بی جے پی صدر امت شاہ کا بیان ، نوٹ بندی پر رائے شماری کیلئے تیار ہے بی جے پی

Jan 29, 2017 11:13 PM IST | Updated on: Jan 29, 2017 11:14 PM IST

نئی دہلی : نیوز 18 انڈیا کو دیئے خاص انٹرویو میں بی جے پی کے صدر امت شاہ نے کہا ہے کہ یہ کہنا ٹھیک نہیں ہوگا کہ رائے شماری نوٹ بندی پر ہو جائےگی ، کیونکہ یوپی میں حکومت کی مخالفت میں کافی مسائل ہیں۔ کان کنی مافیا بے خوف ہوکر بدعنوانی کئے جا رہے ہیں، سڑک کی تعمیر میں نیشنل ہائی وے (مرکزی حکومت) فی کلومیٹر 18 کروڑ روپے خرچ کرتی ہے، وہیں یوپی میں 31 کروڑ کا ٹینڈر نکالا جاتا ہے، شاہ نے کہا عوام جاننا چاہتے ہیں کہ یہ 13 کروڑ روپے کہاں جاتے ہیں۔ چار دھام (اتراکھنڈ) سے زیادہ خرچ پر اگر آپ یوپی میں کنکریٹ سڑک بناتے ہیں ، تو یہ پیسہ کہاں جاتا ہے، اس کے بعد بھی اگر مخالفین نوٹ بندی پر رائے شماری چاہتے ہیں تو بی جے پی تیار ہے۔

ساتھ ہی ساتھ امت شاہ نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ یوپی کے عوام نوٹ بندی اور بی جے پی کے ساتھ ہیں اور وہ کمل کے نشان پر ہی مہر لگائیں گے ۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کو لگتا ہے کہ نوٹ بندی سے یوپی انتخابات میں آپ کو فائدہ ہو گا، تو ان کا جواب تھا کہ یقینی طور پر اس کا فائدہ ان کی پارٹی کو ہوگا۔

بی جے پی صدر امت شاہ کا بیان ، نوٹ بندی پر رائے شماری کیلئے تیار ہے بی جے پی

بی جے پی کے صدر نے کہا کہ ہم نے کابینہ کی پہلی میٹنگ میں ایس آئی ٹی کی اس رپورٹ کو نافذ کروایا، جس کو سپریم کورٹ کے حکم کے بعد بھی یو پی اے حکومت ڈیڑھ سال سے التوا میں رکھے ہوئی تھی، اس کے بعد سے نوٹ بندی تک ہماری حکومت کالے دھن کے خلاف 29 سے زیادہ قدم اٹھا چکی ہے۔ اس کے ذریعے ہم نے ملک اور بیرون ملک دونوں جگہوں کے کالے دھن پر سخت حملہ کیا ہے۔ مگر اگر کوئی پوچھتا ہے کہ نوٹ بندی سے تین مہینے میں کالا دھن ختم ہو گیا ہے، تو میں اس سے کہوں گا کہ اس کو معاشیات کا مطالعہ کرنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی کے بعد بینکوں کے ذریعے جو پیسہ نظام میں آیا ہے، اس کو غریبوں کے فلاح و بہبود میں لگایا جائے گا۔ شاہ نے کہا کہ یہ دو وقت کی روٹی نہیں حاصل کرنے والوں پر، جن کے گھر نہیں ہیں، جن کے گھر میں روشنی نہیں ہے، جن کے گھر میں خالص پینے کا پانی نہیں ہے ، انکی فلاح و بہبود کے لئے یہ پیسہ خرچ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اب تک یہ پیسہ رہنماؤں اور سرمایہ دار یوں کے تہہ خانوں میں بند تھا۔ آج کم سے کم بینک میں آ گیا۔

شاہ نے کہا کہ ڈھائی لاکھ سے زیادہ جس نے بھی پرانے نوٹ بینکوں میں جمع کرائے ہیں، ان کی ایک فہرست بنی ہے، ان پر بہت ساری ایجنسیاں کام کر رہی ہیں، حکومت سخت قانون لے کر بھی آئی ہے۔ ساتھ ہی کالے دھن والوں کو ایک موقع اور دینے کا قانون لے کر بھی آئی ہے۔ شاہ نے کہا کہ ہماری حکومت نے جس دن حلف لیا تھا، اسی دن سے کالے دھن کے خلاف ہماری لڑائی شروع ہو گئی تھی۔

نوٹ بندی کے بعد نظام میں آئے پیسوں کو سفید ماننے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ غلط فہمی پھیلائی جا رہی ہے کہ بینک میں جو پیسہ آیا ہے، وہ سفید ہو گیا ہے، میں اتنا ضرور کہنا چاہوں گا کہ کسی کا بھی کالا دھن بینک میں ڈالنے سے سفید نہیں ہو گا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز