پی سمیت یوگی آدتیہ ناتھ کو بھی یہ پتہ نہیں ہو گا کہ اگلے چند دنوں میں ان سے ہی منسلک تنظیم پارٹی کو بڑا جھٹکا دینے والی ہے۔

دراصل، ہندو یوا واہنی نے کشی نگر اور مہاراج گنج اضلاع کی چھ نشستوں پر امیدوار اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تنظیم کا قیام یوگی آدتیہ ناتھ کی سرپرستی میں 2002 میں عمل میں آیا تھا۔ اب ہندو یوا واہنی کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے ان کے بانی اور گورکھناتھ مندر کے سنت کی 'توہین' کی ہے۔ ایسے میں وہ یوپی کی 64 اسمبلی سیٹوں پر الیکشن لڑے گی۔

یوگی آدتیہ ناتھ کی 'توہین' سے ہندو یوا واہنی ناراض، بی جے پی کے خلاف میدان میں اتری

آدتیہ ناتھ کی بات بی جے پی نے نہیں مانی

ہندو یوا واہنی کے ریاستی صدر سنیل سنگھ نے کہا، 'ہم لوگ ابھی اور امیدواروں کی فہرست جاری کریں گے۔ پوروانچل کے لوگ چاہتے ہیں کہ یوگی آدتیہ ناتھ ہی وزیر اعلی کے امیدوار ہوں، لیکن بی جے پی نے اسے مسترد کر دیا ہے۔ ساتھ ہی بی جے پی نے آدتیہ ناتھ کو الیکشن مینجمنٹ کمیٹی میں بھی شامل نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ آدتیہ ناتھ جی نے تقریبا 10 امیدواروں کی فہرست بی جے پی کو سونپی تھی، لیکن ان میں سے صرف دو کو ہی ٹکٹ دیے گئے۔ اب ہم لوگ اور برداشت نہیں کر سکتے ہیں اور اسی لیے ہم نے اپنے امیدواروں کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق، سنیل سنگھ کا کہنا ہے کہ 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں ہم نے ووٹروں سے کہا تھا کہ آپ صرف یوگی آدتیہ ناتھ کو ہی ووٹ نہیں دے رہے ہیں، بلکہ ایک ممکنہ مرکزی وزیر کو منتخب کر رہے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ بی جے پی نے پریورتن یاترا کے دوران بھی ان کو ترجیح نہیں دی۔ پریورتن یاترا کے دوران بینرز اور پوسٹروں پر آدتیہ ناتھ کی جگہ راج ناتھ سنگھ، اوما بھارتی، کیشو پرساد موریہ اور کلراج مشرا جیسے لیڈروں کی تصاویر تھیں۔

 

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز